دنیا

حوثیوں کے حملوں کے بعد باب المندب میں بحری آمدورفت میں کمی

  • شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے کلیپر کے مطابق اتوار کو صرف 11 تجارتی جہاز باب المندب سے گزرے
شائع اپ ڈیٹ

یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر کے ساحل پر سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد باب المندب سے بحری آمدورفت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ آبنائے ہرمز میں بھی ہفتے کے آخر میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت معمول سے کم رہی۔

شپنگ ڈیٹا فراہم کرنے والے ادارے کلیپر کے مطابق اتوار کو صرف 11 تجارتی جہاز باب المندب سے گزرے، جو کئی ماہ کی کم ترین یومیہ تعداد ہے۔ گزشتہ ہفتے سے حوثیوں کی کارروائیوں کے باعث بحیرہ احمر میں جہاز رانی متاثر ہے، کیونکہ ایران نواز گروپ سعودی تیل برآمدات کا محاصرہ کرنا چاہتا ہے، جس سے پہلے ہی آبنائے ہرمز میں متاثر ہونے والی تیل کی سپلائی پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔

بحری نقل و حمل میں رکاوٹ کے باعث مشرق وسطیٰ، یورپ اور افریقہ میں خام تیل کے کارگو کی قیمتیں گزشتہ ہفتے دو ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

باب المندب سے گزرنے والے سات جہاز آئل ٹینکر تھے، جن میں سے تین بحیرہ احمر میں داخل ہوئے۔ ان میں دو انتہائی بڑے خام تیل بردار جہاز سعودی بندرگاہ ینبع سے خام تیل لوڈ کرنے جا رہے تھے، جبکہ ایک روس سے منسلک جہاز بھی شامل تھا۔

اسی دوران چار ٹینکر بحیرہ احمر سے باہر نکلے، جن میں ہانگ کانگ کے پرچم بردار سپر ٹینکر نیو ایکسپلورر پر سعودی اور اماراتی خام تیل کے 20 لاکھ بیرل چین کے شہر ننگبو کے لیے روانہ کیے گئے۔ ایک ٹینکر روسی خام تیل چین لے جا رہا تھا، جبکہ ایک اور جہاز تقریباً ساڑھے سات لاکھ بیرل سعودی خام تیل پاکستان کے لیے لے کر روانہ ہوا۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز سے بھی ہفتے کے آخر میں روزانہ 10 سے کم تجارتی جہاز گزرے، حالانکہ امریکا اور ایران نے عارضی طور پر حملے روک رکھے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کے باعث شپنگ کمپنیاں اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