فرانس میں بدامنی کے بعد فوج تعینات کرنے کا فیصلہ، حکومت کا کوتاہیوں کا اعتراف
- فرانس نے حالیہ وسیع پیمانے پر شہری بدامنی کے بعد امن و امان کی بحالی کے لیے آئندہ احتجاجی مظاہروں کے موقع پر فوج تعینات کرکے سکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے
فرانس کی حکومت نے منگل کے روز کہا ہے کہ ہفتے کے روز مزید احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر پولیس کی مدد کے لیے فوج تعینات کی جائے گی اور بڑے پیمانے پر سکیورٹی آپریشن شروع کیا جائے گا۔ حکومت نے گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے پُرتشدد واقعات سے نمٹنے میں کوتاہیوں کا اعتراف بھی کیا ہے۔
وزیراعظم سیباستیان لیکورنو نے کہا ہے کہ ’’آئندہ ہفتے کے روز سکیورٹی اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی کی جائے گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ فوری ترجیح امن و امان کی بحالی ہے، کیونکہ 17 اکتوبر کو پیرس، مارسیلے، لیون اور دیگر شہروں میں ہنگامہ آرائی اور لوٹ مار کے واقعات پیش آئے تھے۔
پارلیمان میں ہونے والی بحث کے دوران، جس میں بعض مواقع پر شور شرابا بھی ہوا، وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ فوج کو پولیس کے ساتھ تعینات کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہری مراکز کو غیر محفوظ چھوڑے جانے پر ہونے والی شدید تنقید کے بعد حکومت سکیورٹی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلیاں کرے گی۔
مخصوص علاقوں میں کرفیو سے حالات معمول پر آنے لگے
بحران کو ’’تشدد اور جمہوریہ کے درمیان انتخاب‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم سیباستیان لیکورنو نے بدامنی کا الزام انتہائی بائیں بازو کے گروہوں پر عائد کیا ہے۔ دوسری جانب ان گروہوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے مہنگائی اور عوامی خدمات کے معیار میں گراوٹ کے باعث شہریوں میں پائے جانے والے غصے کو کم اہمیت دی ہے۔
فرانس میں بدامنی نے اپنے وسیع پیمانے اور پولیس کی جانب سے حالات پر قابو پانے میں بظاہر ناکامی کے باعث شدید تشویش پیدا کی ہے۔ ان واقعات سے آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی بھی بڑھ گئی ہے، جہاں رائے عامہ کے جائزوں میں انتہائی دائیں اور سخت گیر بائیں بازو کے امیدوار نمایاں حمایت حاصل کر رہے ہیں۔
اٹلی اور البانیہ سمیت یورپ کے دیگر ممالک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے بھی ان خدشات میں اضافہ کیا ہے کہ معیارِ زندگی کے حوالے سے عوامی بے چینی پورے براعظم میں پھیل سکتی ہے۔ یہ صورتِ حال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک بجٹ کے مسائل سے دوچار ہیں۔
بدامنی سے متاثرہ کئی علاقوں میں مخصوص اوقات کے لیے کرفیو نافذ کیے جانے کے بعد فرانس میں رات نسبتاً پُرسکون گزری۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے حالات پر دوبارہ قابو پانے میں مدد ملی ہے۔
وسطی پیرس میں پولیس نے رات کے وقت ریپبلک اسکوائر کو خالی کرا کے اس کی نگرانی سنبھال لی، جبکہ فضا میں ہیلی کاپٹر بھی گشت کرتا رہا۔ شمالی شہر لیل میں کرفیو کا اطلاق صرف کم عمر افراد پر تھا، جہاں پولیس اہلکاروں نے شہر کے مرکز میں گشت کرتے ہوئے راہ گیروں کی شناخت کی جانچ کی۔
مارسی کے میئر بنوا پائیاں نے کہا ہے کہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے ہنگاموں سے سب سے زیادہ متاثرہ تجارتی علاقوں میں کم عمر افراد کے لیے منگل کی رات سے کرفیو نافذ کیا جائے گا۔
وزیراعظم سیباستیان لیکورنو نے ہفتے کے اختتام پر بدامنی سے نمٹنے میں حکومتی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات کے حصول میں ناکامیاں ہوئیں، پولیس کی تعیناتی ضرورت سے زیادہ محدود رہی اور حکام نے پولیس اہلکاروں کی پہلے سے طے شدہ چھٹیاں منسوخ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
وزیر داخلہ لوراں نونیز نے ان ناکامیوں پر معذرت کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے پیش آنے والے واقعات پر دلی افسوس ہے۔ میں اس معاملے میں اپنی ذمہ داری تسلیم کرتا ہوں۔‘‘
لیوموژ کے سٹی ہال کو نذرِ آتش کرنے کے شبہے میں ایک شخص گرفتار
