BR100 Increased By (0.74%)
BR30 Increased By (0.83%)
KSE100 Increased By (0.58%)
KSE30 Increased By (0.62%)
BAFL 58.65 Increased By ▲ 0.21 (0.36%)
BIPL 25.38 Increased By ▲ 0.18 (0.71%)
BOP 34.30 Increased By ▲ 0.31 (0.91%)
CNERGY 8.19 Increased By ▲ 0.08 (0.99%)
DFML 21.16 Increased By ▲ 0.32 (1.54%)
DGKC 195.52 Increased By ▲ 2.55 (1.32%)
FABL 90.00 Increased By ▲ 0.21 (0.23%)
FCCL 53.58 Increased By ▲ 0.75 (1.42%)
FFL 18.12 Increased By ▲ 0.17 (0.95%)
GGL 19.12 Increased By ▲ 0.15 (0.79%)
HBL 287.10 Increased By ▲ 1.60 (0.56%)
HUBC 215.30 Increased By ▲ 0.92 (0.43%)
HUMNL 10.98 Increased By ▲ 0.10 (0.92%)
KEL 8.08 Increased By ▲ 0.06 (0.75%)
LOTCHEM 28.11 Increased By ▲ 0.22 (0.79%)
MLCF 87.70 Increased By ▲ 1.19 (1.38%)
OGDC 322.89 Increased By ▲ 2.93 (0.92%)
PAEL 39.69 Increased By ▲ 0.27 (0.68%)
PIBTL 16.85 Increased By ▲ 0.18 (1.08%)
PIOC 270.00 Increased By ▲ 3.94 (1.48%)
PPL 230.03 Increased By ▲ 1.85 (0.81%)
PRL 34.90 Increased By ▲ 0.22 (0.63%)
SNGP 99.39 Increased By ▲ 0.21 (0.21%)
SSGC 26.85 Increased By ▲ 0.25 (0.94%)
TELE 8.41 Increased By ▲ 0.13 (1.57%)
TPLP 8.40 Increased By ▲ 0.18 (2.19%)
TRG 70.36 Increased By ▲ 0.65 (0.93%)
UNITY 11.79 Increased By ▲ 0.12 (1.03%)
WTL 1.30 Increased By ▲ 0.02 (1.56%)

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) ملک میں عدم استحکام کو روکنے کے لیے بجٹ 25-2024 کی منظوری کیلئے ووٹ دے گی۔

“کچھ تحفظات کے باوجود، ہم نے فنانس بل کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر ہم بجٹ کو ووٹ نہیں دیتے تو یہ حکومت کو ختم کرنے اور ملک میں عدم استحکام کی راہ ہموار کرنے کے مترادف ہو گا جو کہ پیپلز پارٹی نہیں چاہتی، ان خیالات کا اظہار پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں شازیہ مری اور سید نوید قمر نے ایک نیوز کانفرنس میں کیا۔ منگل کو پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔

پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات شازیہ مری نے کہا کہ اراکین نے گزشتہ اجلاسوں میں اپنے حلقوں کے مسائل پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت نے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومت کو آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ان تحفظات پر حکومت سے بات کرنا شروع کر دیا۔

نوید قمر نے کہا کہ ”پارٹی قیادت نے اپنے حلقوں کے ذمہ دار ممبران کو درپیش مشکلات کو سنا اور اپنے لوگوں کی شکایات سے آگاہ کیا“۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد حکومت سازی کے دوران پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے درمیان معاہدہ ہوا۔ “معاہدے میں یہ شامل تھا کہ پی پی پی وزارت عظمیٰ کے لیے مسلم لیگ ن کے امیدوار کو ووٹ دے گی۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان معاہدہ 25 نکات پر مشتمل تھا۔ جب کہ کچھ نکات پر عمل درآمد کیا گیا تھا، باقی کے بارے میں ابہام تھا۔ دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے جن میں بعض مواقع پر وزیراعظم اور اسحاق ڈار نے شرکت کی۔ ہمیں پی ایس ڈی پی 2024-25 پر تحفظات تھے،’’۔

انہوں نے کہا کہ آج کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کچھ تحفظات کے باوجود فنانس بل کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ حکومت کے پاس اب تعداد پوری ہے اور یہ بجٹ منصور ہو جائے گا،’’ ۔

نوید قمر نے کہا کہ ہم توقع کر رہے ہیں کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسمبلی کے فلور پر جو نکات اٹھائے ہیں حکومت ان کو قبول کر لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کے ساتھ اپنی بات چیت جاری رکھیں گے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2024

Comments

Comments are closed.