BR100 Decreased By (-0.07%)
BR30 Decreased By (-1.13%)
KSE100 Increased By (0.09%)
KSE30 Decreased By (-0.05%)
BAFL 58.00 Increased By ▲ 0.23 (0.4%)
BIPL 23.28 Increased By ▲ 0.13 (0.56%)
BOP 28.07 Decreased By ▼ -0.28 (-0.99%)
CNERGY 12.28 Decreased By ▼ -1.36 (-9.97%)
DFML 15.40 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
DGKC 180.71 Increased By ▲ 2.56 (1.44%)
FABL 92.50 Increased By ▲ 1.10 (1.2%)
FCCL 53.10 Increased By ▲ 0.82 (1.57%)
FFL 12.77 Decreased By ▼ -0.13 (-1.01%)
GGL 19.18 Increased By ▲ 0.17 (0.89%)
HBL 285.00 Decreased By ▼ -6.55 (-2.25%)
HUBC 193.45 Increased By ▲ 0.27 (0.14%)
HUMNL 8.38 Decreased By ▼ -0.19 (-2.22%)
KEL 5.79 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 23.75 Decreased By ▼ -0.14 (-0.59%)
MLCF 91.35 Increased By ▲ 0.84 (0.93%)
OGDC 305.00 Decreased By ▼ -1.78 (-0.58%)
PAEL 32.29 Decreased By ▼ -0.04 (-0.12%)
PIBTL 12.84 Decreased By ▼ -0.09 (-0.7%)
PIOC 234.50 Increased By ▲ 1.36 (0.58%)
PPL 212.80 Decreased By ▼ -1.13 (-0.53%)
PRL 87.26 Decreased By ▼ -9.70 (-10%)
SNGP 90.45 Decreased By ▼ -0.08 (-0.09%)
SSGC 22.44 Decreased By ▼ -0.09 (-0.4%)
TELE 6.50 Decreased By ▼ -0.22 (-3.27%)
TPLP 12.63 Increased By ▲ 0.03 (0.24%)
TRG 52.00 Increased By ▲ 0.04 (0.08%)
UNITY 7.80 Increased By ▲ 0.01 (0.13%)
WTL 0.93 Decreased By ▼ -0.01 (-1.06%)
رائے

ملک میں کھانا پکانے والی گیس کا بحران، پالیسی کی ناکامی

  • گیس بحران کے اثرات گھریلو بجٹ سے آگے بڑھ رہے ہیں، چھوٹے ہوٹل اور کھانے پینے کے مراکز ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں، ایندھن مہنگا ہونے سے ان کے اخراجات اور کھانوں کی قیمتیں بڑھتی ہیں، جبکہ سپلائی میں تعطل کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کو متاثر کرتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

پائپ لائن گیس کی فراہمی میں کمی اور ایل این جی کی قلت کے باعث گھریلو صارفین اور چھوٹے ہوٹل تیزی سے ایل پی جی پر انحصار کر رہے ہیں، سردیوں سے قبل ایران سے سپلائی کا راستہ بند ہونے کے باعث توانائی کی قلت کھانا پکانے کے ایندھن کے بحران میں بدلنے کا خدشہ ہے۔

پاکستان سردیوں میں گیس کی کم ہوتی فراہمی اور ناکافی تیاری کے ساتھ داخل ہو رہا ہے۔ درآمدی ایل این جی کی قلت ہے، مقامی پائپ لائن گیس کی فراہمی مسلسل گھٹ رہی ہے اور گھریلو صارفین سمیت چھوٹے کاروبار کھانا پکانے کے لیے تیزی سے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) پر انحصار کر رہے ہیں۔

بنیادی توانائی کی مجموعی کھپت میں ایل پی جی کا حصہ 5 فیصد سے بھی کم ہے، لیکن یہ شرح اس ایندھن کی اہمیت کی درست عکاسی نہیں کرتی۔ اس کی قلت قومی سطح پر توانائی کے مجموعی اعدادوشمار میں شاید زیادہ نمایاں نہ ہو، مگر گھریلو کچن میں شدید مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

پہلا مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں ایل پی جی کی مجموعی کھپت یا اس پر انحصار کرنے والے افراد کی تعداد کے بارے میں کوئی قابلِ اعتماد اعدادوشمار موجود نہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق مقامی پیداوار تقریباً 2,200 ٹن یومیہ ہے۔ باقی ضرورت درآمدات سے پوری کی جاتی ہے، جن میں کچھ سپلائی سمندر کے راستے آتی ہے، تاہم اس کا بڑا حصہ ایران سے زمینی راستے کے ذریعے پہنچتا ہے۔ اس تجارت میں قانونی ذرائع کے ساتھ اسمگلنگ بھی شامل ہے۔

اب یہ زمینی راستہ اچانک بند کردیا گیا ہے اور اس کے متبادل کے لیے سپلائی کا کوئی مناسب منصوبہ بھی موجود نہیں۔ قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ تاجروں کو یہ یقین نہیں کہ سپلائی کب بحال ہوگی۔ سردیوں میں طلب بڑھنے سے عین پہلے کھانا پکانے کے ایندھن کا ایک بڑا ذریعہ بند کرنے کے نتائج سامنے آنا ہی تھے اور صارفین اب ان مشکلات کا سامنا کرنے لگے ہیں۔

