کورنگی ہاربر پر 100 ایکڑ پر محیط میری کلچرل اسٹیٹ قائم کرنے کا منصوبہ پیش
- اس اسٹیٹ میں میری کلچر اور ایکوا کلچر کے ساتھ ہیچریاں، تحقیق و جدت، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، کولڈ چین اور تجارتی سہولیات کو مربوط ترقیاتی فریم ورک کے تحت قائم کیا جائیگا، وفاقی وزیر
وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کورنگی فشریز ہاربر اتھارٹی میں 100 ایکڑ پر محیط میری کلچر انویسٹمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ اسٹیٹ قائم کرنے کا منصوبہ پیش کردیا۔
وزارت سے جاری پریس ریلیز کے مطابق مجوزہ منصوبے پر بریفنگ کے دوران وفاقی وزیر نے کہا کہ اس اسٹیٹ میں میری کلچر اور ایکوا کلچر کے ساتھ ہیچریاں، تحقیق و جدت، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، کولڈ چین اور تجارتی سہولیات کو ایک مربوط ترقیاتی فریم ورک کے تحت قائم کیا جائے گا۔
میری کلچرل ایکو سسٹم آپریشنز سے مراد ساحلی اور سمندری ماحول میں سمندری کاشت کاری کے نظام کی انتظام کاری اور ان کا عملی طور پر کام کرنا ہے۔ اس میں مچھلی، جھینگے، سیپ، مسلز اور سمندری گھاس سمیت سمندری حیاتیات کی پرورش کے ساتھ ساتھ اردگرد کے ماحولیاتی نظام کے ساتھ ان کے باہمی تعامل کو بھی منظم کرنا شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ماسٹر پلان کے تحت اسٹیٹ کو چار بڑے زونز میں تقسیم کیا جائے گا جن میں 30 ایکڑ پر میری کلچر زون، 20 ایکڑ پر ہیچری زون، 20 ایکڑ پر ایکوا ریسرچ پارک اور 20 ایکڑ پر کمرشل ڈسٹرکٹ شامل ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ جدید میری کلچر نظام کی ترقی سے پاکستان کو زیادہ مالیت کی حامل ماہی گیری کی پیداوار بڑھانے، آبی حیاتیات کے بیج کی پیداوار بہتر بنانے، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہیچری زون میں جدید آبی بیج کی پیداوار جبکہ ریسرچ پارک میں تحقیق، جدت اور تربیت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
مجوزہ اسٹیٹ میں پروسیسنگ اور کولڈ چین انفرااسٹرکچر کے علاوہ تجارتی و رہائشی سہولیات، پائیدار بنیادی ڈھانچہ اور گرین سپیسز بھی شامل ہوں گی۔
منصوبے کے بنیادی ڈھانچے میں اندرونی سڑکوں کا نیٹ ورک، بجلی اور قابل تجدید توانائی کی سہولیات، پانی کی فراہمی و ٹریٹمنٹ، گندے پانی کی صفائی، انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی، اسمارٹ سٹیٹ مینجمنٹ، سکیورٹی و نگرانی، گرین بیلٹس اور لینڈ سکیپنگ شامل ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد سرمایہ کاری کو راغب کرنا، برآمدات میں اضافہ، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ٹیکنالوجی و جدت کو فروغ دینا ہے، جو ملک کی بلیو اکانومی کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار بلیو اکانومی کے قیام اور ساحلی آبادیوں کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے جدید بحری انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ضروری ہے۔
























Comments