BR100 Decreased By (-0.16%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Decreased By (-0.21%)
KSE30 Decreased By (-0.28%)
BAFL 56.30 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 24.65 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 29.08 Decreased By ▼ -0.17 (-0.58%)
CNERGY 12.52 Increased By ▲ 0.13 (1.05%)
DFML 16.46 Decreased By ▼ -0.14 (-0.84%)
DGKC 184.38 Decreased By ▼ -1.14 (-0.61%)
FABL 92.13 Decreased By ▼ -0.54 (-0.58%)
FCCL 52.12 Increased By ▲ 0.05 (0.1%)
FFL 14.03 Increased By ▲ 0.02 (0.14%)
GGL 19.25 Increased By ▲ 0.14 (0.73%)
HBL 295.76 Decreased By ▼ -4.10 (-1.37%)
HUBC 200.15 Increased By ▲ 0.48 (0.24%)
HUMNL 9.38 Increased By ▲ 0.07 (0.75%)
KEL 6.05 Increased By ▲ 0.09 (1.51%)
LOTCHEM 26.38 Decreased By ▼ -0.22 (-0.83%)
MLCF 90.63 Decreased By ▼ -0.32 (-0.35%)
OGDC 306.12 Decreased By ▼ -2.54 (-0.82%)
PAEL 33.96 Increased By ▲ 0.23 (0.68%)
PIBTL 13.52 Decreased By ▼ -0.06 (-0.44%)
PIOC 235.46 Decreased By ▼ -1.15 (-0.49%)
PPL 218.94 Increased By ▲ 0.59 (0.27%)
PRL 93.07 Increased By ▲ 1.95 (2.14%)
SNGP 90.35 Decreased By ▼ -0.89 (-0.98%)
SSGC 23.06 Increased By ▲ 0.02 (0.09%)
TELE 7.17 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 12.38 Increased By ▲ 0.58 (4.92%)
TRG 55.29 Increased By ▲ 0.07 (0.13%)
UNITY 7.73 Increased By ▲ 0.08 (1.05%)
WTL 0.99 Decreased By ▼ -0.01 (-1%)
کاروبار اور معیشت

میاں زاہد حسین کا مہنگائی کے بنیادی اسباب دور کرنے پر زور

  • بجلی، گیس اور ایندھن کی قیمتیں کم کرنے اور سرکاری اداروں کے نقصانات روکنے کا مطالبہ
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم (پی بی آئی ایف) اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین اور ایف پی سی سی آئی کی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے سربراہ میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ حکومت کو مہنگائی کے بنیادی اسباب کے تدارک پر توجہ دینی چاہیے۔

بجلی، گیس، پٹرول، ڈیزل، ٹرانسپورٹ اور اشیائے خورونوش کی بلند قیمتیں نہ صرف غریب گھرانوں کے بجٹ پر دباؤ بڑھاتی ہیں بلکہ صنعتی پیداواری لاگت میں اضافے اور کاروباری مسابقت کو بھی کمزور کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

ناقص کارکردگی کی حامل سرکاری اداروں کو سالانہ تقریباً 800 ارب روپے کے نقصانات کا سامنا ہے جبکہ بجلی شعبے میں لائن لاسز، بجلی چوری اور کمزور وصولیوں کے باعث ہونے والے تقریباً ایک کھرب روپے کے نقصانات کا بوجھ بالآخر صارفین اور صنعتوں پر پڑتا ہے حالانکہ اس سے بچا جاسکتا ہے۔

رسد کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ کے ذخائر اور نقل و حرکت کی ڈیجیٹل نگرانی بھی مؤثر بنانا ہوگی تاکہ اضافی اخراجات کا بوجھ عوام اور پیداواری شعبوں پر منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔

میاں زاہد حسین نے عالمی بینک کی سفارشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے ہی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے کم آمدنی والے گھرانوں کو شفاف انداز میں ہدف پر مبنی مالی معاونت فراہم کررہا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں کم آمدنی والے شہریوں کے لیے ہدف پر مبنی ایندھن ریلیف بھی ایک مثبت اقدام ہے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ غربت میں پائیدار کمی کے لیے امدادی پروگراموں سے بڑھ کر اقدامات کرنا ہوں گے۔

میکرو اکنامک استحکام کے ساتھ انسانی وسائل، بنیادی ڈھانچے، باعزت روزگار کے مواقع اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی ترقی پر سرمایہ کاری بھی ضروری ہے۔

Comments

200 حروف