امریکی دباؤ پر جی 7 کا ڈیزل، تیل کے ذخائر جاری کرنے پر اتفاق
گروپ آف سیون (جی سیون) ممالک نے جمعہ کو ہنگامی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل ڈیزل اور خام تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا جس کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خیرمقدم کیا ہے۔ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث بڑھتی ایندھن کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے عالمی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ایران کے ساتھ جنگ کے باعث مارچ میں بین الاقوامی توانائی ایجنسی کی رابطہ کاری کے تحت تاریخ میں ہنگامی ذخائر سے سب سے بڑی مقدار میں تیل جاری کیا گیا تھا۔
جی سیون نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ پہلے ہی پوری کی جا چکی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم آئی ای اے کے ذریعے 10 کروڑ بیرل کے مربوط اجرا کے ساتھ اپنے وعدوں پر عملدرآمد کریں گے۔
بیان کے مطابق یہ عمل فوری طور پر شروع ہوگا اور چار ماہ تک جاری رہے گا جبکہ جی 7 کے ارکان اور شراکت دار ممالک پہلے 20 دنوں کے دوران بڑی مقدار میں ڈیزل کے ذخائر جاری کریں گے۔
بیان میں خام تیل، ڈیزل اور دیگر مصنوعات کی جاری کی جانے والی مقدار کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ اس عمل میں کون سے ممالک شریک ہوں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ضرورت کے مطابق ڈیزل کے مزید ذخائر جاری کرنے کے امکان پر بات چیت کے لیے ہم آنے والے دنوں میں آئی ای اے کے پلیٹ فارم پر اجلاس منعقد کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ یورپ نے ابھی اپنے بھاری مقدار میں موجود ڈیزل کے ذخائر میں سے بڑی مقدار جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ عمل فوری طور پر شروع ہوگا۔
ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکا میں ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
رائٹرز نے جمعرات کو بات چیت سے واقف تین افراد کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جرمنی اور فرانس سے کہا تھا کہ وہ ہنگامی ڈیزل کے ذخائر میں کمی لائیں، بصورت دیگر امریکا کی جانب سے ڈیزل کی برآمد پر ممکنہ پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جی 7 کے بیان میں کہا گیا کہ رکن ممالک ایک دوسرے کے خلاف توانائی کی مصنوعات کی برآمد پر پابندیاں عائد کرنے سے گریز کریں گے۔
انرجی اسپیکٹس کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا کہ یہ مخصوص اور پابند عہد کے بجائے ایک سیاسی بیان ہے جبکہ بڑے اعداد و شمار کا مقصد صدر ٹرمپ کو ڈیزل کی برآمد پر پابندی عائد نہ کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔
ایران کے ساتھ جنگ کے باعث خلیجی ممالک سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد یورپ نے رواں سال امریکا سے ڈیزل کی درآمد میں اضافہ کیا ہے۔
بات چیت سے واقف تین ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ یورپی یونین کی حکومتوں نے جمعے کو فرانس کی اس تجویز پر غور کیا جس کے تحت یورپی ممالک 5 کروڑ بیرل ڈیزل جبکہ آئی ای اے کے رکن ممالک 5 کروڑ بیرل خام تیل اپنے ذخائر سے جاری کریں گے۔
یورو اسٹیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 5 کروڑ بیرل ڈیزل کا اجرا یورپی یونین کے ڈیزل اور گیس آئل کے مجموعی ہنگامی ذخائر کا تقریباً 17 فیصد بنتا ہے، جو یورپی بلاک کی سالانہ کھپت کا تقریباً 3 فیصد ہے۔
ذخائر جاری کرنے سے متعلق بات چیت کی اطلاعات کے بعد امریکی ڈیزل فیوچرز کی قیمتوں میں کمی آئی اور یہ 4 فیصد سے زائد گر کر 4.4491 ڈالر فی گیلن رہ گئی۔ ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق یورپ میں ڈیزل کے بینچ مارک فیوچرز کی قیمت میں بھی 90 ڈالر فی میٹرک ٹن سے زیادہ کمی ہوئی۔
مارچ میں 32 رکنی آئی ای اے کی رابطہ کاری کے تحت ہونے والے ذخائر کے اجرا میں اسٹریٹجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کیا گیا تھا۔
آئی ای اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے رواں ہفتے بتایا کہ رکن ممالک اس مقدار میں سے تقریباً دو تہائی تیل جاری کر چکے ہیں۔



















Comments