BR100 Increased By (0.01%)
BR30 Decreased By (-1.15%)
KSE100 Increased By (0.09%)
KSE30 Decreased By (-0.05%)
BAFL 58.30 Increased By ▲ 0.53 (0.92%)
BIPL 23.26 Increased By ▲ 0.11 (0.48%)
BOP 28.10 Decreased By ▼ -0.25 (-0.88%)
CNERGY 12.28 Decreased By ▼ -1.36 (-9.97%)
DFML 15.07 Decreased By ▼ -0.34 (-2.21%)
DGKC 182.36 Increased By ▲ 4.21 (2.36%)
FABL 92.50 Increased By ▲ 1.10 (1.2%)
FCCL 53.81 Increased By ▲ 1.53 (2.93%)
FFL 12.80 Decreased By ▼ -0.10 (-0.78%)
GGL 18.11 Decreased By ▼ -0.90 (-4.73%)
HBL 285.17 Decreased By ▼ -6.38 (-2.19%)
HUBC 195.28 Increased By ▲ 2.10 (1.09%)
HUMNL 8.48 Decreased By ▼ -0.09 (-1.05%)
KEL 5.64 Decreased By ▼ -0.15 (-2.59%)
LOTCHEM 23.55 Decreased By ▼ -0.34 (-1.42%)
MLCF 91.96 Increased By ▲ 1.45 (1.6%)
OGDC 301.68 Decreased By ▼ -5.10 (-1.66%)
PAEL 31.81 Decreased By ▼ -0.52 (-1.61%)
PIBTL 12.78 Decreased By ▼ -0.15 (-1.16%)
PIOC 235.63 Increased By ▲ 2.49 (1.07%)
PPL 212.06 Decreased By ▼ -1.87 (-0.87%)
PRL 87.26 Decreased By ▼ -9.70 (-10%)
SNGP 90.01 Decreased By ▼ -0.52 (-0.57%)
SSGC 22.86 Increased By ▲ 0.33 (1.46%)
TELE 6.44 Decreased By ▼ -0.28 (-4.17%)
TPLP 12.16 Decreased By ▼ -0.44 (-3.49%)
TRG 51.87 Decreased By ▼ -0.09 (-0.17%)
UNITY 7.61 Decreased By ▼ -0.18 (-2.31%)
WTL 0.94 No Change ▼ 0.00 (0%)

پٹرول کی قیمت میں اضافے سے بچنے کے لیے ریفائنریز ماہانہ 15 ارب روپے کا بوجھ برداشت کریں گی، وفاقی وزیر

  • وزیرِ پیٹرولیم کے مطابق وزیراعظم نے عالمی منڈی میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے صارفین کو محفوظ رکھنے کے ممکنہ اقدامات پر آئل ریفائنریز سے مشاورت کی ہے
شائع اپ ڈیٹ
Refineries to absorb Rs15bn monthly burden to avert petrol price hike: minister

پاکستان کی آئل ریفائنریز عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے سے صارفین کو بچانے کے لیے حکومت کی مدد کی غرض سے ماہانہ تقریباً 15 ارب روپے کا بوجھ برداشت کریں گی۔ وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیر کے روز یہ بات کہی ہے۔

اسلام آباد میں وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی منڈی میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات سے صارفین کو محفوظ رکھنے کے ممکنہ اقدامات پر آئل ریفائنریز سے مشاورت کی تھی۔

انہوں نے کہا، ’’میں تمام ریفائنریز کا شکر گزار ہوں جنہوں نے عوام کو مشکل میں دیکھا اور حکومت کے تعاون سے اپنی پیداوار بڑھائی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران ریفائنریز کو پیداوار میں اضافے سے فائدہ بھی پہنچا ہے۔


وزیرِ پیٹرولیم نے بتایا کہ مشکل حالات میں صارفین کو ریلیف دینے کے لیے ریفائنریز سے تعاون کی درخواست کی گئی تھی، جس پر انہوں نے پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافے کو روکنے میں مدد دینے پر اتفاق کیا۔ یہ اضافہ جمعے کے روز سے نافذ ہونا تھا۔

علی پرویز ملک نے کہا، ’’اس اقدام کے نتیجے میں تقریباً 15 ارب روپے ماہانہ کا بوجھ یہ ریفائنریز برداشت کریں گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس انتظام کے تحت پٹرول عالمی منڈی میں اس کی قیمت کے مقابلے میں 15 روپے فی لیٹر سستا فروخت کیا جا سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر صورتحال مزید مشکل ہوئی تو حکومت صارفین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مداخلت جاری رکھے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مشرق وسطیٰ کا بحران پُرامن حل کی جانب بڑھے گا۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم شعبے میں ڈی ریگولیشن اور ریفائنریز کی اپ گریڈیشن کے عزم پر قائم ہے، تاہم موجودہ بحران میں اس کی فوری ترجیح عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’حکومت کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرنا چاہتی۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ فیصلے مشاورت، منصفانہ طرزِ عمل اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔

وزیرِ پیٹرولیم نے یہ بھی بتایا کہ ریفائنری پریمیم، جو بحران سے قبل 5 ڈالر فی بیرل تھا، کی حد بڑھا کر 20 ڈالر فی بیرل مقرر کر دی گئی ہے۔

دریں اثنا، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ریفائنریز کو ہدایت کی تھی کہ مقامی سطح پر پٹرول کی قیمت میں اضافے سے بچنے کے لیے عالمی منڈی میں قیمتوں کے اضافے کا بوجھ خود برداشت کریں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی فیول ریلیف اسکیم کے لیے ڈیڑھ کروڑ سے زائد منفرد صارفین رجسٹریشن کرا چکے ہیں، جبکہ اب تک اس مقصد کے لیے تقریباً 27 ارب روپے مختص کیے جا چکے ہیں۔

عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ دنیا بھر کی معیشتوں پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے اثرات کے باوجود پاکستان کے مجموعی معاشی اشاریے بڑی حد تک مستحکم رہے ہیں۔

دونوں وزرا نے ملک میں ایندھن کی قلت کے امکان کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مشکل عالمی حالات کے باوجود ملکی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ نومبر کے لیے ملک کی ایندھن کی ضروریات کی فراہمی کا مکمل انتظام کر لیا گیا ہے، جبکہ دسمبر اور جنوری کے لیے رسد سے متعلق فیصلے مناسب وقت پر کیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ موسم سرما کے دوران ایندھن کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔

حکومت نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں کفایت شعاری کے اقدامات بھی دوبارہ نافذ کر دیے ہیں، جن میں مارکیٹیں رات 9 بجے تک بند کرنے اور سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کے کوٹے میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی شامل ہے۔

Comments

200 حروف