BR100 Increased By (1.91%)
BR30 Increased By (2.79%)
KSE100 Increased By (1.56%)
KSE30 Increased By (1.67%)
BAFL 56.76 Increased By ▲ 0.71 (1.27%)
BIPL 24.71 Increased By ▲ 0.21 (0.86%)
BOP 29.72 Increased By ▲ 0.83 (2.87%)
CNERGY 12.93 Increased By ▲ 0.72 (5.9%)
DFML 16.91 Increased By ▲ 0.20 (1.2%)
DGKC 186.97 Increased By ▲ 3.97 (2.17%)
FABL 93.53 Increased By ▲ 1.19 (1.29%)
FCCL 51.85 Increased By ▲ 1.85 (3.7%)
FFL 13.99 Increased By ▲ 0.17 (1.23%)
GGL 19.26 Increased By ▲ 0.59 (3.16%)
HBL 302.83 Increased By ▲ 7.62 (2.58%)
HUBC 201.33 Increased By ▲ 5.76 (2.95%)
HUMNL 9.27 Decreased By ▼ -0.02 (-0.22%)
KEL 5.59 Decreased By ▼ -0.03 (-0.53%)
LOTCHEM 25.72 Increased By ▲ 0.42 (1.66%)
MLCF 91.29 Increased By ▲ 3.05 (3.46%)
OGDC 317.05 Increased By ▲ 6.71 (2.16%)
PAEL 33.98 Increased By ▲ 0.97 (2.94%)
PIBTL 13.57 Increased By ▲ 0.38 (2.88%)
PIOC 236.64 Increased By ▲ 5.63 (2.44%)
PPL 221.12 Increased By ▲ 4.64 (2.14%)
PRL 94.38 Increased By ▲ 6.96 (7.96%)
SNGP 90.69 Increased By ▲ 2.62 (2.97%)
SSGC 23.07 Increased By ▲ 0.59 (2.62%)
TELE 7.24 Increased By ▲ 0.27 (3.87%)
TPLP 11.74 Increased By ▲ 0.14 (1.21%)
TRG 55.34 Increased By ▲ 3.89 (7.56%)
UNITY 7.75 Increased By ▲ 0.01 (0.13%)
WTL 1.00 Increased By ▲ 0.01 (1.01%)
دنیا

روشنی اور دماغ پر تحقیق پر امریکی، جرمن سائنس دان نوبیل طب انعام کے حقدار قرار

  • نوبیل انعام یافتہ سائنس دانوں نے آپٹو جینیٹکس تکنیک تیار کی، جو روشنی کے ذریعے انفرادی عصبی خلیوں کو انتہائی درستگی سے فعال یا غیر فعال کرکے دماغ کے افعال کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے
شائع اپ ڈیٹ

امریکی سائنس دان کارل ڈائسرَوتھ اور جرمنی کے پیٹر ہیگیمَن اور جارج ناگل نے پیر کو 2026 کا نوبیل انعام برائے فعلیات و طب حاصل کرلیا۔ انہیں آپٹو جینیٹکس کی تیاری پر یہ اعزاز دیا گیا، جو روشنی کے ذریعے دماغ کے انفرادی عصبی خلیوں کو کنٹرول کرنے کی تکنیک ہے۔

سویڈن کے کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی نوبیل اسمبلی نے کہا کہ 54 سالہ ڈائسرَوتھ، 71 سالہ ہیگیمَن اور 73 سالہ ناگل کو ’’روشنی کے ذریعے فعال ہونے والے آئن چینلز اور آپٹو جینیٹکس سے متعلق دریافتوں‘‘ پر نوبیل انعام کے لیے منتخب کیا گیا۔

کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی نوبیل اسمبلی کے سیکریٹری جنرل تھامس پرل مین نے کہا، ’’یہ طریقہ (آپٹو جینیٹکس) زندہ دماغ میں انفرادی عصبی خلیوں کی سرگرمی کو فعال یا غیر فعال کرنا ممکن بناتا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’یہ طریقہ اب دنیا بھر کی تجربہ گاہوں میں دماغ کے اسرار سے پردہ اٹھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘

جینیات کی پروفیسر اور نوبیل کمیٹی برائے فعلیات و طب کی رکن اینا ویدیل نے کہا کہ اس دریافت سے علمِ اعصاب میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے، تاہم یہ صرف ابتدا ہے۔

