اقتصادی سروے 2025-26: بحالی کے دعوؤں کے باوجود معیشت دبائو کا شکار
- زرعی شعبے میں مالی سال کے دوران 2.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا
اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق پاکستان کی معیشت میں بظاہر استحکام کے دعوؤں کے باوجود بنیادی کمزوریاں برقرار ہیں، جبکہ مختصر مدتی بہتری اور بیرونی مالی رقوم کے باعث حقیقی معاشی خطرات وقتی طور پر چھپے ہوئے ہیں۔
سروے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع عالمی اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے بڑا بیرونی خطرہ بن چکا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پہلے 2026 میں عالمی شرح نمو 3.3 فیصد اور 2027 میں 3.2 فیصد کی پیش گوئی کی تھی، تاہم تنازع کے اثرات کے باعث یہ اندازے کم کر کے 2026 کے لیے 3.1 فیصد اور 2027 کے لیے 3.2 فیصد کر دیے گئے ہیں۔
ابھرتی ہوئی معیشتوں کی شرح نمو 2026 میں 3.8 فیصد اور 2027 میں 4.1 فیصد جبکہ کم آمدنی والے ترقی پذیر ممالک کی شرح نمو 4.8 فیصد سے بڑھ کر 4.9 فیصد تک جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اگر تنازع جلد ختم ہو جائے تو یہ معیشتیں نسبتاً بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہیں، جس کی وجہ اندرونی طلب، بڑھتی ہوئی متوسط طبقہ آبادی اور ٹیکنالوجی و انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ فروری 2026 کے بعد عالمی تیل کی قیمتیں 72 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً 120 ڈالر تک پہنچ گئیں، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوا۔ پاکستان میں اسی وجہ سے اوسط مہنگائی 6.2 فیصد رہی جو گزشتہ سال کے 4.7 فیصد کے مقابلے میں زیادہ ہے، جبکہ اپریل 2026 میں ماہانہ مہنگائی 10.9 فیصد تک پہنچ گئی۔
زرعی شعبے میں مالی سال کے دوران 2.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں کپاس، چاول، گنا، مکئی اور گندم سمیت اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ لائیو اسٹاک کے شعبے نے 3.8 فیصد ترقی حاصل کی جبکہ جنگلات اور ماہی گیری میں بھی بہتری ریکارڈ ہوئی۔
صنعتی شعبے میں مجموعی طور پر 3.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں نمایاں بہتری کے باعث 6.1 فیصد ترقی دیکھی گئی۔ آٹو موبائل، ٹیکسٹائل، فوڈ، ربڑ اور الیکٹریکل آلات سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم کچھ شعبے اب بھی دباؤ کا شکار رہے۔
خدمات کے شعبے میں 4.1 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی، جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت اور مالیاتی خدمات نے اہم کردار ادا کیا۔ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ سرکاری اخراجات میں اضافے نے بھی اس شعبے کو سہارا دیا۔
رپورٹ کے مطابق قومی بچت 14.1 فیصد جبکہ گھریلو بچت 7 فیصد پر آگئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔ اس کمی کی وجہ بڑھتی ہوئی کھپت بتائی گئی ہے۔ سرمایہ کاری مجموعی طور پر مستحکم رہی اور جی ڈی پی کے 14.4 فیصد کے برابر رہی۔
برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کے باعث تجارتی خسارہ بڑھ گیا، تاہم ترسیلات زر اور خدمات کی برآمدات نے بیرونی کھاتے پر دباؤ کم کیا۔ اپریل 2026 میں ترسیلات زر میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم مجموعی طور پر یہ مستحکم رہیں۔
معاشی رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی آئی ہے اور حکومتی محصولات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری اخراجات میں کمی نے مالی نظم و ضبط بہتر بنایا ہے۔
اقتصادی سروے میں بتایا گیا کہ مالی سال کے دوران تقریباً 18 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جن میں سب سے زیادہ حصہ خدمات کے شعبے کا رہا۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ معاشی اشاریے بہتری کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، تاہم بیرونی خطرات، مہنگائی اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان کی معیشت کے لیے بڑے چیلنجز بدستور موجود ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026