کیا پالیسی ریٹ برقرار رہے گا؟
مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 26 اکتوبر کو منعقد ہوگا جس میں 11.5 فیصد شرحِ پالیسی کا جائزہ لیا جائے گا۔ خدشات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ شرح سود میں اضافہ کیا جاسکتا ہے کیونکہ مہنگائی بدستور دوہرے ہندسے میں ہے۔ اس کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہے جبکہ یکم نومبر کو یہ تنازع آٹھویں ماہ میں داخل ہوجائے گا۔
مئی میں صارف اشاریہ قیمت (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی شرح 11.7 فیصد، جون میں 11.1 فیصد اور جولائی میں کم ہو کر 9.2 فیصد رہی۔ تاہم اگست میں یہ دوبارہ بڑھ کر 11.1 فیصد ہوگئی جبکہ ستمبر میں 10.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
اس کے برعکس بنیادی مہنگائی کی شرح نسبتاً مستحکم رہی جو اگست 2026ء میں 8.8 فیصد اور ستمبر میں 8.6 فیصد کے درمیان رہی۔ بنیادی مہنگائی کی یہی صورتحال مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے 28 اپریل 2026ء کے بعد سے شرحِ پالیسی میں اضافہ نہ کرنے کے فیصلے کے جواز کے طور پر پیش کی جاتی رہی ہے۔ یہ وہ شرح ہے جو اس وقت بھی برقرار رہی جب رواں سال بنیادی مہنگائی مارچ میں 7.4 فیصد سے بڑھ کر اپریل میں 8 فیصد اور مئی میں 9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ مہنگائی اور شرح پالیسی کے درمیان اس عدم مطابقت کا جواز اسٹیٹ بینک کے کرائے گئے کاروباری سروے کے نتائج اور مانیٹری پالیسی بیان میں مسلسل دہرائے جانے والے اس مؤقف کی بنیاد پر پیش کیا جاتا ہے کہ درمیانی مدت میں مہنگائی کی شرح 5 سے 7 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔
یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ آزاد ماہرینِ معاشیات کی غالب رائے یہ ہے کہ شرحِ پالیسی میں ردوبدل کا اصل فیصلہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوران کیا جاتا ہے۔ اس سے یہ وضاحت بھی ہوسکتی ہے کہ شرحِ سود کے معاملے پر اکثریتی فیصلہ کیوں سامنے نہیں آتا۔ اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جاری توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت ہر سہ ماہی جائزے کے بعد مناسب زری پالیسی اختیار برقرار رکھنے پر زور دیا جاتا ہے۔ چنانچہ 7 اکتوبر کو چوتھے جائزے پر عملے کی سطح کے معاہدے کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ اسٹیٹ بینک کو مہنگائی کو پائیدار بنیادوں پر اپنے مقررہ ہدف کی حد میں واپس لانے کے لیے مناسب حد تک سخت زری پالیسی برقرار رکھنی چاہیے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں شرحِ پالیسی اور مہنگائی پر قابو پانے کے درمیان تعلق زیادہ سے زیادہ کمزور ہے جس کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ حکومتی کھپت میں اضافہ، گھریلو کھپت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ 2026ء میں حکومتی کھپت میں 18.8 فیصد جبکہ گھریلو کھپت میں 11.37 فیصد اضافہ ہوا۔ حکومتی کھپت مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 82 فیصد ہے جبکہ گھریلو کھپت، جس کا بڑا حصہ بجٹ میں جاری اخراجات کے لیے مختص ہوتا ہے، جی ڈی پی کا 9.94 فیصد ہے۔ یہ تناسب 2024ء میں 8.86 فیصد تھا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ملک میں قرض لینے والا سب سے بڑا فریق نجی شعبہ نہیں بلکہ حکومت ہے جبکہ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی میں منفی خالص بہاؤ کا سامنا ہے۔ رواں سال جولائی تا ستمبرنجی شعبے کے قرضوں کا خالص بہاؤ منفی 364 ملین روپے رہا جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ منفی ایک ارب 790 ملین روپے تھا۔
اس کے باوجود اعدادوشمار کی ساکھ کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اس تناظر میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو تکنیکی معاونت فراہم کی تھی جس کا ذکر 10 اکتوبر 2024ء کی دستاویزات میں کیا گیا۔ ان دستاویزات میں کہا گیا کہ جی ڈی پی کے تقریباً ایک تہائی حصے کی نمائندگی کرنے والے شعبوں کے لیے دستیاب بنیادی اعداد و شمار میں اب بھی اہم خامیاں موجود ہیں جبکہ حکومتی مالیاتی اعدادوشمار (جی ایف ایس) کی تفصیل اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے بھی مسائل درپیش ہیں۔
حکام ان خامیوں کو دور کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں جس کے لیے حکومتی مالیاتی اعداد و شمار (جی ایف ایس) اور نئے اشاریہ قیمتِ پیداوار (پی پی آئی) کے حوالے سے آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت بھی حاصل ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس آئندہ قومی حسابات (این اے) کی بنیاد مالی سال 2026ء پر منتقل کرنے سے قبل چار بڑے سروے کے لیے جلد ہی فیلڈ ورک شروع کرے گا۔
تکنیکی معاونت کے تحت اشاریہ قیمتِ پیداوار (پی پی آئی) کے جزو کا مقصد سپلائی چین کے تمام مراحل پر قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینا تھا جس میں کھیت سے حاصل ہونے والی قیمتیں، فیکٹری سے نکلنے والی اشیا کی قیمتیں اور خوردہ سطح کی قیمتیں شامل ہیں۔ اس نظام کے ذریعے پرانے پیمانوں کی جگہ نئے پیمانے متعارف کرانا یا انہیں بہتر بنانا مقصود تھا۔یہ منصوبہ رواں سال جون کے اختتام تک مکمل ہونا تھا، تاہم آئی ایم ایف کے جائزے میں طریقۂ کار میں ضروری بہتری اور اعدادوشمار کے انضمام سے متعلق خدشات ظاہر کیے گئے جس کے نتیجے میں منصوبے کی تکمیل کی مدت بڑھا کر اکتوبر 2026ء کے اختتام تک مقرر کردی گئی۔ ابھی تک اس تکنیکی معاونت کی کامیاب تکمیل کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی جبکہ آزاد ماہرینِ معاشیات اعدادوشمار کی صحت اور قابلِ اعتماد ہونے کے حوالے سے سنگین خدشات کا اظہار کررہے ہیں۔
اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ پیداوار میں اضافے کے بغیر مہنگائی بڑھنے سے خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے پاکستانیوں کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے، جو عالمی بینک کے مطابق 44.7 فیصد ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایسی پالیسیاں متعارف کرائے جو ثمرات بالائی طبقے سے بتدریج نچلی سطح تک پہنچنے کے نظریے پر مبنی نہ ہوں۔ماضی کی حکومتوں کی طرح امیر صنعت کاروں اور زمینداروں کو مراعات دے کر یہ توقع کرنے کے بجائے کہ ان کے فوائد عام آبادی تک بھی پہنچیں گے، حکومت کو ایسی جامع پالیسیوں پر توجہ دینی چاہیے جن کے ثمرات معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچ سکیں۔ اس مقصد کے لیے ملک کے اندر ہی روایتی سوچ سے ہٹ کر نئے اور مؤثر حل تلاش کرنا ہوں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

























Comments