فرانس کی پارلیمان نے بدامنی کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ حکام نے سڑکوں پر ہونے والے پُرتشدد واقعات میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے 200 تفتیش کار تعینات کر دیے ہیں۔
پولیس نے منگل کے روز وسطی شہر لیوموژ میں ہنگامہ آرائی کے دوران تاریخی سٹی ہال کو آگ لگانے کے شبہے میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ آتش زدگی کے نتیجے میں عمارت تباہ ہوگئی تھی۔
حکام کے مطابق، گرفتار شخص سکیورٹی اداروں کی نگرانی کی فہرست میں شامل تھا اور اس کا تعلق انتہائی بائیں بازو کے ایک گروہ سے تھا۔
پیرس سے تعلق رکھنے والے ریناسانس پارٹی کے رکنِ پارلیمان سلوین مایار نے رائٹرز کو بتایا کہ بعض ایپس ’’ہنگامہ آرائی کرنے اور لوٹ مار میں ملوث افراد کے لیے واکی ٹاکی کا نظام‘‘ بن گئی ہیں۔
بحران کے وسیع تر اثرات کی عکاسی کرتے ہوئے، فرانس میں مزید بدامنی کے خدشات کے باعث سرمایہ کاروں کی تشویش بڑھنے سے منگل کے روز حکومتی قرض لینے کی لاگت میں مزید اضافہ ہوا۔ دس سالہ سرکاری بانڈز پر منافع 24 سال کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔
فرانس کی سب سے بڑی طلبہ یونین، یو این ای ایف، نے ہفتے کے روز مزید احتجاجی مظاہروں کی کال دی ہے۔ یونین نے صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت پر دباؤ برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ملک کا تعلیمی نظام مسلسل زوال پذیر ہے اور اسے ضرورت کے مطابق مالی وسائل فراہم نہیں کیے جا رہے۔ یونین نے سوشل میڈیا پر کہا، ’’ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔‘‘
دوسری جانب خود کو ’’ییلو ویسٹس‘‘ (زرد جیکٹوں والے مظاہرین) کہنے والے گروہوں نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف احتجاجی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔
ییلو ویسٹس تحریک 2018 میں میکرون کی پہلی صدارتی مدت کے دوران پیٹرول پر ٹیکس بڑھانے کے منصوبے کے خلاف شروع ہوئی تھی۔ گزشتہ چند برسوں میں بڑی حد تک غیر فعال رہنے والی اس تحریک کے تحت کئی ماہ تک ٹریفک کی بندش جاری رہی، یہاں تک کہ حکومت کو بھاری مالی رعایتیں دینا پڑیں، جن کا بوجھ موجودہ حالات میں برداشت کرنا اس کے لیے مشکل ہے۔
اٹلی کو بدامنی کی نئی شکل کا سامنا ہے، وزیر کا بیان
اٹلی کے شمالی شہروں، بشمول مالیاتی مرکز میلان، میں بھی گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔
اگرچہ اٹلی میں بدامنی کی شدت فرانس جیسی نہیں تھی، تاہم ان واقعات نے وزیراعظم جورجیا میلونی کی حکومت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حکومت سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ منگل کے روز کابینہ کے اجلاس میں سکیورٹی کے نئے اقدامات متعارف کرائے گی۔
وزیر دفاع گوئیدو کروزیٹو نے ان واقعات کو ’’ہائبرڈ جنگ‘‘ کی ایک شکل قرار دیا، جس میں ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر آن لائن نیٹ ورکس جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز استعمال کیے جا رہے ہیں۔
کروزیٹو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا، ’’میلان اور اٹلی کے دیگر علاقوں میں پیش آنے والے واقعات بنیادی طور پر ماضی کے ادوار میں ہونے والے واقعات سے مختلف ہیں۔ مغرب ابھی تک اس حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہا ہے اور نہ ہی اس کے ردعمل میں کوئی بامعنی اقدام کیا گیا ہے۔‘‘
میلان کے مرکزی علاقے کورسو وٹوریو ایمانوئلے دوم میں کھیلوں کے ملبوسات فروخت کرنے والی دکان ’آن‘ اور لیوائز کے اسٹور کو بدامنی کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا۔ دونوں دکانیں منگل کے روز دوبارہ کھل گئیں، تاہم ان کے شیشوں اور داخلی حصوں پر حفاظتی تختے لگے ہوئے تھے۔ لگژری اشیا فروخت کرنے والی دکانوں نے بھی سکیورٹی خدشات کے باعث عارضی طور پر ہٹائی گئی اشیا دوبارہ اپنی کھڑکیوں میں سجا دی تھیں۔
ادھر البانیہ میں وزیراعظم ایدی راما کی حکومت کے خلاف مسلسل ساتویں روز احتجاج کے لیے مظاہرین کے دارالحکومت تیرانا کی سڑکوں پر نکلنے کی توقع تھی۔























Comments