BR100 Increased By (0.84%)
BR30 Increased By (1.14%)
KSE100 Increased By (0.56%)
KSE30 Increased By (0.59%)
BAFL 58.65 Increased By ▲ 0.21 (0.36%)
BIPL 25.60 Increased By ▲ 0.40 (1.59%)
BOP 34.37 Increased By ▲ 0.38 (1.12%)
CNERGY 8.12 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
DFML 20.95 Increased By ▲ 0.11 (0.53%)
DGKC 195.70 Increased By ▲ 2.73 (1.41%)
FABL 90.00 Increased By ▲ 0.21 (0.23%)
FCCL 53.52 Increased By ▲ 0.69 (1.31%)
FFL 18.08 Increased By ▲ 0.13 (0.72%)
GGL 19.25 Increased By ▲ 0.28 (1.48%)
HBL 287.44 Increased By ▲ 1.94 (0.68%)
HUBC 214.99 Increased By ▲ 0.61 (0.28%)
HUMNL 10.83 Decreased By ▼ -0.05 (-0.46%)
KEL 8.12 Increased By ▲ 0.10 (1.25%)
LOTCHEM 27.89 No Change ▼ 0.00 (0%)
MLCF 87.70 Increased By ▲ 1.19 (1.38%)
OGDC 323.10 Increased By ▲ 3.14 (0.98%)
PAEL 40.00 Increased By ▲ 0.58 (1.47%)
PIBTL 17.12 Increased By ▲ 0.45 (2.7%)
PIOC 271.80 Increased By ▲ 5.74 (2.16%)
PPL 229.50 Increased By ▲ 1.32 (0.58%)
PRL 34.90 Increased By ▲ 0.22 (0.63%)
SNGP 99.16 Decreased By ▼ -0.02 (-0.02%)
SSGC 26.88 Increased By ▲ 0.28 (1.05%)
TELE 8.70 Increased By ▲ 0.42 (5.07%)
TPLP 8.67 Increased By ▲ 0.45 (5.47%)
TRG 70.08 Increased By ▲ 0.37 (0.53%)
UNITY 11.75 Increased By ▲ 0.08 (0.69%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

اسپیکر سردار ایاز صادق کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو لکھے گئے خط کے بعد قومی اسمبلی کی ساخت میں نمایاں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔

پارٹی کے نئے موقف کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا پارلیمانی باڈی میں وجود ختم ہو گیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے تمام 80 سابق ارکان جو پہلے ’آزاد‘ امیدواروں کے زمرے میں آتے تھے، اب سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کا حصہ قرار دے دیے گئے ہیں۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے سیاسی منظرنامے میں تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہوئے پارٹی کا تازہ ترین موقف مرتب اور جاری کیا ہے۔

اس سے قبل ان میں سے 39 ارکان کو اب بھی پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا تھا جبکہ 41 کو آزاد قرار دیا گیا تھا۔ تاہم نئے الیکشن ایکٹ کے تحت متعارف کرائی گئی ترامیم کے بعد پارٹی پوزیشن میں نمایاں نظرثانی کی گئی ہے۔ ایس آئی سی کے پاس اب قومی اسمبلی کی 80 نشستیں ہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) جیسی بڑی سیاسی جماعتوں کی نشستیں بھی واپس لی جائیں گی۔

نئی تشکیل کے تحت مسلم لیگ (ن) کے پاس 111 نشستیں ہیں، جن میں اسپیکر بھی شامل ہے۔ سنّی اتحاد کونسل (ایس آئی سی ) کے پاس 80 نشستیں ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی ) کی 69 نشستیں، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی 22 نشستیں، جمعیت علمائے اسلام (ف) کی 8 نشستیں، آزاد امیدواروں کے پاس8 نشستیں، پاکستان مسلم لیگ (ق) کی 5 نشستیں، استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کی 4 نشستیں، اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے ایم اے پی )، بلوچستان نیشنل پارٹی-مینگل (بی این پی)، مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) اور پاکستان مسلم لیگ (ضیاء الحق شہید) (پی ایم ایل (زیڈ) کی ایک ایک نشست شامل ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.