BR100 Decreased By (-0.55%)
BR30 Decreased By (-0.86%)
KSE100 Decreased By (-0.47%)
KSE30 Decreased By (-0.6%)
BAFL 57.77 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 23.15 Decreased By ▼ -0.05 (-0.22%)
BOP 28.35 Decreased By ▼ -0.31 (-1.08%)
CNERGY 13.64 Decreased By ▼ -0.44 (-3.13%)
DFML 15.41 Decreased By ▼ -0.32 (-2.03%)
DGKC 178.15 Decreased By ▼ -3.85 (-2.12%)
FABL 91.40 Decreased By ▼ -0.50 (-0.54%)
FCCL 52.28 Decreased By ▼ -0.33 (-0.63%)
FFL 12.90 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
GGL 19.01 Decreased By ▼ -0.55 (-2.81%)
HBL 291.55 Decreased By ▼ -3.35 (-1.14%)
HUBC 193.18 Decreased By ▼ -0.86 (-0.44%)
HUMNL 8.57 Increased By ▲ 0.20 (2.39%)
KEL 5.79 Decreased By ▼ -0.17 (-2.85%)
LOTCHEM 23.89 Decreased By ▼ -0.58 (-2.37%)
MLCF 90.51 Decreased By ▼ -0.52 (-0.57%)
OGDC 306.78 Increased By ▲ 0.57 (0.19%)
PAEL 32.33 Decreased By ▼ -0.39 (-1.19%)
PIBTL 12.93 Decreased By ▼ -0.15 (-1.15%)
PIOC 233.14 Decreased By ▼ -1.42 (-0.61%)
PPL 213.93 Decreased By ▼ -1.59 (-0.74%)
PRL 96.96 Decreased By ▼ -3.85 (-3.82%)
SNGP 90.53 Decreased By ▼ -1.31 (-1.43%)
SSGC 22.53 Decreased By ▼ -0.61 (-2.64%)
TELE 6.72 Decreased By ▼ -0.09 (-1.32%)
TPLP 12.60 Increased By ▲ 0.31 (2.52%)
TRG 51.96 Decreased By ▼ -1.12 (-2.11%)
UNITY 7.79 Increased By ▲ 0.11 (1.43%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.01 (-1.05%)
پاکستان

سندھ حكومت کی سڑکوں کی تعمیر میں رکاوٹ بننے والے یوٹیلیٹی پولز فوری ہٹانے کی ہدایت

  • شرجیل میمن کے مطابق حیسکو اور سیپکو کو پیشگی ادائیگی کے باوجود بجلی کے کھمبے منتقل نہ کرنے سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت متاثر ہو رہی ہے
شائع اپ ڈیٹ

سندھ حکومت نے صوبے بھر میں سڑکوں کی تعمیر اور توسیع کے منصوبوں میں رکاوٹ بننے والے بجلی کے کھمبے اور دیگر یوٹیلیٹی تنصیبات فوری منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وفاقی اداروں کے زیر انتظام یوٹیلیٹی کمپنیوں کو معاوضے کی ادائیگی کے باوجود انفرااسٹرکچر کی منتقلی میں تاخیر سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔

سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حیسکو اور سیپکو سمیت متعلقہ اداروں کی جانب سے پیشگی ادائیگی کے باوجود بجلی کے کھمبے منتقل نہ کرنے سے ترقیاتی کاموں میں سنگین رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

انہوں نے سکھر کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ بجلی کے کھمبوں کی منتقلی کے لیے پانچ سال قبل ادائیگی کی جاچکی ہے، تاہم یہ کھمبے تاحال سڑکوں پر موجود ہیں۔

ایک بیان میں سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حیسکو، سیپکو، کے الیکٹرک، سوئی سدرن گیس کمپنی اور دیگر متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے جاری سڑکوں کے منصوبوں میں رکاوٹ بننے والی تنصیبات فوری منتقل کریں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت عوامی بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر خطیر وسائل خرچ کر رہی ہے، تاہم وفاقی اداروں کی جانب سے تاخیر کے باعث منصوبوں پر عمل درآمد اور ان کی تکمیل متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سڑکوں کے درمیان نصب بجلی کے کھمبے نہ صرف ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ ہیں بلکہ حادثات کا خطرہ بھی بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح گیس پائپ لائنز اور دیگر یوٹیلیٹی تنصیبات بھی سڑکوں کی تعمیر اور توسیع میں مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔

سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے ریڈ لائن منصوبے میں تاخیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یوٹیلیٹی کھمبوں اور دیگر تنصیبات کی متبادل مقامات پر منتقلی منصوبے کی سست روی کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی حدود میں آنے والی بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلیٹی تنصیبات کی منتقلی متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، خصوصاً جب اس مقصد کے لیے معاوضہ پہلے ہی ادا کیا جاچکا ہو۔

شرجیل میمن نے کہا کہ صوبائی حکومت عوامی مفاد میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے اور وفاقی یوٹیلیٹی اداروں کو بھی ہدایت کی کہ وہ مزید تاخیر کے بغیر باقی رکاوٹیں دور کریں۔

Comments

200 حروف