نئی دہلی میں اپوزیشن کے بڑے احتجاج سے قبل سکیورٹی سخت کردی گئی
- احتجاجی مارچ اور جلسے کی قیادت کانگریس رہنما راہول گاندھی کریں گے۔ اپوزیشن جماعتوں کو توقع ہے کہ اس مظاہرے میں لاکھوں افراد شرکت کریں گے۔
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اتوار کو اپوزیشن کے احتجاج سے قبل سکیورٹی سخت کردی گئی، جہاں پولیس اہلکاروں نے لاٹھیوں اور ڈھالوں کے ساتھ مظاہرے کے مقام کو گھیرے میں لے لیا۔ احتجاج میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے متنازع ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے معاملے پر استعفے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
احتجاجی مارچ اور جلسے کی قیادت کانگریس رہنما راہول گاندھی کریں گے۔ اپوزیشن جماعتوں کو توقع ہے کہ اس مظاہرے میں لاکھوں افراد شرکت کریں گے۔
اپوزیشن جماعتیں، طلبہ تنظیمیں اور نوجوانوں کی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی گزشتہ ماہ سے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے مسلسل مظاہرے کر رہی ہیں۔
اپوزیشن کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں سے ناموں کے اخراج سے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے کسی جماعت کی حمایت کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غلط طور پر حذف کیے گئے ووٹرز دوبارہ رجسٹریشن کراسکتے ہیں۔
اتوار کو اپوزیشن جماعتیں وسطی دہلی سے رام لیلا میدان تک تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر مارچ کریں گی، جہاں جلسہ ہوگا۔ دہلی ٹریفک پولیس نے بڑے اجتماع کے پیش نظر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے مختلف راستوں پر پابندیوں اور متبادل راستوں کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق گزشتہ سال شروع ہونے والی ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے دوران 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے گئے، جن میں 2 کروڑ 80 لاکھ فوت شدہ، 6 کروڑ 30 لاکھ نقل مکانی کرنے والے اور 3 کروڑ ایسے افراد شامل ہیں جن کا سراغ نہیں مل سکا۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اس عمل سے مسلمان اور دیگر اقلیتی ووٹرز زیادہ متاثر ہوئے ہیں، تاہم الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔























Comments