امریکا کا ایران پر مسلسل تیسرے روز حملہ، معاہدے کا امکان برقرار ہے، ٹرمپ
- سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی صلاحیت محدود کرنا ہے۔
امریکا نے منگل کی صبح ایران پر نئے فضائی حملوں کا آغاز کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کے باوجود کہا ہے کہ تہران کے ساتھ معاہدے کا امکان اب بھی موجود ہے۔
ٹرمپ نے پیر کو ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ ہم آج رات بھی بھرپور حملہ کریں گے اور کل بھی سخت کارروائی کریں گے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ ایران کے خلاف حملے گرین واچ وقت کے مطابق رات 8 بج کر 45 منٹ پر شروع کر دیے گئے، جو مسلسل تیسرے روز کی کارروائی ہے۔
سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایرانی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کی صلاحیت محدود کرنا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے بھی تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کانگریس کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے سے آگاہ کر دیا تھا، جس کے بعد پینٹاگون کو مزید 60 روز تک کارروائی کا اختیار حاصل ہوگیا۔
ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے بحرین، اردن، کویت اور عمان میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں جنوبی اور مغربی ایران کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں جانی نقصان بھی ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کی نطنز تنصیب کے قریب واقع زیرِ زمین جوہری مقام پک ایکس ماؤنٹین کو تباہ کرنے کی دھمکی بھی دی۔ دوسری جانب انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا منگل سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرے گا اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی کارگو پر 20 فیصد فیس عائد کی جائے گی، جبکہ ایران کے علاوہ دیگر ممالک کو آزادانہ آمدورفت کی اجازت ہوگی۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس اعلان کا طنزیہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ محفوظ گزرگاہ کی قیمت وصول کرنا درست ہے، لیکن 20 فیصد بہت زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی بڑھتی عسکری کارروائیاں کسی مستقل معاہدے کے امکانات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