انہوں نے کہا، ’’پہلی بار ہم حقیقتاً یہ سمجھنا شروع کرسکتے ہیں کہ دماغ معلومات کو کیسے پراسیس کرتا ہے اور مختلف عصبی خلیے پورے دماغ میں ایک دوسرے کے ساتھ کیسے تعامل کرتے ہیں۔‘‘

تینوں نوبیل انعام یافتگان 12 ملین سویڈش کرونا (12 لاکھ ڈالر) کی انعامی رقم مشترکہ طور پر حاصل کریں گے۔ رواں سال طبیعیات، کیمیا، ادب، امن اور معاشیات کے نوبیل انعامات کا اعلان آئندہ دنوں میں کیا جائے گا، جبکہ 2026 کے نوبیل امن انعام کے حقدار یا حقداروں کا اعلان جمعہ کو ہوگا۔

طحالب سے ہونے والی اہم پیش رفت

اس اہم دریافت کا آغاز 1990 کی دہائی کے اوائل میں ہوا، جب ہیگیمَن نے یہ تحقیق شروع کی کہ طحالب کی ایک قسم کلیمیڈوموناس روشنی پر نصف ملی سیکنڈ میں کس طرح ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے مفروضہ پیش کیا کہ ایک ہی پروٹین روشنی کو محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ آئن چینل کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔

ناگل نے مینڈک کے انڈوں میں کلیمیڈوموناس کے جین داخل کرکے اس مفروضے کو جانچا اور چینل روڈوپسِن-2 دریافت کیا، جو روشنی سے حساس آئن چینل ہے۔

2003 میں ناگل اور ہیگیمَن نے اپنی تحقیق شائع کی، جس میں بتایا گیا کہ اس پروٹین کو انسانی اور ہیمسٹر کے خلیوں میں داخل کرکے روشنی کے ذریعے برقی تحریک پیدا کی جاسکتی ہے۔ دو سال بعد اسٹینفورڈ یونیورسٹی میں ڈائسرَوتھ نے چوہوں کے عصبی خلیوں میں اس تکنیک کا عملی مظاہرہ کیا، جبکہ 2006 میں اس طریقے کو ’’آپٹو جینیٹکس‘‘ کا نام دیا گیا۔

ڈائسرَوتھ نے کہا، ’’ہم مل کر تحقیقی مقالے شائع کرتے ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران ہم نے مل کر بہت سی دریافتیں کی ہیں، ملاقاتیں کی ہیں، ساتھ بیٹھ کر شراب نوشی کی ہے، اس لیے ان دونوں کے ساتھ یہ انعام بانٹنا بالکل بہترین بات ہے۔‘‘

ڈائسرَوتھ کی اہلیہ مشیل مونجے۔ڈائسرَوتھ، جو دماغی سرطان پر اہم تحقیق کرچکی ہیں، نے بتایا کہ کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے فون آنے کے وقت دونوں سو رہے تھے۔

انہوں نے رائٹرز کو بتایا، ’’یہ ایک خوشگوار انداز میں نیند سے جگانے والی کال تھی۔ میں بہت پرجوش ہوں، انتہائی اعزاز محسوس کر رہی ہوں اور مجھے ان پر بے حد فخر ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے شوہر کی تحقیق نے ’’صحت مند حیاتیاتی نظام اور بیماریوں کے بارے میں نئی جہتوں کے دروازے کھول دیے ہیں۔‘‘

علاج کی تیاری پر کام جاری

تینوں نوبیل انعام یافتگان کی تحقیق دماغی امراض کے بارے میں سمجھ بوجھ میں اضافہ کر رہی ہے۔ جانوروں پر کیے جانے والے تجربات کے ذریعے شیزوفرینیا، الزائمر، پارکنسن، مرگی اور نشے کی لت جیسے امراض کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو متاثر کرتے ہیں اور جن کے علاج کے مؤثر اختیارات محدود ہیں۔

ڈائسرَوتھ نے آپٹو جینیٹکس کے ذریعے موٹر کارٹیکس میں مخصوص عصبی خلیوں کو فعال کرکے چوہوں کی مونچھوں کی حرکت کو کنٹرول کیا۔ انہوں نے روشنی کا استعمال کرتے ہوئے سوئے ہوئے چوہوں کو جگانے کا تجربہ بھی کیا، جس سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ مخصوص عصبی خلیے بیداری کو کنٹرول کرتے ہیں۔

