ایران کی جانب سے امریکی فوج پر حملے کے ارادے کا کوی ثبوت نہیں، کانگریس کو بریفنگ
- پینٹاگون کے حکام نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی قومی سلامتی کمیٹیوں کو 90 منٹ سے زائد بریفنگ دی
ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں نے اتوار کو کانگریس کے عملے کو دی جانے والی بند کمرہ بریفنگز میں تسلیم کیا کہ ایسی کوئی خفیہ معلومات موجود نہیں تھیں جن سے ظاہر ہو کہ ایران پہلے امریکی افواج پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
اس معاملے سے واقف دو ذرائع کے مطابق یہ اعتراف اس وقت سامنے آیا جب امریکا اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر دہائیوں کا سب سے بڑا حملہ کیا، جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے اور ایک ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
کانگریس کو دی گئی بریفنگز میں حکام نے کہا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اور خطے میں اس کی اتحادی فورسز امریکی مفادات کے لیے فوری خطرہ تھے، تاہم ایران کی جانب سے پہلے حملے کا کوئی انٹیلی جنس ثبوت موجود نہیں تھا۔ اس سے قبل انتظامیہ کے سینئر عہدیداروں نے عندیہ دیا تھا کہ ممکنہ پیشگی حملے کے خدشے کے باعث کارروائی کی گئی۔
پینٹاگون کے حکام نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی قومی سلامتی کمیٹیوں کو 90 منٹ سے زائد بریفنگ دی۔ ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے تصدیق کی کہ تنازع میں تین امریکی فوجی ہلاک اور پانچ شدید زخمی ہوئے ہیں۔
ڈیموکریٹس نے اس کارروائی کو انتخابی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ امن مذاکرات ترک کرنے کا جواز کیا تھا۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 27 فیصد امریکی حملوں کی حمایت کرتے ہیں جبکہ 43 فیصد مخالفت میں ہیں۔


Comments