آئی ایم ایف جائزہ: قرض پروگراموں کی تشکیل میں ’کم مگر بنیادی‘ اصلاحات کا مطالبہ
- آئی ایم ایف بار بار مختلف نوعیت کے جھٹکوں سے دوچار دنیا کے لیے اپنے قرض پروگراموں کو ازسرِنو ترتیب دے رہا ہے، جس میں عمل درآمد اور نتائج کو بہتر بنانے کے لیے زیادہ بنیادی اصلاحات اور نئے طریقۂ کار پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے
آئی ایم ایف نے قرض پروگراموں کی تشکیل اور عمل درآمد میں مخصوص نوعیت کی بہتریوں پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ زیادہ بحران زدہ عالمی معیشت کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کم مگر زیادہ بنیادی اصلاحات پر توجہ مرکوز کی جائے۔
سول سوسائٹی کے گروہوں کو خدشہ ہے کہ اس جائزے کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک کو مزید سخت کفایت شعاری اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ایسے وقت میں جب وہ بڑھتے ہوئے عوامی قرضوں، قرض لینے کی بڑھتی لاگت، سرکاری ترقیاتی امداد میں نمایاں کمی اور مسلسل بڑے معاشی جھٹکوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
آئی ایم ایف نے کہا کہ سفارشات میں مالیاتی ایڈجسٹمنٹ، یعنی بجٹ اخراجات میں کٹوتیوں، کو زیادہ ابتدائی مرحلے پر اور مسلسل بنیادوں پر کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے، کیونکہ اس سے پروگرام کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
تاہم فنڈ نے زور دیا کہ مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کو ابتدائی مرحلے میں لانے کا عمل صرف اسی حد تک ہونا چاہیے جہاں تک یہ قابلِ عمل ہو، جبکہ اس کے ساتھ اقتصادی نمو بڑھانے کے لیے حقیقت پسندانہ اقدامات اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے سماجی اخراجات کی مناسب سطح بھی برقرار رکھی جائے۔
آئی ایم ایف کے شعبہ حکمتِ عملی، پالیسی اور جائزہ کے نائب ڈائریکٹر رشی گوئل نے کہا، ’’مجموعی طور پر موجودہ فریم ورک مناسب ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’لیکن چونکہ حالات تبدیل ہو رہے ہیں اور متعدد رکن ممالک میں سماجی دباؤ موجود ہے، اس لیے ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ہماری اصلاحات حالات کے مطابق مناسب طور پر وضع کی جائیں۔‘‘
ان کے بقول، ’’اس کا مطلب ہے کہ کم مگر زیادہ بنیادی اصلاحات پر واضح توجہ مرکوز کی جائے۔‘‘
نئے طریقۂ کار کی ضرورت
آئی ایم ایف کی جانب سے پروگراموں کی تشکیل اور شرائطِ کار کے جائزے میں، جو 2002ء میں رہنما اصول وضع کیے جانے کے بعد تیسرا جائزہ ہے، جنوری 2018ء سے دسمبر 2024ء تک آئی ایم ایف کی معاونت سے چلنے والے پروگراموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اس عرصے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران امریکا اور چین کے درمیان تجارتی جنگ، کووِڈ-19 کی عالمی وبا اور روس کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملہ جیسے واقعات پیش آئے۔
آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے ان سفارشات کی منظوری دے دی، جن میں زیادہ متوازن اصلاحات پر زور دیا گیا ہے۔ ان اصلاحات میں محصولات میں اضافے اور مالیاتی استحکام، دونوں ذرائع کو بروئے کار لانے، خطرات کا بہتر جائزہ لینے اور منصوبوں کی مالی اعانت کے حوالے سے زیادہ حقیقت پسندانہ انداز اپنانے کی سفارش کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف نے کہا کہ اس کا مقصد عمل درآمد اور نتائج کو بہتر بنانا ہے، معیار میں کمی لانا نہیں۔ یہ جائزہ کم آمدنی والے ممالک کے لیے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے مشترکہ قرض فریم ورک میں کی جانے والی تبدیلیوں کے بعد سامنے آیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے ممالک کی معیشتوں کا جائزہ لینے کے طریقۂ کار کا ایک اور جائزہ بھی جلد متوقع ہے۔
گوئل نے کہا کہ جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ عالمی قرض دہندہ ادارے نے سات سالہ عرصے کے دوران بحرانوں کا تیزی سے اور لچکدار انداز میں جواب دیا اور متعدد ممالک کو استحکام بحال کرنے میں مدد دی۔
تاہم ان کے بقول تمام ممالک درمیانی مدت کا استحکام بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پروگراموں کی تشکیل کے طریقۂ کار میں تبدیلیاں ضروری ہیں۔
گوئل نے کہا کہ پالیسی میں معمولی تبدیلیوں کے علاوہ آئی ایم ایف درمیانی مدت کی ساختی اصلاحات کے لیے ایک نیا طریقۂ کار متعارف کرا رہا ہے، جس کے تحت اہم اصلاحات کی نشاندہی کرنے کے بعد ان کی ترجیحات اور ترتیب طے کی جائے گی اور انہیں متعلقہ ملک کے حالات کے مطابق ڈھالا جائے گا، تاکہ ممالک اپنے دستیاب وسائل سے زیادہ سے زیادہ نتائج حاصل کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ دیگر نئے طریقۂ کار سے آئی ایم ایف کی ٹیموں اور عملے کی یہ صلاحیت بہتر ہوگی کہ کسی نئے جھٹکے کی صورت میں پروگرام کی سمت میں بروقت تبدیلی کی جاسکے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف بعض اوقات اپنی ہی پالیسیوں پر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے، جس کے باعث مصر، پاکستان اور ارجنٹینا جیسے بعض ممالک ایک قرض پروگرام سے دوسرے پروگرام کی طرف منتقل ہوتے رہے ہیں۔
جوبلی یو ایس اے نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایرک لی کومپٹ نے کہا کہ اگرچہ آئی ایم ایف کی پالیسیاں بعض ممالک کے لیے مددگار ثابت ہوئی ہیں، لیکن دیگر ممالک میں ان کے نتیجے میں صحتِ عامہ جیسی بنیادی سہولتوں کو نقصان بھی پہنچا اور غریب ترین لوگوں کے لیے درکار اخراجات میں بھی کمی ہوئی۔
انہوں نے کہا، ’’سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک یہ ہے کہ ممالک دوبارہ قرضوں کے بوجھ تلے آجاتے ہیں، کیونکہ سابقہ مالیاتی پالیسیاں، سابقہ شرائطِ کار سے متعلق جائزے اور قرضوں کے جائزے ممالک کو بحران سے باہر رکھنے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوئے۔‘‘
آئی ایم ایف کے سابق سربراہِ حکمتِ عملی مارٹن میولیزن نے کہا کہ انہوں نے یہ جائزہ نہیں دیکھا، تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا آئی ایم ایف نے پروگرام کی شرائط پوری کرنے پر خاطر خواہ اصرار کیا اور شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں قرض کی رقوم کی فراہمی روکنے کا اقدام کیا۔
انہوں نے کہا، ’’انہیں دراصل خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ بنیادی طور پر کیا تبدیل ہوا ہے اور معاملات کہاں واقعی غلط سمت میں گئے؟‘‘
ان کے بقول، ’’اور یہ بھی کہ دنیا میں جو کچھ ہورہا ہے، اس کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کا موقع پیدا کرنے کے لیے بنیادی طور پر کیا تبدیلیاں کی جائیں گی۔‘‘
























Comments