بی وائی ڈی کی پاکستان میں انتہائی تیز رفتار چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف کرانے پر بات چیت
- ٹیکنالوجی کا متعارف کرانا انفرااسٹرکچر کی تیاری، متعلقہ فریقوں سے بات چیت اور مستقبل کی مصنوعات سے متعلق منصوبہ بندی پر منحصر ہوگا، لیو شیو لیانگ
چینی الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی بڑی کمپنی بی وائی ڈی پاکستان میں نیکسٹ جنریشن کی انتہائی تیز رفتار چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے لیے اپنے مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ بات چیت کررہی ہے۔ کمپنی کا مقصد ملک میں نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔
بی وائی ڈی کمپنی کے نائب صدر اور ایشیا پیسیفک آٹو سیلز ڈویژن کے جنرل منیجر لیو شیو لیانگ نے بی آر ریسرچ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس وقت اپنے مقامی پارٹنر میگا موٹر کمپنی کے ساتھ اس بات پر تبادلہ خیال کررہے ہیں کہ پاکستانی صارفین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اس ٹیکنالوجی کو بالآخر کس طرح متعارف کرایا جاسکتا ہے۔
لیو شیو لیانگ نے بتایا کہ بی وائی ڈی کی دوسری جنریشن کی بلیڈ بیٹری اس کی میگا فلیش چارجنگ ٹیکنالوجی کو توانائی فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا فائدہ چارجنگ کے دورانیے میں نمایاں کمی ہے جس سے الیکٹرک گاڑیوں کا روزمرہ استعمال کہیں زیادہ آسان ہوجاتا ہے اور نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جدید ترین چارجنگ ٹیکنالوجی نئی بیٹری پلیٹ فارم سے لیس نیکسٹ جنریشن کی گاڑیوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ تاہم بی وائی ڈی کی موجودہ گاڑیاں بھی چارجنگ کے اس نظام سے مطابقت رکھیں گی، البتہ چارجنگ کی رفتار مختلف ہوسکتی ہے۔
لیو نے کہا کہ پاکستان میں اس ٹیکنالوجی کا متعارف کرانا انفرااسٹرکچر کی تیاری، متعلقہ فریقوں سے بات چیت اور مستقبل کی مصنوعات سے متعلق منصوبہ بندی پر منحصر ہوگا۔
پاکستان میں قائم کیے جانے والے بی وائی ڈی کے مینوفیکچرنگ پلانٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کمپنی کے عہدیدار نے بتایا کہ یہ منصوبہ 2026 کی دوسری ششماہی میں افتتاح کے قریب ہے۔
لیو نے کہا کہ یہ چین سے باہر بی وائی ڈی کا چھٹا پلانٹ ہے جس کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہے اور اسے بڑھا کر سالانہ 50 ہزار گاڑیوں تک کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منصوبے کے بارے میں مزید تفصیلات مناسب وقت پر جاری کی جائیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ اس پلانٹ سے ایک ہزار 100 سے زائد ملازمتیں پیدا ہونے، پائیدار صنعتی ترقی کو فروغ ملنے اور 2034 تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اندازاً ایک لاکھ 65 ہزار ٹن کمی لانے کی توقع ہے۔























Comments