BR100 Decreased By (-0.13%)
BR30 Decreased By (-0.43%)
KSE100 Decreased By (-0.09%)
KSE30 Decreased By (-0.08%)
BAFL 57.02 Increased By ▲ 0.15 (0.26%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.27 Decreased By ▼ -0.08 (-0.26%)
CNERGY 13.03 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 191.51 Decreased By ▼ -0.94 (-0.49%)
FABL 94.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.04%)
FCCL 52.65 Decreased By ▼ -0.14 (-0.27%)
FFL 14.57 Decreased By ▼ -0.15 (-1.02%)
GGL 19.25 Decreased By ▼ -0.31 (-1.58%)
HBL 306.91 Increased By ▲ 0.81 (0.26%)
HUBC 201.00 Decreased By ▼ -0.42 (-0.21%)
HUMNL 10.01 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
KEL 6.16 Increased By ▲ 0.07 (1.15%)
LOTCHEM 26.41 Decreased By ▼ -0.05 (-0.19%)
MLCF 92.98 Decreased By ▼ -0.18 (-0.19%)
OGDC 315.50 Decreased By ▼ -1.23 (-0.39%)
PAEL 35.41 Decreased By ▼ -0.22 (-0.62%)
PIBTL 14.65 Decreased By ▼ -0.03 (-0.2%)
PIOC 243.05 Decreased By ▼ -0.16 (-0.07%)
PPL 223.50 Decreased By ▼ -3.41 (-1.5%)
PRL 92.21 Decreased By ▼ -0.81 (-0.87%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.71 Decreased By ▼ -0.10 (-0.42%)
TELE 7.77 Decreased By ▼ -0.03 (-0.38%)
TPLP 12.75 Decreased By ▼ -0.22 (-1.7%)
TRG 56.51 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
پاکستان

آئندہ بجٹ پر کاروباری رہنمائوں اور وزیراعظم کے درمیان اہم مشاورت

  • مسلسل محنت کے نتیجے میں معیشت کو استحکام ملا ہے اور اب حکومت تیز تر اقتصادی ترقی کے لیے اقدامات کرے گی، شہباز شریف
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی بجٹ 2026-27 کے 5 جون کو پیش کیے جانے سے قبل ملک بھر کے سینئر کاروباری رہنماؤں نے پیر کے روز وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور معیشت کی بحالی کے لیے ٹیکس میں ریلیف، ریفنڈز کی تیز ادائیگی اور گہرے اصلاحاتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔

بجٹ سے قبل ہونے والے اس اعلیٰ سطح مشاورتی اجلاس میں ملک بھر کی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں نے صنعتی پیداوار، برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔

وفد سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ مسلسل محنت کے نتیجے میں معیشت کو استحکام ملا ہے اور اب حکومت تیز تر اقتصادی ترقی کے لیے اقدامات کرے گی۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ بجٹ میں صنعتوں کے فروغ اور پیداوار بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت دی کہ تمام زیر التوا ٹیکس ریفنڈز کے کیسز 15 جون تک نمٹائے جائیں۔ یہ ڈیڈ لائن خاص طور پر برآمد کنندگان کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے، جو طویل عرصے سے ریفنڈز میں تاخیر کی شکایت کرتے رہے ہیں۔

وزیرِاعظم نے برآمدات پر مبنی حکمتِ عملی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی ترقی اجتماعی کوششوں کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصے میں پالیسی ریٹ میں اضافے کے باوجود ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کی شرح جون 2027 تک 4.5 فیصد پر برقرار رکھی جائے گی، جسے برآمد کنندگان نے سخت مالیاتی ماحول میں ایک مثبت اور یقینی اقدام قرار دیا ہے۔

وزیرِاعظم نے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پی آر اے ایل) کے ہیڈکوارٹر کو کراچی منتقل کرنے کی بھی ہدایت دی۔ اس اقدام کو ٹیکس انتظامیہ کو ملک کے تجارتی مرکز کے قریب لانے کی علامتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

مقامی مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں اور کاروباری حلقوں کی درخواست پر گجرات میں پاسپورٹ آفس قائم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔

انہوں نے زور دیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے اصلاحات اور سہولیات حکومت کے اقتصادی ایجنڈے کا مرکزی حصہ ہیں۔ وزیرِ اعظم نے سرمایہ کاروں کو مقامی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار کے شعبے میں مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی بھی ترغیب دی۔ اس شعبے کو طویل عرصے سے پاکستان کی صنعت کا ممکنہ اگلا بڑا شعبہ قرار دیا جاتا رہا ہے، تاہم یہ اب تک خاطر خواہ ترقی حاصل نہیں کر سکا۔

کاروباری رہنماؤں نے بھی مثبت رویہ اختیار کیا۔ انہوں نے وزیرِ اعظم، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز و فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خلیجی خطے میں کشیدگی کے دوران استحکام برقرار رکھنے پر سراہا اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے ڈیجیٹائزیشن کے عمل میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ میں اصلاحات، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری، ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور ای-انوائسنگ نظام کے نفاذ کا بھی خیرمقدم کیا۔

تاہم اجلاس میں شریک بعض کاروباری شخصیات کے مطابق تعریف اور یقین دہانیوں کے باوجود صنعت و تجارت کے شعبے کا پیغام واضح تھا کہ صرف کاغذی پیش رفت کافی نہیں۔ کاروباری برادری اب تیز رفتار عملدرآمد، پالیسیوں میں تسلسل اور عملی نتائج کی خواہاں ہے۔

اجلاس میں ایف پی سی سی آئی اور کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، گجرات، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کی چیمبرز آف کامرس کے سینئر نمائندوں کے علاوہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیرِ توانائی اویس لغاری، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد، ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف