BR100 Decreased By (-1.53%)
BR30 Decreased By (-1.1%)
KSE100 Decreased By (-0.93%)
KSE30 Decreased By (-1.52%)
BAFL 58.85 Decreased By ▼ -0.18 (-0.3%)
BIPL 23.92 Decreased By ▼ -0.19 (-0.79%)
BOP 31.22 Decreased By ▼ -0.48 (-1.51%)
CNERGY 12.26 Increased By ▲ 0.20 (1.66%)
DFML 15.81 Increased By ▲ 0.26 (1.67%)
DGKC 200.90 Decreased By ▼ -2.29 (-1.13%)
FABL 92.10 Decreased By ▼ -1.04 (-1.12%)
FCCL 57.75 Decreased By ▼ -0.96 (-1.64%)
FFL 13.31 Decreased By ▼ -0.16 (-1.19%)
GGL 19.52 Decreased By ▼ -0.39 (-1.96%)
HBL 301.75 Decreased By ▼ -1.01 (-0.33%)
HUBC 201.75 Decreased By ▼ -6.30 (-3.03%)
HUMNL 8.69 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 6.09 Decreased By ▼ -0.05 (-0.81%)
LOTCHEM 24.38 Decreased By ▼ -0.44 (-1.77%)
MLCF 99.81 Decreased By ▼ -2.28 (-2.23%)
OGDC 314.00 Decreased By ▼ -2.24 (-0.71%)
PAEL 33.58 Decreased By ▼ -0.44 (-1.29%)
PIBTL 13.19 Decreased By ▼ -0.23 (-1.71%)
PIOC 259.89 Decreased By ▼ -5.55 (-2.09%)
PPL 218.25 Decreased By ▼ -3.05 (-1.38%)
PRL 86.11 Increased By ▲ 1.51 (1.78%)
SNGP 92.18 Decreased By ▼ -1.67 (-1.78%)
SSGC 22.60 Decreased By ▼ -0.34 (-1.48%)
TELE 7.10 Increased By ▲ 0.03 (0.42%)
TPLP 13.23 Increased By ▲ 0.12 (0.92%)
TRG 53.50 Decreased By ▼ -0.53 (-0.98%)
UNITY 7.88 Decreased By ▼ -0.02 (-0.25%)
WTL 1.05 Increased By ▲ 0.11 (11.7%)
کاروبار اور معیشت

پاکستان کا او آئی سی ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے مالی سہولتیں آسان بنانے پر زور

  • او آئی سی کے رکن ممالک میں وسیع اقتصادی صلاحیت، جغرافیائی فوائد، افرادی قوت اور قدرتی وسائل کی بھرپور دولت موجود ہے، وفاقی وزیر
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے اقتصادی یکجہتی کو مزید مضبوط بنانے، تجارتی فنانسنگ تک بہتر رسائی فراہم کرنے اور او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ کے لیے مربوط کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بات اقتصادی و تجارتی تعاون کی قائمہ کمیٹی (COMCEC) کے 42ویں وزارتی اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ترکیہ کے نائب صدر جودت یلماز کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی، سپلائی چین میں تعطل، مالیاتی کمزوریاں اور تحفظ پسندانہ پالیسیوں میں اضافے کے باعث اسلامی ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور اجتماعی اقدامات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ او آئی سی کے رکن ممالک میں نمایاں اقتصادی صلاحیت، جغرافیائی فوائد، افرادی قوت اور قدرتی وسائل موجود ہیں جنہیں مضبوط شراکت داریوں اور مربوط پالیسیوں کے ذریعے مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ او آئی سی کے رکن ممالک نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پائیدار ترقی، تکنیکی پیشرفت اور اقتصادی خوشحالی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے نئے چیلنجز اس امر کے متقاضی ہیں کہ رکن ممالک باہمی تعاون کو فروغ دیں اور اپنے مخصوص حالات و ضروریات کے مطابق قابلِ عمل حل تلاش کریں۔

اجلاس کے نتائج کو اجاگر کرتے ہوئے جام کمال خان نے کہا کہ اجلاس میں اجتماعی اقدامات کے لیے کئی اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں او آئی سی ممالک کے درمیان باہمی تجارت، ٹرانسپورٹ کے روابط، پائیدار سیاحت، زرعی پیداوار میں اضافہ، غذائی تحفظ، غربت کا خاتمہ اور ڈیجیٹل تبدیلی شامل ہیں۔

وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ برآمدات کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانے، بین الاقوامی تجارت کو وسعت دینے اور اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے سستے، متنوع اور پائیدار تجارتی مالیاتی نظام کی فراہمی ناگزیر ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ برآمد کنندگان، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو اب بھی موزوں مالی معاونت کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے جس کی بڑی وجوہات میں ضابطہ جاتی نظام میں عدم ہم آہنگی، ضمانت کے طور پر بھاری اثاثوں کی شرائط، لین دین کے زیادہ اخراجات اور طویل انتظامی طریقہ کار شامل ہیں۔

ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وفاقی وزیرِ تجارت نے پانچ ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کی، جن میں او آئی سی کے رکن ممالک کے درمیان قریبی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سرحد پار تجارتی لین دین کو آسان بنانے اور تجارتی مالی معاونت تک رسائی بہتر بنانے کے لیے قومی قانونی، ضابطہ جاتی اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ان میں ہم آہنگی پیدا کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے تجارتی مالی معاونت کے ذرائع میں تنوع لانے، برآمدی قرضوں کی ضمانت کے نظام کو مضبوط بنانے اور برآمد کنندگان، بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور ٹیکنالوجی پر مبنی کمپنیوں کی ضروریات کے مطابق جدید مالیاتی انتظامات متعارف کرانے پر بھی زور دیا۔

اسلامی مالیات کی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے جام کمال خان نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ادارہ جاتی استعداد میں اضافے، نفع و نقصان میں شراکت داری کے طریقہ کار، اسلامی برآمدی قرضوں کی انشورنس اور اسلامی مالیاتی اداروں کے درمیان قریبی تعاون کے ذریعے شریعت کے مطابق تجارتی مالی معاونت کو فروغ دیں۔

وفاقی وزیر نے کامسیک پر زور دیا کہ وہ اپنے منصوبوں کی معاونت کے طریقہ کار، تجزیاتی تحقیق اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے رکن ممالک کی معاونت جاری رکھے تاکہ پالیسی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے کے ساتھ ساتھ ان کے قابلِ پیمائش نتائج بھی حاصل کیے جاسکیں۔

اقتصادی تعاون کے وسیع تر ایجنڈے پر روشنی ڈالتے ہوئے جام کمال خان نے نجی شعبے کو سرمایہ کاری، جدت، صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے فروغ میں ایک اہم شراکت دار قرار دیا۔

انہوں نے او آئی سی ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط اور باہمی میل جول بڑھانے کی حوصلہ افزائی کی تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ اقتصادی اقدامات کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

زراعت اور غذائی تحفظ کے حوالے سے وفاقی وزیر نے زرعی تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی، موسمیاتی و دیگر چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے غذائی نظام اور پائیدار زرعی ویلیو چینز میں سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا تاکہ ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے اور طویل المدتی غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ قریبی رابطہ کاری برقرار رکھیں، شراکت داریوں کو مزید مستحکم بنائیں اور ایسے عملی اقدامات کریں جن کے ذریعے اجتماعی وعدوں کو عوام کے لیے ٹھوس اقتصادی اور ترقیاتی فوائد میں تبدیل کیا جاسکے۔

وفاقی وزیرِ تجارت نے امید ظاہر کی کہ کامسیک کا آئندہ 43واں اجلاس اب تک حاصل ہونے والی پیشرفت کو آگے بڑھاتے ہوئے او آئی سی کے رکن ممالک کے مشترکہ اقتصادی اور ترقیاتی اہداف کے حصول میں مزید پیش رفت کا باعث بنے گا۔

Comments

200 حروف