BR100 Decreased By (-0.04%)
BR30 Decreased By (-0.11%)
KSE100 Increased By (0.08%)
KSE30 Increased By (0.01%)
BAFL 58.65 Decreased By ▼ -0.02 (-0.03%)
BIPL 27.11 Increased By ▲ 0.03 (0.11%)
BOP 33.89 Decreased By ▼ -0.03 (-0.09%)
CNERGY 11.02 Decreased By ▼ -0.08 (-0.72%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
DGKC 214.19 Decreased By ▼ -1.64 (-0.76%)
FABL 100.94 Increased By ▲ 0.25 (0.25%)
FCCL 55.87 Decreased By ▼ -0.03 (-0.05%)
FFL 16.18 Increased By ▲ 0.10 (0.62%)
GGL 23.89 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
HBL 311.00 Increased By ▲ 1.76 (0.57%)
HUBC 219.55 Decreased By ▼ -0.34 (-0.15%)
HUMNL 10.75 Increased By ▲ 0.02 (0.19%)
KEL 7.27 Decreased By ▼ -0.03 (-0.41%)
LOTCHEM 27.22 Decreased By ▼ -0.07 (-0.26%)
MLCF 96.36 Decreased By ▼ -1.09 (-1.12%)
OGDC 318.39 Decreased By ▼ -0.70 (-0.22%)
PAEL 42.70 Increased By ▲ 0.18 (0.42%)
PIBTL 17.04 Decreased By ▼ -0.04 (-0.23%)
PIOC 271.45 Decreased By ▼ -1.53 (-0.56%)
PPL 221.87 Increased By ▲ 0.55 (0.25%)
PRL 64.00 Increased By ▲ 0.58 (0.91%)
SNGP 107.00 Increased By ▲ 1.12 (1.06%)
SSGC 26.65 Increased By ▲ 0.72 (2.78%)
TELE 8.45 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
TPLP 15.28 Increased By ▲ 0.57 (3.87%)
TRG 61.14 Increased By ▲ 0.33 (0.54%)
UNITY 10.08 Increased By ▲ 0.07 (0.7%)
WTL 1.22 Increased By ▲ 0.01 (0.83%)

افغانستان کے ایک موسمیاتی عہدیدار نے کہاہے کہ افغانستان کو مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق اجلاس یا مذاکرات میں ضرورت شرکت کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ بات باکو میں منعقدہ کوپ 29 کانفرنس میں شرکت کے بعد واپسی کے موقع پر کہی جس میں طالبان نے پہلی بار شرکت کی ہے۔

آذربائیجان کی جانب سے افغان وفد کو مذاکرات میں براہ راست شریک فریق کے بجائے مہمانوں کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔

اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب کسی افغان وفد نے کوپ کانفرنس میں شرکت کی ہے کیوں کہ مصر اور متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والی گذشتہ دو کوپ کانفرنس میں انہیں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔

افغانستان کی نیشنل انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل مطیع الحق خلیس نے اتوار کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان کو مستقبل میں ایسی کانفرنسوں میں شرکت کرنی چاہیے۔

انہوں نے گزشتہ ماہ ہونے والے مذاکرات میں افغانستان کی شرکت کو ’بڑی کامیابی‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سال کانفرنس میں شرکت کی تاکہ ہم ان مسائل کے بارے میں قوم کی آواز اٹھا سکیں جن کا ہمیں سامنا ہے، ہمیں دنیا کو بتانا ہوگا کہ لوگوں کی ضروریات کیا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغان وفد نے روس، قطر، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے وفود سمیت 19 مختلف تنظیموں اور حکومتوں کے عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔

کاربن کے سب سے کم اخراج کے باوجود افغانستان گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے، اور طالبان حکومت کا استدلال ہے کہ ان کی سیاسی تنہائی انہیں بین الاقوامی موسمیاتی مذاکرات سے نہیں روک سکتی ہے۔

طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے شریعت نافذ کر رکھی ہے جس کی وجہ سے عوامی زندگی میں خواتین کا کردار محدود سمجھا جارہا ہے جسے اقوام متحدہ نے ”صنفی امتیاز“ قرار دیا ہے۔

دہائیوں کی جنگ کے بعد دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک افغانستان خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے دوچار ہے ، ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی طویل خشک سالی، بار بار سیلاب اور زرعی پیداوار میں کمی سمیت شدید موسم میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

اقوام متحدہ نے بھی افغانستان سے لچک پیدا کرنے اور بین الاقوامی مذاکرات میں ملک کی شرکت میں مدد کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک نے 2025 تک موسمیاتی فنانس میں سالانہ 100 بلین ڈالر فراہم کرنے کا عہد کیا ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے بگاڑ کے اثرات سے نمٹنے اور اپنی معیشتوں کو فوسل ایندھن سے دور رکھنے میں مدد مل سکے۔

Comments

Comments are closed.