امریکہ ایران مذاکرات تعطل کا شکار، خام تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ
- برینٹ کروڈ بینچ مارک 3 ڈالر یا تقریباً 2.9 فیصد اضافے کے ساتھ 108.36 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا
امریکا ایران کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں توانائی کی سپلائی میں تعطل کے باعث پیر کے روز عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ جبکہ امریکی اسٹاک فیوچرز میں کمی دیکھی گئی، جس سے سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
برینٹ کروڈ بینچ مارک 3 ڈالر یا تقریباً 2.9 فیصد اضافے کے ساتھ 108.36 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا، جو تین ہفتوں میں سب سے بلند سطح ہے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 2.45 ڈالر، یا 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 96.85 ڈالر پر پہنچ گیا۔ اس اضافے نے مہنگائی کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں شرح سود میں کمی کی توقعات تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔
ادھر ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، حالانکہ جمعہ کے روز کیش مارکیٹ ریکارڈ بلند سطح پر بند ہوئی تھی، جہاں سرمایہ کاروں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ کمپنیوں میں بھرپور سرمایہ کاری کی۔
ڈالر معمولی مضبوط ہوا، جبکہ یورو 0.15 فیصد کمی کے ساتھ 1.1706 ڈالر پر آ گیا اور جاپانی ین بھی کمزور رہا۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ اگرچہ عارضی جنگ بندی کے باعث محدود ہو چکی ہے، تاہم آبنائے ہرمز کی بندش بدستور عالمی توانائی سپلائی کے لیے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔ یہ اہم گزرگاہ تیل اور گیس کی ترسیل کا مرکزی راستہ ہے۔
شمال مشرقی ایشیا کے لیے جون میں ایل این جی کی اوسط قیمت 16.70 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک پہنچ گئی، جو جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 61 فیصد زیادہ ہے۔
گولڈمین سیکس نے برینٹ خام تیل کی سال کے اختتام تک قیمت کی پیش گوئی 80 ڈالر سے بڑھا کر 90 ڈالر فی بیرل کر دی ہے، تاہم یہ اندازہ اس شرط سے مشروط ہے کہ خلیجی برآمدات جون کے اختتام تک بحال ہو جائیں۔
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا، جبکہ ایران کے وزیر خارجہ سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مرکزی بینکوں کے اجلاسوں کے پیش نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں شرح سود میں فوری تبدیلی کا امکان کم ہے، جبکہ عالمی منڈیوں کی نظریں اس ہفتے ٹیکنالوجی کمپنیوں کی آمدنی رپورٹس پر بھی مرکوز ہیں۔


Comments