برآمدات میں اضافے کیلئے ملکی مصنوعات کو عالمی سطح پر فروغ دینے پر زور
- ایف بی آر جلد بڑے برآمد کنندگان کے ساتھ اجلاس منعقد کرے گا، چیئرمین راشد محمود لنگڑیال
چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے برآمد کنندگان پر زور دیا کہ وہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی بڑھائیں اور برآمدات میں اضافے کے لیے دستیاب وسائل سے مؤثر انداز میں استفادہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر جلد بڑے برآمد کنندگان کے ساتھ اجلاس منعقد کرے گا جن میں ان کے تحفظات کا جائزہ لینے، برآمدات میں اضافے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے اور انہیں دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر شیخ عمر ریحان کی قیادت میں آنے والے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر برآمدات کے فروغ، ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، ڈیجیٹل انوائسنگ، اسمگلنگ کی روک تھام اور مختلف صنعتی شعبوں کو درپیش مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایسوسی ایشن کے مطابق راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے خودکار طریقہ کار پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے ایف بی آر اور کاروباری برادری کے درمیان رابطوں کو بہتر بنانے کے لیے واٹس ایپ گروپس قائم کرنے کی تجویز بھی دی تاکہ صنعت کار اپنے تحفظات اور تجاویز متعلقہ حکام تک فوری پہنچا سکیں۔
انہوں نے اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت کی روک تھام کو مقامی صنعتوں کے تحفظ اور جائز کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ چیئرمین ایف بی آر نے وفد کے تحفظات سنے اور یقین دہانی کرائی کہ مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے ممبر اِن لینڈ ریونیو آپریشنز زبیر بلال کو بھی ہدایت کی کہ وہ کاٹی اور گھی و خوردنی تیل کی صنعتوں کے نمائندوں سے ملاقات کریں، ان کے تحفظات کا جائزہ لیں اور مسائل کے حل کے لیے مناسب اقدامات کریں۔
کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان نے کہا کہ ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن ضروری ہے، تاہم ڈیجیٹل انوائسنگ کے نفاذ کے دوران صنعتی شعبوں کو درپیش عملی مشکلات دور کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کاروباری اداروں کو مناسب رہنمائی اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے اور نفاذ کے مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر رابطہ کاری کا نظام قائم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں متاثر کیے بغیر ٹیکس نظام میں شفافیت کو بہتر بنایا جانا چاہیے۔






















Comments