پیٹرولیم ڈویژن کا جواب ڈی ریگولیشن کے عمل کو تیز کرنا ہے۔ یہ اصلاحات پہلے ہی تاخیر کا شکار ہیں، کیونکہ قیمتوں کا موجودہ نظام قانونی درآمدات کو تجارتی لحاظ سے غیر منافع بخش بناتا ہے اور اس کے نتیجے میں مارکیٹ غیر رسمی سپلائی پر انحصار کرتی ہے، مگر قواعد میں تبدیلی سے اضافی درآمدی کھیپوں، سرمایہ کاری اور مسابقت کے فروغ میں وقت لگے گا۔ یہ اقدامات رواں موسم سرما میں ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے کا متبادل نہیں ہوسکتے۔

قیمتوں کا مسئلہ واضح ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر کے لیے ایل پی جی کی قیمت تقریباً 280 روپے فی کلو مقرر کی، جس میں سعودی عرب کی فری آن بورڈ قیمتوں کو بنیاد بنایا گیا مگر پاکستان کے لیے مخصوص مال برداری اور بیمہ کے اخراجات کو مناسب طور پر شامل نہیں کیا گیا۔

قانونی درآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ اس قیمت پر ایل پی جی درآمد کرنا تجارتی طور پر ممکن نہیں۔ نتیجتاً غیر رسمی سپلائرز، جن میں سے بعض ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے، طلب اور رسد کے درمیان پیدا ہونے والا بڑا خلا پُر کر رہے ہیں۔

سرحدی راستہ بند ہونے سے اس انتظام کی خامیاں سامنے آگئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پرچون مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمت 600 سے 700 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مقامی سرکاری پیداواری قیمت تقریباً 280 روپے فی کلو برقرار ہے۔ یوں سرکاری مقرر کردہ قیمت اور صارفین کی جانب سے ادا کی جانے والی اصل قیمت کے درمیان فرق بڑھتا جارہا ہے۔

اس فرق سے وابستہ مالی حجم بھی خاصا بڑا ہے۔ اگر مقامی پیداوار 2,200 ٹن یومیہ کو مدنظر رکھا جائے تو پیداواری اور پرچون قیمت کے درمیان رپورٹ کردہ فرق روزانہ 70 کروڑ روپے سے زیادہ کا مجموعی مالی فرق ظاہر کرتا ہے۔ اس میں نقل و حمل، تقسیم اور دیگر اخراجات شامل نہیں۔ یہ خالص منافع کا تخمینہ نہیں اور مختلف مارکیٹوں میں قیمتیں بھی مختلف ہوسکتی ہیں، تاہم یہ جانچنے کی ضرورت ضرور ظاہر کرتا ہے کہ قلت کے باعث پیدا ہونے والے اضافی منافع سے فائدہ کون اٹھا رہا ہے۔

ایسی قیمت کی حد مقرر کرنا جو متبادل درآمدات کی حوصلہ شکنی کرے اور پرچون قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں بھی ناکام رہے، صارفین کو کوئی خاص تحفظ فراہم نہیں کرتا۔ سپلائی چین کے ایک سرے پر مقامی گیس سستی ہے جبکہ دوسرے سرے پر صارفین کو مہنگی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ اس پورے عمل میں کہیں نہ کہیں قیمتوں کے ضابطے کے فوائد ختم ہوجاتے ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق سردیوں میں ایل پی جی کی طلب 6,000 سے 7,000 ٹن یومیہ رہنے کا تخمینہ ہے، جبکہ غیر رسمی تاجروں کے نزدیک یہ طلب 10,000 ٹن یومیہ کے قریب ہے۔ ایسے بازار میں جہاں طلب اور رسد کے مستند اعدادوشمار ہی دستیاب نہیں، ان میں سے کسی تخمینے پر بھی مکمل اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ ایل این جی کی قلت مزید صارفین کو گیس سلنڈروں کی طرف منتقل کرسکتی ہے، اس لیے طلب کا کم ترین تخمینہ سامنے رکھ کر منصوبہ بندی کرنا خاصا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

سوئی گیس کمپنیاں بجلی کی پیداوار کے لیے مختص گیس گھریلو صارفین کو منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اس اقدام سے کھانا پکانے کے ایندھن کی قلت کا دباؤ کم ہوسکتا ہے لیکن اس سے بحران کا بوجھ توانائی کے کسی دوسرے شعبے پر منتقل ہوجائے گا۔ متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی پر منحصر ہے کہ اس کے نتیجے میں بجلی مہنگی ہوسکتی ہے یا لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدنے پر بھی اضافی لاگت آئے گی۔ ایندھن کی ناکافی فراہمی کو ایک شعبے سے دوسرے شعبے میں منتقل کرنے کا کوئی ایسا طریقہ نہیں جس کے کوئی منفی اثرات نہ ہوں۔