ویدیل نے کہا، ’’ڈیمنشیا، مرگی اور نشے کی لت کے چوہوں پر ماڈل موجود ہیں۔ ان بیماریوں میں چوہوں کے اندر کون سے خلیے فعال ہوتے ہیں، یہ سمجھ کر ہم یہ جان سکتے ہیں کہ انسانوں میں کہاں توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔‘‘

محققین اس تکنیک کو ریٹینائٹس پگمنٹوسا کے باعث بینائی سے محروم افراد کی بصارت بحال کرنے کی کوششوں میں بھی استعمال کر رہے ہیں۔ یہ ایک ترقی پذیر آنکھوں کی بیماری ہے جس میں روشنی کے لیے حساس پروٹین آنکھ کے پردۂ بصارت میں داخل کیا جاتا ہے۔

کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کے نیورولوجی کے پروفیسر پر سوینسن نے کہا، ’’مریضوں کے پردۂ بصارت میں موجود روشنی محسوس کرنے والے خلیے، یعنی راڈز اور کونز، ختم ہوجاتے ہیں، تاہم صحت مند خلیے باقی رہتے ہیں۔ محققین آپٹو جینیٹکس کے ذریعے ان صحت مند خلیوں کو متحرک کرتے ہیں، جس سے بصری اعصاب فعال ہوتا ہے اور دماغ میں بصری ادراک پیدا ہوتا ہے۔‘‘

سائنس دانوں کو امید ہے کہ آپٹو جینیٹکس کی مدد سے کوکلیئر امپلانٹس کو بھی بہتر بنایا جاسکے گا اور موجودہ برقی آلات کے مقابلے میں سماعت کے اعصاب کو زیادہ درستگی سے متحرک کرنا ممکن ہوگا۔

ان علاجی طریقوں میں سب سے زیادہ پیش رفت امریکا میں قائم بایوٹیکنالوجی کمپنی میپ لائٹ کی آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر تھراپی اور امریکا ہی میں قائم نینو اسکوپ کی ریٹینائٹس پگمنٹوسا کے لیے بصارت بحال کرنے والی دوا میں ہوئی ہے، تاہم دونوں علاج ابھی مریضوں تک پہنچنے میں کچھ وقت لیں گے۔

حدود سے آگے بڑھتی تحقیق

بارسلونا کے ہسپتال ڈیل مار میں نیورل کمپیوٹیشن لیبارٹری کے سربراہ اور محقق مینوئل ویلرو نے کہا کہ آپٹو جینیٹکس نے ’’سائنس اور سائنس فکشن کے درمیان حدود کو آگے بڑھانے‘‘ میں مدد دی ہے۔

ویلرو نے کہا، ’’تجربہ گاہوں میں جانوروں پر ہم جذبات کو کنٹرول کرنے، مصنوعی یادیں تخلیق کرنے اور حتیٰ کہ الزائمر کے ماڈلز میں کھوئی ہوئی یادیں بحال کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ شاید اس تکنیک سے وابستہ سب سے بڑا وعدہ، جسے ابھی پورا ہونا باقی ہے، اس کے ابتدائی مقاصد میں سے ایک ہی ہے: انسانی دماغ کے امراض کے علاج کی صلاحیت۔‘‘

بوسٹن میں پیدا ہونے والے ڈائسرَوتھ ابتدا میں نیورو سرجری کے شعبے میں جانے کے خواہش مند تھے، تاہم تکلیف میں مبتلا مریضوں کو دیکھنے کے بعد انہوں نے نفسیات کا شعبہ اختیار کرلیا۔ وہ یہ سوال اٹھاتے تھے کہ ڈپریشن انسان سے خوشی کیوں چھین لیتا ہے اور آٹزم کی وجہ کیا ہے۔

ہیگیمَن کو ابتدا ہی سے سائنس اور تحقیق میں گہری دلچسپی تھی اور وہ سائنسی تحقیق کو نامعلوم خطے کی نقشہ سازی سے تشبیہ دیتے رہے ہیں۔

ناگل پانچ برس کی عمر میں شدید بیمار ہوگئے تھے اور کئی گرمیاں سرجری کے مراحل سے گزارتے ہوئے گزاریں۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں وہ استاد بھی رہے، ایک کیفے کھولا اور شوقیہ طور پر ہینگ گلائیڈنگ بھی شروع کی۔

Comments

200 حروف