گھٹنے کی تکلیف برقرار، سِنر شنگھائی ماسٹرز سے دستبردار
- سِنر کی عدم شرکت سے زویریف کے لیے عالمی نمبر ایک بننے کی راہ ہموار، بیجنگ اور شنگھائی میں کامیابی جرمن کھلاڑی کو پہلی بار ٹاپ پوزیشن دلا سکتی ہے
عالمی نمبر ایک یانک سِنر آئندہ ہفتے ہونے والے شنگھائی ماسٹرز سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ وہ جولائی میں ومبلڈن ٹائٹل جیتنے کے بعد سے گھٹنے کی انجری سے بحالی کے مرحلے میں ہیں اور اسی وجہ سے ٹینس سے دور ہیں۔
25 سالہ اطالوی کھلاڑی نے آل انگلینڈ کلب میں کامیابی کے بعد سے کوئی میچ نہیں کھیلا۔ وہ شمالی امریکا کے ہارڈ کورٹ مرحلے، جس میں یو ایس اوپن بھی شامل تھا، کے علاوہ بیجنگ میں جاری اے ٹی پی 500 ایونٹ میں بھی شرکت نہیں کرسکے۔
سِنر نے ہفتے کو انسٹاگرام پر لکھا، ’’بدقسمتی سے، میں اس سال اپنی خواہش کے مطابق رؤلیکس شنگھائی ماسٹرز میں شرکت نہیں کر سکوں گا۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’مجھے شنگھائی کے شائقین کے سامنے کھیلنا ہمیشہ اچھا لگتا ہے اور مجھے بہت افسوس ہے کہ میں اگلے ہفتے ایسا نہیں کر سکوں گا۔‘‘
ماسٹرز 1000 ایونٹ 7 سے 18 اکتوبر تک جاری رہے گا، جس میں مضبوط کھلاڑیوں کا میدان موجود ہے۔ اس میں چار مرتبہ کے چیمپئن نوواک جوکووچ کے علاوہ الیگزینڈر زویریف، کارلوس الکاراز، دانیل میدویدیف، بین شیلٹن، فیلکس اوژے الیاسیم اور دفاعی چیمپئن ویلنٹن ویشرے بھی شامل ہیں۔
سِنر نے 2024 میں شنگھائی کا ٹائٹل جیتا تھا، جہاں فائنل میں انہوں نے جوکووچ کو شکست دی تھی۔
سِنر کی عدم شرکت سے زویریف کو سیزن کا اختتام عالمی نمبر ایک کی حیثیت سے کرنے کی دوڑ میں پیش قدمی کا موقع مل سکتا ہے۔ رواں سال فرنچ اوپن اور یو ایس اوپن کے چیمپئن جرمن کھلاڑی اب اطالوی حریف کے سب سے قریب پہنچ چکے ہیں۔
اگر زویریف بیجنگ میں چائنا اوپن اور شنگھائی ماسٹرز، دونوں ٹورنامنٹس جیت لیتے ہیں تو وہ پہلی بار عالمی رینکنگ میں سرفہرست مقام حاصل کر سکتے ہیں۔



















Comments