اس بحران کے اثرات گھریلو بجٹ تک محدود نہیں۔ چھوٹے ریسٹورنٹس، سڑک کنارے ہوٹل اور کھانے پینے کی اشیا فروخت کرنے والے دکاندار بڑی حد تک ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ ایندھن مہنگا ہونے سے ان کے منافع میں کمی آتی ہے اور کھانوں کی قیمتیں بھی بڑھتی ہیں۔ سپلائی میں تعطل سے کاروباری اوقات کم ہوتے ہیں اور روزگار بھی خطرے میں پڑتا ہے۔

پائپ لائن گیس سے محروم گھرانوں کے لیے مسئلہ مزید بنیادی نوعیت اختیار کرجاتا ہے، کیونکہ کھانا موجود ہونے کے باوجود اسے پکانا ناقابلِ برداشت حد تک مہنگا ہوجائے تو اس کی افادیت محدود رہ جاتی ہے۔

ان صارفین کے پاس قیمتوں میں اضافے کے اثرات برداشت کرنے کے وسائل بھی کم ہیں۔ کوئی بڑا ہوٹل متبادل آلات کی تنصیب اور ایندھن کی فراہمی کے لیے خصوصی انتظامات کرسکتا ہے لیکن چھوٹے ہوٹل یا سلنڈر خریدنے والے گھرانے کے پاس ایسے متبادل اختیار کرنے کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔

حکومت کو یہ بھی جائزہ لینا چاہیے کہ ایندھن پر عائد محصولات اور لیویز قلت کی صورتحال کو کس طرح متاثر کر رہے ہیں۔ بجلی کی پیداوار میں گیس کی جگہ فرنس آئل یا ڈیزل استعمال کرنا پڑے تو ٹیکسوں کا بوجھ پہلے سے مہنگے اس متبادل کو مزید مہنگا کردیتا ہے۔ کسی بھی عارضی ریلیف کا فیصلہ اس کے مالیاتی اثرات کا جائزہ لینے اور اس کا فائدہ صارفین تک پہنچانے کو یقینی بنانے کے بعد کیا جانا چاہیے، لیکن ایندھن کی دستیابی مسلسل خراب ہونے کے باوجود تمام لیویز برقرار رکھنا بھی توانائی کے بحران سے نمٹنے کی کوئی مربوط حکمت عملی نہیں۔

وزیر خزانہ کی جانب سے بنیادی معاشی نظم و ضبط پر زور اپنی جگہ اہم ہے لیکن اس سے اس فوری سوال کا جواب نہیں ملتا کہ گھرانے رواں موسم سرما میں کھانا کیسے پکائیں گے۔ کوئی معیشت اپنے مالیاتی اہداف تو حاصل کرسکتی ہے لیکن اس کے باوجود عام لوگوں کی روزمرہ زندگی کو کہیں زیادہ مشکل بنا سکتی ہے۔ خصوصاً ایسے افراد کی مشکلات سرکاری اعدادوشمار میں پوری طرح نمایاں نہیں ہوتیں۔

فوری طور پر ایل پی جی کی قابلِ بھروسا فراہمی بحال کرنا ضروری ہے۔ اسلام آباد کو چاہیے کہ ایران کے ساتھ قابلِ عمل اور نگرانی کے تحت تجارتی راستہ دوبارہ کھولے اور سمندری راستے سے متبادل درآمدات میں سہولت فراہم کرے۔ حکومت کو سپلائی روکنے، ملی بھگت اور غیر ضروری درمیانی منافع خوری کی تحقیقات بھی کرنی چاہئیں، جہاں شواہد کی بنیاد پر اضافی منافعے کی نشاندہی ہو، وہاں اس کی وصولی یا اس پر ٹیکس عائد کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔ غیر شفاف سپلائی چین سے اضافی منافع پر ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کرنا آسان ہے لیکن اس کی وصولی ایک مشکل مرحلہ ہے۔

ڈی ریگولیشن کا عمل درآمدات، ذخائر اور پرچون قیمتوں کی بہتر رپورٹنگ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ باضابطہ سپلائرز کو مارکیٹ میں داخلے کے لیے تجارتی طور پر قابلِ عمل راستہ درکار ہے، جبکہ صارفین کو ایسی مسابقت کا فائدہ ملنا چاہیے جس کا اثر گیس سلنڈر کی قیمت تک پہنچے۔

کھانا پکانے کی گیس کی قلت کے معاشی اثرات بظاہر معمولی دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن اس کی انسانی قیمت ہرگز معمولی نہیں ہوگی۔ اسلام آباد کو پہلے ہی خبردار کیا جاچکا ہے کہ پائپ لائن گیس کی فراہمی کم ہورہی ہے اور ایل پی جی پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ سردیوں میں قلت کے ساتھ حکومت کے اپنے سپلائی سے متعلق فیصلے بھی بحران کو مزید سنگین بنائیں تو یہ پالیسی کی ناکامی ہوگی۔

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر2026

Comments

200 حروف