دنیا

ایران نے شکست تسلیم نہ کی تو مزید سخت کارروائی ہوگی، وائٹ ہاؤس

  • امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے
شائع March 26, 2026 اپ ڈیٹ March 26, 2026 09:02am

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مزید سخت کارروائی کر سکتے ہیں اگر تہران نے عسکری شکست کو تسلیم نہ کیا۔ پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ بلف نہیں کرتے اور ایران کو مزید غلط اندازہ نہیں لگانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے یہ حقیقت قبول نہ کی کہ وہ عسکری طور پر شکست کھا چکا ہے تو امریکہ اس پر پہلے سے زیادہ سخت حملے کرے گا۔ ان کے مطابق صدر اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ایران کو ایسی ضرب لگے جو ماضی میں کبھی نہ لگی ہو۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ پاکستان، ترکیہ اور مصر سمیت کئی ممالک جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں۔

دوسری جانب ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ایران اب بھی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا ہے، اگرچہ ابتدائی ردعمل منفی تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران نے ابھی تک اس تجویز کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔

کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور یہ مذاکرات تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ادھر میڈیا میں سامنے آنے والے 15 نکاتی منصوبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کی تمام تفصیلات درست نہیں، تاہم کچھ میں حقیقت پائی جاتی ہے۔

ان خبروں کے بعد عالمی منڈیوں میں بہتری آئی جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی، کیونکہ سرمایہ کار جنگ کے خاتمے کے امکانات کے منتظر ہیں۔