آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار، بحری جہازوں کی آمدورفت محدود
- شپنگ ڈیٹا کے مطابق ہفتے کے اختتام پر 12 کمرشل مال بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے
شپنگ ڈیٹا کے مطابق ہفتے کے اختتام پر 12 کمرشل مال بردار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ اس سے ایک ہفتہ قبل اختتامِ ہفتہ پر یہ تعداد 35 تھی۔ خلیج میں امریکا اور ایران کے درمیان تعطل برقرار رہنے کے باعث کشیدگی بھی جاری رہی۔
جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے دنیا کے 20 فیصد حصے کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی، تاہم اس راستے سے نظر آنے والی بحری آمدورفت تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ اس کے باوجود مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک اپنے ٹرانسپونڈر بند کرکے سفر کرنے والے آئل ٹینکروں کے ذریعے تیل برآمد کر رہے ہیں۔
ٹینکروں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے قابل بحری جہازوں میں سے چار جہاز اتوار کو آبنائے ہرمز سے باہر نکلے۔ ان میں دو ٹینکر ریفائن شدہ تیل کی مصنوعات لے جا رہے تھے، جبکہ دو خالی جہاز بلک اشیا اور گیس کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ تجزیاتی ادارے کیپلر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مزید دو چھوٹے آئل ٹینکر خلیج میں داخل ہوئے۔
اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کے روز پانچ بحری جہاز زرعی مصنوعات، مائع پٹرولیم گیس اور کھاد لے کر خلیج سے باہر نکلے، جبکہ ایک خالی بہت بڑا گیس بردار جہاز خلیج میں داخل ہوا۔
28 فروری کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ عموماً تقریباً 125 بڑے تجارتی بحری جہاز گزرتے تھے، جن میں آئل ٹینکرز، گیس بردار جہاز، بلک کارگو جہاز اور کنٹینر بردار بحری جہاز شامل تھے۔
























Comments