جی ایس پی پلس کی توسیع: اپٹما، یورپی یونین کے درمیان مذاکرات شروع
- موجودہ اسکیم کی مدت ختم ہونے کے بعد اسے برقرار رکھنے کے لیے انسانی حقوق، محنت کشوں کے حقوق اور ماحولیاتی اصلاحات کے حوالے سے پیش رفت انتہائی اہم ہوگی، سفیر
پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت اور یورپی یونین نے یورپی یونین کی جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) تجارتی سہولت کی تجدید کے حصول کے لیے بات چیت کا آغاز کردیا ہے۔ یورپی یونین کے سفیر رائمونڈاس کاروبلس نے زور دیا ہے کہ 2027 میں موجودہ اسکیم کی مدت ختم ہونے کے بعد اسے برقرار رکھنے کے لیے انسانی حقوق، محنت کشوں کے حقوق اور ماحولیاتی اصلاحات کے حوالے سے پیش رفت انتہائی اہم ہوگی۔
سفیر نے فرسٹ سیکریٹری کرٹ اجاما، ڈویلپمنٹ کوآپریشن کے منیجر تھیس منکسگارڈ ہینسن اور سینئر ماہرِ معاشیات و تجارتی مشیر حسنین اے افتخارکے ہمراہ جمعہ کو آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) ہاؤس میں اپٹما کے اعلیٰ عہدیداران سے ملاقات کی۔
چیئرمین اپٹما کامران ارشد، چیئرمین منتخب اسد شفیع اور دیگر سینئر نمائندوں نے یورپی یونین کے وفد کا استقبال کیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے یورپی یونین کے سفیر نے کہا کہ جی ایس پی پلس سہولت سے آئندہ بھی استفادہ کرنے کے لیے پاکستان کو مختلف بین الاقوامی قوانین اور کنونشنز پر مؤثر قانون سازی اور ان کے عملی نفاذ میں واضح پیشرفت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کاروباری برادری بالعموم اور برآمد کنندگان بالخصوص پر زور دیا کہ وہ متعلقہ بین الاقوامی کنونشنز پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور یورپی کمیشن کی جانب سے انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، طرز حکمرانی اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق اٹھائے گئے نکات پر حکومت کے ساتھ فعال رابطہ رکھیں تاکہ آئندہ دس برسوں کے لیے جی ایس پی پلس کی توسیع کی راہ ہموار ہو سکے۔
سفیر نے پائیداری کے تقاضوں کی تکمیل کے حوالے سے پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کے لیے یہ ایک انتہائی اہم ترجیح ہے اور اس حوالے سے صنعت کی پیش رفت قابلِ تحسین ہے
چیئرمین اپٹما کامران ارشد نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور جی ایس پی پلس سہولت کے باعث پاکستان اپنی 78 فیصد اشیا یورپی منڈی میں ڈیوٹی فری برآمد کرنے کے قابل ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سہولت نے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کو جدید بنانے میں معاونت کی ہے جبکہ 2050 تک خالص صفر کاربن اخراج کا ہدف حاصل کرنے کی پاکستان کی کوششوں میں بھی مدد دی ہے۔
کامران ارشد نے خبردار کیا کہ جی ایس پی پلس کی سہولت ختم ہونے سے برآمدات پر شدید اثر پڑ سکتا ہے جس سے ملک کو سالانہ ایک ٹریلین روپے سے زائد کا نقصان ہوسکتا ہے اور ملوں کی بندش اور بے روزگاری میں اضافے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے اثرات بینکاری، رئیل اسٹیٹ اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں تک بھی پھیل سکتے ہیں، کیونکہ ٹیکسٹائل کمپنیوں کا بینکوں کے مجموعی واجب الادا قرضوں میں 40 فیصد سے زائد حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سہولت میں خلل پڑنے سے مزدوروں کے حقوق، انسداد بدعنوانی کے اقدامات اور منشیات کی روک تھام سے متعلق اقدامات میں ہونے والی پیش رفت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
اپٹما کے چیئرمین نارتھ اسد شفیع نے کہا کہ ٹیکسٹائل صنعت نے اپنے توسیعی منصوبوں کے تحت یورپی یونین سے حاصل کی گئی مشینری پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ انہوں نے سفیر پر زور دیا کہ ممکنہ طور پر جی ایس پی پلس کی سہولت ختم ہونے سے تحفظ کے لیے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو تیز رفتاری سے حتمی شکل دینے کی کوششوں کی حمایت کریں، جو بھارت اور یورپی یونین کے درمیان ایف ٹی اے کی طرز پر ہو۔
شفیع نے سفیر کو اپٹما کے ضابطوں کی پابندی سے متعلق اقدامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا، جن میں مجوزہ نیشنل کمپلائنس انٹیٹی کے قیام کی حمایت بھی شامل ہے، اور پاکستان کی جانب سے جی ایس پی پلس کے دوبارہ حصول کے لیے درخواست دینے سے قبل ضابطہ جاتی خامیوں کو دور کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
























Comments