یمنی حکومتی افواج کی آبنائے باب المندب کی جانب پیش قدمی
- یمنی حکومتی افواج ایک اہم عالمی بحری تجارتی گزرگاہ آبنائے باب المندب کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کے لیے حوثیوں کے خلاف لڑ رہی ہیں
یمنی حکومتی افواج نے پیر کو آبنائے باب المندب پر اہم ٹھکانوں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ فوجی اور حکومتی ذرائع نے بتایا کہ یہ کارروائی حوثیوں کی گزشتہ ماہ ہونے والی پیش قدمی کو پسپا کرنے اور اہم آبی گزرگاہ سے انہیں نکالنے کی کوششوں کے دوران کی گئی۔
تین فوجی ذرائع اور ایک حکومتی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ حکومتی افواج نے ضلع ذباب کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا ہے، جو آبنائے باب المندب پر نظر رکھتا ہے، جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے بھرپور فضائی معاونت کے ساتھ علاقے پر مکمل کنٹرول قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حوثیوں سے وابستہ میڈیا نے اس سے قبل حکومتی افواج کی علاقے میں پیش قدمی کی تردید کرتے ہوئے ایسے دعوؤں کو ’’بالکل بے بنیاد‘‘ قرار دیا تھا۔
دریں اثنا، پانچ حکومتی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے اتوار کی رات اہم شہر تعز کی جانب جانے والی پہاڑی سڑک کے بعض حصوں پر پیش قدمی کی اور وہاں موجود حکومتی افواج کا محاصرہ کرلیا۔ تاہم ایک اور حکومتی ذریعے نے سڑک کا رابطہ منقطع ہونے کی تردید کی۔
اہم توانائی برآمدی راستے کو خطرہ
یمن میں کئی ہفتوں سے مختلف محاذوں پر شدید لڑائی جاری ہے، جہاں امریکا۔ایران تنازع کے نتیجے میں ایک طویل عرصے سے منجمد خانہ جنگی دوبارہ بھڑک اٹھی ہے۔ حوثی اہم آبنائے باب المندب کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور سعودی شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر میزائل اور ڈرون حملے بھی کر رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے باعث خلیجی ممالک سے توانائی کی برآمدات پہلے ہی محدود ہیں، ایسے میں یمن میں جاری لڑائی نے تیل کی ایک اور اہم برآمدی گزرگاہ کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ اور پہلے ہی کشیدگی کی لپیٹ میں آئے خطے میں نئے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے اتوار کو اپنے زیر قبضہ علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صدر رشاد العلیمی نے ’’ملک کو دہشت گرد ملیشیا کے شکنجے سے آزاد کرانے تک‘‘ لڑائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
یمنی حکومتی افواج کو اسلحہ اور تربیت فراہم کرنے والا سعودی عرب فضائی طاقت کے ذریعے اس فوجی مہم کی حمایت کر رہا ہے۔ ریاض نے حوثیوں کو پسپا کرنے، بحیرۂ احمر میں آزادانہ بحری آمدورفت بحال کرنے اور سعودی سرزمین پر حوثیوں کے حملے روکنے کے لیے اتحادیوں سے لاجسٹک مدد بھی طلب کی ہے۔
ریاض نے پیر کو کہا کہ اس نے آبنائے باب المندب اور یمنی زمینی افواج کو فضائی تحفظ فراہم کرنے کے لیے یمن میں سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
یمنی حکومت نے کہا کہ اس نے کئی محاذوں پر حملے شروع کیے ہیں، جن میں یمن کے دارالحکومت صنعاء کا صوبہ بھی شامل ہے۔
جنوب مغربی یمن میں شدید ترین لڑائی
یمن کے مختلف محاذوں پر جنگ جاری رہنے کے باوجود شدید ترین لڑائی جنوب مغربی علاقے میں ہو رہی ہے، جہاں ایک جانب آبنائے باب المندب کے قریب ساحلی علاقے میں جھڑپیں جاری ہیں تو دوسری جانب تعز کے گرد پہاڑی علاقوں میں حوثی حکومتی افواج کا محاصرہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
گزشتہ ہفتے حوثیوں کے حملوں سے تعز۔عدن شاہراہ پر واقع ایک پلِ آب گزر کو نقصان پہنچا، جس کے باعث سڑک آمدورفت کے لیے ناقابلِ استعمال ہوگئی۔
پانچ حکومتی فوجی ذرائع نے بتایا کہ اتوار کی شب حوثی جنگجوؤں نے سڑک پر بلند مقام پر واقع قصبے التربہ میں نئی پیش قدمی کی، تاہم ایک اور حکومتی ذریعے نے اس کی تردید کی۔
دریں اثنا، ایک خبر رساں ادارے نے پیر کو ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ حوثیوں نے صوبہ تعز کے ضلع المواسط سے حکومتی افواج کو پسپا کردیا اور یمن کی عبوری صدارتی کونسل کے سربراہ العلیمی کی رہائش گاہ تک پہنچ گئے۔
حکومتی فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں کی ان تازہ پیش قدمیوں کے بعد یمن کا تیسرا بڑا شہر تعز حوثی افواج کے گھیرے میں آگیا ہے۔ شہر کی آبادی 5 لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ وہاں حکومتی افواج کے ہزاروں اہلکار بھی تعینات ہیں۔
جنوبی یمن کے پہاڑی علاقوں میں واقع یہ شہر خانہ جنگی کے ابتدائی دور ہی سے محاذِ جنگ بنا ہوا ہے اور اکثر حوثیوں کی جانب سے گولہ باری اور اسنائپر فائرنگ کا نشانہ بنتا رہا ہے۔
یمن میں تنازع اس وقت شروع ہوا جب حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرلیا، جس کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے اگلے سال حکومت کی بحالی اور ایران کی حمایت یافتہ گروپ کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے مقصد سے فضائی کارروائی شروع کردی۔
لڑائی جلد ہی خونریز تعطل کا شکار ہوگئی اور بیشتر محاذوں پر پیش رفت رک گئی، جس کے نتیجے میں پہلے ہی عرب دنیا کے غریب ترین ملک یمن میں ایک سنگین انسانی بحران پیدا ہوگیا۔ یہ صورتحال 2022 میں جنگ بندی کے معاہدے تک برقرار رہی، جو رواں موسم گرما تک قائم رہی۔



















Comments