BR100 Decreased By (-0.55%)
BR30 Decreased By (-0.86%)
KSE100 Decreased By (-0.47%)
KSE30 Decreased By (-0.6%)
BAFL 57.77 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 23.15 Decreased By ▼ -0.05 (-0.22%)
BOP 28.35 Decreased By ▼ -0.31 (-1.08%)
CNERGY 13.64 Decreased By ▼ -0.44 (-3.13%)
DFML 15.41 Decreased By ▼ -0.32 (-2.03%)
DGKC 178.15 Decreased By ▼ -3.85 (-2.12%)
FABL 91.40 Decreased By ▼ -0.50 (-0.54%)
FCCL 52.28 Decreased By ▼ -0.33 (-0.63%)
FFL 12.90 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
GGL 19.01 Decreased By ▼ -0.55 (-2.81%)
HBL 291.55 Decreased By ▼ -3.35 (-1.14%)
HUBC 193.18 Decreased By ▼ -0.86 (-0.44%)
HUMNL 8.57 Increased By ▲ 0.20 (2.39%)
KEL 5.79 Decreased By ▼ -0.17 (-2.85%)
LOTCHEM 23.89 Decreased By ▼ -0.58 (-2.37%)
MLCF 90.51 Decreased By ▼ -0.52 (-0.57%)
OGDC 306.78 Increased By ▲ 0.57 (0.19%)
PAEL 32.33 Decreased By ▼ -0.39 (-1.19%)
PIBTL 12.93 Decreased By ▼ -0.15 (-1.15%)
PIOC 233.14 Decreased By ▼ -1.42 (-0.61%)
PPL 213.93 Decreased By ▼ -1.59 (-0.74%)
PRL 96.96 Decreased By ▼ -3.85 (-3.82%)
SNGP 90.53 Decreased By ▼ -1.31 (-1.43%)
SSGC 22.53 Decreased By ▼ -0.61 (-2.64%)
TELE 6.72 Decreased By ▼ -0.09 (-1.32%)
TPLP 12.60 Increased By ▲ 0.31 (2.52%)
TRG 51.96 Decreased By ▼ -1.12 (-2.11%)
UNITY 7.79 Increased By ▲ 0.11 (1.43%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.01 (-1.05%)
مارکٹس

اوپیک پلس کا تیل کی پیداواری حدود برقرار رکھنے کا امکان

  • اوپیک پلس میں تنظیم برائے ممالکِ برآمد کنندگانِ تیل (اوپیک) اور روس سمیت اس کے اتحادی ممالک شامل ہیں
شائع اپ ڈیٹ

تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک پلس کے رکن ممالک اتوار کو ہونے والے اجلاس میں دسمبر کے لیے تیل کی پیداواری حدود برقرار رکھنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث تیل کی برآمدات میں رکاوٹیں بدستور برقرار ہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق معاملے سے باخبر تین ذرائع نے بتایا کہ اوپیک پلس کے سات بنیادی ارکان اصولی طور پر اگلے ماہ پیداوار موجودہ سطح پر برقرار رکھنے پر متفق ہیں۔ توقع ہے کہ پالیسی میں مزید تبدیلیاں آئندہ سال تک مؤخر رہیں گی۔

اتوار کو ہونے والے آن لائن اجلاس میں سعودی عرب، روس، عراق، کویت، الجزائر، قازقستان اور عمان شرکت کریں گے۔ خلیجی ممالک تنازع کے باعث کئی ماہ سے متاثر ہونے والی تیل کی برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم بیشتر ممالک اب بھی مقررہ پیداواری اہداف سے کم تیل نکال رہے ہیں۔

اوپیک پلس میں تنظیم برائے ممالکِ برآمد کنندگانِ تیل (اوپیک) اور روس سمیت اس کے اتحادی ممالک شامل ہیں۔

گروپ نے 2026 کے بیشتر عرصے میں پیداواری اہداف میں اضافہ کیا اور ستمبر میں یومیہ 16 لاکھ 50 ہزار بیرل کی سپلائی کٹوتی مرحلہ وار ختم کردی، جس پر 2023 میں اتفاق کیا گیا تھا۔ اس سے قبل اکتوبر اور نومبر کے لیے بھی پیداواری اہداف برقرار رکھے گئے تھے۔

رائٹرز نے جولائی میں رپورٹ کیا تھا کہ اوپیک پلس چوتھی سہ ماہی میں پیداواری اہداف میں تبدیلی نہیں کرے گا اور اس کی توجہ 2027 کے پیداواری کوٹے پر مذاکرات پر مرکوز رہے گی۔

گروپ کے بیشتر ارکان کے لیے یومیہ تقریباً 20 لاکھ بیرل کی اضافی پیداواری کٹوتی بھی 2026 کے اختتام تک برقرار ہے۔

ذرائع کے مطابق اوپیک پلس کو چوتھی سہ ماہی میں رکن ممالک کی پیداواری صلاحیت کا جائزہ مکمل کرنا ہے، جس کے بعد 2027 کے بنیادی پیداواری اہداف طے کیے جائیں گے۔ یہی اہداف مستقبل کے کوٹے اور موجودہ پیداواری کٹوتیوں میں کمی کے منصوبوں کی بنیاد بنیں گے۔

Comments

200 حروف