ٹرمپ کا ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں
- برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 72 سینٹ یا 0.7 فیصد کمی کے بعد 103.53 ڈالر فی بیرل ہوگئی
خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو کمی واقع ہوئی کیونکہ مشرق وسطیٰ میں رسد کے حوالے سے خدشات کچھ کم ہو گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ ملک اگلے ماہ ہونے والے امریکی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے سودمند مذاکرات جاری ہیں جس نے مارکیٹ کو متاثر کیا تھا۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 72 سینٹ یا 0.7 فیصد کمی کے بعد 103.53 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت بھی 52 سینٹ یا 0.6 فیصد گھٹ کر 90.97 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔
اس کے باوجود برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں ہفتہ وار اضافہ متوقع ہے، جمعرات کو قیمتیں 4 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھیں۔ اس کی وجہ رواں ہفتے کے آغاز میں مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل لے جانے والے بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ تھا۔
دوسری جانب دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک امریکا میں خلیج میکسیکو کے ساحل کی جانب بڑھنے والے سمندری طوفان کے باعث رسد میں تعطل کے باوجود ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمتوں میں ہفتہ وار معمولی کمی متوقع ہے۔
جمعرات کو ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے قبل ایران پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں جبکہ اس سے پہلے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ وہ انتخابات سے قبل حملے پر غور کررہے ہیں۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اسی روز رپورٹ کیا کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق تہران آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنی تجویز پر امریکا کے جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔
امریکا ایران کے ساتھ جاری جنگ ختم کرانے کے لیے اس پر معاشی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، یہ جنگ اب آٹھویں ماہ میں داخل ہوچکی ہے۔
امریکا نے جمعرات کو نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے ایرانی خام تیل، تیل کی مصنوعات اور پیٹروکیمیکلز کی ترسیل میں ملوث افراد، نیٹ ورکس اور 17 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔
خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت کو لاحق خطرات میں اکتوبر کے دوران اضافے کے باعث رواں ہفتے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل اور ایندھن کی مجموعی ترسیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا تھا۔
دوسری جانب، تیل کی عالمی منڈی کو خلیج میکسیکو میں آنے والے سمندری طوفان ’اسائیاس‘ کے اثرات کا بھی سامنا ہے۔
امریکی میرین منرلز ایڈمنسٹریشن کے مطابق، طوفان کے باعث تیل پیدا کرنے والے اداروں نے جمعرات تک یومیہ تقریباً 13 لاکھ بیرل پیداوار بند کردی جو خطے کی موجودہ تیل پیداوار کا 62.9 فیصد ہے۔























Comments