میاں زاہد حسین کا مہنگائی کے بنیادی اسباب دور کرنے پر زور
- بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتیں کم کرنے اور سرکاری اداروں کے نقصانات روکنے کا مطالبہ
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم (پی بی آئی ایف) اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی کی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے سربراہ میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت کو مہنگائی کے بنیادی اسباب کے تدارک پر توجہ دینی چاہیے۔
بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل، ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش کی بلند قیمتیں نہ صرف غریب گھرانوں کے بجٹ پر دباؤ بڑھاتی ہیں بلکہ صنعتی پیداواری لاگت میں اضافے اور کاروباری مسابقت کو بھی کمزور کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
ناقص کارکردگی کی حامل سرکاری اداروں کو سالانہ تقریباً 800 ارب روپے کے نقصانات کا سامنا ہے جبکہ بجلی شعبے میں لائن لاسز، بجلی چوری اور کمزور وصولیوں کے باعث ہونے والے تقریباً ایک کھرب روپے کے نقصانات کا بوجھ بالآخر صارفین اور صنعتوں پر پڑتا ہے حالانکہ اس سے بچا جاسکتا ہے۔
رسد کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ کے ذخائر اور نقل و حرکت کی ڈیجیٹل نگرانی بھی مؤثر بنانا ہوگی تاکہ اضافی اخراجات کا بوجھ عوام اور پیداواری شعبوں پر منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔
میاں زاہد حسین نے عالمی بینک کی سفارشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے ہی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے کم آمدنی والے گھرانوں کو شفاف انداز میں ہدف پر مبنی مالی معاونت فراہم کررہا ہے۔
پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں کم آمدنی والے شہریوں کے لیے ہدف پر مبنی ایندھن ریلیف بھی ایک مثبت اقدام ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ غربت میں پائیدار کمی کے لیے امدادی پروگراموں سے بڑھ کر اقدامات کرنا ہوں گے۔
میکرو اکنامک استحکام کے ساتھ انسانی وسائل، بنیادی ڈھانچے، باعزت روزگار کے مواقع اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی پر سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔





















Comments