جاز کیش کا سال کے آخر تک 20 لاکھ تاجروں کو کیو آر ادائیگیوں سے منسلک کرنے کا ہدف
- پاکستان کی ریٹیل معیشت میں چھوٹے کاروبار کا بڑا حصہ ہے، چیف ایگزیکٹو آفیسر مرتضیٰ علی
پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا رجحان تیزی سے فروغ پارہا ہے جہاں جاز کیش کے انٹرآپریبل راست کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیاں قبول کرنے والے مرچنٹس کی تعداد 2026 کے آغاز میں 10 لاکھ سے کم تھی جو بڑھ کر 19 لاکھ ہو گئی ہے۔ کمپنی نے رواں سال کے اختتام تک یہ تعداد 20 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
جاز کیش کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مرتضیٰ علی نے کہا کہ تاجروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان وزیراعظم کے کیش لیس اکانومی انیشی ایٹو کے تحت نقد لین دین پر انحصار کم کرنے اور زیادہ سے زیادہ معاشی سرگرمیوں کو دستاویزی معیشت کا حصہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس اقدام کو اسٹیٹ بینک کے فوری ادائیگیوں کے نظام راست کے بنیادی ڈھانچے کی معاونت حاصل ہے۔
چنانچہ پاکستان میں چھوٹے تاجروں اور چھوٹے کاروباری افراد میں نقد لین دین سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب منتقلی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جس میں مختلف ادائیگی نظاموں کے درمیان قابلِ استعمال کیو آر کوڈ ادائیگیوں کو اہم محرک قرار دیا جارہا ہے۔
مرتضیٰ علی نے حال ہی میں انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف منی ٹرانسفر نیٹ ورکس (آئی اے ایم ٹی این) کے سالانہ سربراہی اجلاس 2026 میں تاجروں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا فروغ کے عنوان سے منعقدہ پینل مباحثے میں شرکت کی۔ اس مباحثے میں ورلڈ پے کے آئنزلی مرچنٹ اور آئی وائی یو کے جارجز فیرے بھی شریک تھے جب کہ ان کی میزبانی ریمیٹلی کے روبرٹو لیناریس نے کی۔مباحثے کے دوران مرتضیٰ علی نے پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ پر روشنی ڈالی اور اس ضمن میں حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے اٹھائے گئے اہم اقدامات کی تفصیلات بیان کیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ریٹیل معیشت میں چھوٹے کاروبار کا بڑا حصہ ہے، تاہم ان میں سے بہت سے کاروبار روایتی طور پر کارڈ اور باضابطہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام سے باہر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کی سہولت وسیع ہونے سے اس صورتِ حال میں تبدیلی آسکتی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے تاجر روایتی پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینوں پر سرمایہ کاری کیے بغیر کم لاگت میں ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرسکتے ہیں۔
مرتضیٰ علی نے مزید کہا کہ کم منافع پر کام کرنے والے چھوٹے تاجر کسی بھی ابتدائی لاگت کا بغور جائزہ لیتے ہیں جبکہ ان کے اعتماد کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ رقم ان کے اکاؤنٹ میں کب منتقل ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں نے ہارڈویئر پر مبنی نظام کی لاگت کی رکاوٹ دور کرنے میں مدد دی ہے جس سے چھوٹی دکانوں، سیلونز اور گھروں سے کاروبار کرنے والے افراد کے لیے بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں شامل ہونا ممکن ہوا ہے۔
مرتضیٰ علی کے مطابق، مستقبل میں مالیاتی خدمات تیزی سے مکالماتی انداز اختیار کرسکتی ہیں، جہاں صارفین مختلف اسکرینز پر جانے کے بجائے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے مالیاتی ایپلی کیشنز سے براہِ راست بات چیت کرسکیں گے۔ ایسے نظام مستقبل میں ادائیگیوں، بچت، سرمایہ کاری اور قرضوں کے حوالے سے صارفین کو ان کی ضروریات کے مطابق رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں۔
تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ مالیاتی خدمات میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ اعتماد اور سکیورٹی انتہائی اہم ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اے آئی کا استعمال جتنا بڑھائیں گے، اپنے سکیورٹی نظام کو بھی اتنا ہی مضبوط بنانا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صارفین کے ڈیٹا پر ان کا اختیار بھی برقرار رہنا چاہیے۔

























Comments