وزیراعظم کی ٹڈاپ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور برآمدات بڑھانے کیلئے اصلاحات کی منظوری
- اصلاحات کا عمل مکمل کرکے ان پر آئندہ سال کے وسط تک عمل درآمد یقینی بنایا جائے، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو ملکی برآمدات کے فروغ، پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے اور مقامی صنعتوں، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم یاز) کو برآمدی معیار پر پورا اترنے میں مدد فراہم کرنے کے لیے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی۔
یہ فیصلہ جمعہ کو اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں ٹڈاپ کی کارکردگی اور ادارے میں مجوزہ اصلاحات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو اتھارٹی کی موجودہ کارکردگی، تنظیمی ڈھانچے اور انتظامی امور میں درپیش مشکلات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ بین الاقوامی تجارتی فروغ کے اداروں کے تقابلی جائزے سے اس ضرورت کو اجاگر کیا گیا کہ مقامی منڈیوں کی ترقی، عالمی منڈیوں تک رسائی میں سہولت، برآمد کنندگان کی استعداد کار میں اضافے اور برآمدات کے فروغ کے لیے مربوط خدمات فراہم کی جائیں۔
مجوزہ اصلاحات میں ٹڈاپ کے دائرہ کار کو آٹھ بنیادی ذمہ داریوں تک محدود کرنا، اس کے بورڈ اور انتظامی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل، علاقائی نیٹ ورک کو بہتر بنانا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ مصنوعی ذہانت متعارف کرانا شامل ہے۔
منصوبے میں کارکردگی جانچنے کے لیے قابلِ پیمائش اشاریے مقرر کرنے اور آزاد تھرڈ پارٹی کے ذریعے جائزے کا نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اجلاس میں 12 ماہ پر مشتمل مرحلہ وار لائحہ عمل پیش کیا گیا جس میں منظوری، منصوبہ بندی، عمل درآمد اور آزادانہ جائزے کے مراحل شامل ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ اصلاحات کا عمل مکمل کرکے ان پر آئندہ سال کے وسط تک عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
عالمی منڈیوں تک رسائی میں اضافے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ٹڈاپ کو جدید خطوط پر استوار کرنے سے برآمدات کے فروغ میں مدد ملے گی۔ انہوں نے زرعی برآمدات کے لیے ایک جامع نظام اور ویلیو چین کی تشکیل پر بھی زور دیا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ٹڈاپ میں شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار کے تحت اہل اور تربیت یافتہ ماہرین کی بھرتی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کے لیے ضروری ہے کہ ملازمین کی ترقی کو ان کی کارکردگی اور مقررہ اہداف کے حصول سے منسلک کیا جائے۔
شہباز شریف نے اتھارٹی کی کارکردگی اور مالیاتی امور کے آڈٹ کے لیے ایک معتبر نجی آڈٹ فرم کی خدمات حاصل کرنے کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں برآمدات کی وسیع صلاحیت موجود ہے اور ملک کو جغرافیائی اعتبار سے بھی سازگار محلِ وقوع حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ان فوائد سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے صنعتی شعبے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو سہولتیں فراہم کر رہی ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، جام کمال خان، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ اور ڈاکٹر مصدق ملک کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔























Comments