عطا اللہ تارڑ کا پاکستان تحریک انصاف پر ٹی ٹی پی کی بی ٹیم ہونے کا الزام
- موجودہ صوبائی حکومت نے خطے کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا ہے، وزیر اطلاعات
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے ہفتے کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو گزشتہ 13 برس کے دوران خیبر پختونخوا میں ناقص طرزِ حکمرانی اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان اور رکن صوبائی اسمبلی جلال خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
عطا اللہ تارڑ نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی بی ٹیم ہے اور ان کے رہنما دہشت گردوں کی مذمت نہیں کرتے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا کبھی امن کا گہوارہ اور قوم کے لیے باعثِ فخر تھا لیکن موجودہ صوبائی حکومت نے خطے کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دیا ہے اور شہریوں کو بنیادی سہولتوں اور ترقی کے مواقع سے محروم کردیا ہے۔
وفاقی وزیر نے نشاندہی کی کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا حکومت کو انسدادِ دہشت گردی کے لیے 700 ارب روپے فراہم کیے گئے، تاہم صوبائی حکومت محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی)، پولیس فورس اور فرانزک لیبارٹریوں سمیت سکیورٹی کے اداروں کو مضبوط بنانے میں ناکام رہی۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قبائلی اضلاع میں سیف سٹی منصوبے کے تحت کوئی کیمرے نصب نہیں کیے گئے۔
اس موقع پر وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا بھر میں بدعنوانی میں اضافہ ہورہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی فنڈز سیاسی اور سوشل میڈیا مہمات پر خرچ کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 13 برس کے دوران صوبائی حکومت ایک بھی یونیورسٹی قائم کرنے اور عوام کو بنیادی شہری سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اختیار ولی خان نے کہا کہ صوبے کا صحت کا نظام بدحالی کا شکار ہے جبکہ پولیس اہلکار جدید آلات کے بغیر دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سابقہ قبائلی اضلاع کی ترقی کو بری طرح نظرانداز کیا گیا ہے اور صوبائی حکومت نے نام نہاد انقلاب کے نام پر عوام کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن جلال خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت صوبے میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر اور تعمیری کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 برس سے خیبر پختونخوا میں ایک انتشار پسند گروہ حکمرانی کررہا ہے۔
جلال خان نے عزم ظاہر کیا کہ وہ صوبے اور اس کے عوام کو پی ٹی آئی کی قیادت کی مبینہ وسیع پیمانے پر بدعنوانی اور انتظامی ناکامیوں سے نجات دلانے کے لیے کردار ادا کریں گے۔





















Comments