فیڈ کی جانب سے شرح سود میں اضافے کا اثر، سونے کی قیمت ایک فیصد سے زائد بڑھ گئی
- اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.1 فیصد اضافے سے 4,310.49 ڈالر فی اونس ہوگئی
سونے کی قیمتوں میں جمعرات کو ایک فیصد سے زائد اضافہ ہوا کیونکہ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے اور مزید سخت مالیاتی پالیسی اختیار کیے جانے کے اشارے کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ تیل کی قیمتوں میں پہلے آنے والی تیزی کی رفتار ماند پڑ گئی۔
جمعرات کو اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 4,310.49 ڈالر فی اونس ہوگئی جب کہ بدھ کو یہ تقریباً چھ ہفتوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔
دسمبر کی ڈلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز کی قیمت تقریباً ایک فیصد کم ہوکر 4,348.70 ڈالر فی اونس رہی۔
تیل کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی اور گزشتہ سیشن کی گراوٹ مزید بڑھ گئی کیونکہ سعودی عرب کی جانب سے عمان کے راستے اضافی خام تیل کی کھیپیں فراہم کرنے کی اطلاعات سے سپلائی میں خلل کے خدشات کم ہوگئے۔
او اے این ڈی اے کے سینئر مارکیٹ اینالسٹ کیلون وونگ نے کہا کہ تیل کی قیمتیں بدستور ایک اہم عنصر ہیں جن پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ اگر تیل کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس سے کم از کم درمیانی مدت کے تناظر میں سونے کی قیمتوں میں مزید اضافے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، میری توقع ہے کہ سونے کی قیمتیں ایک محدود دائرے میں رہیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ سونے کی قیمتوں میں موجودہ تیزی بڑی حد تک تکنیکی عوامل کی وجہ سے بھی ہے کیونکہ فیڈرل ریزرو کے سخت گیر مؤقف کو مارکیٹ پہلے ہی بڑی حد تک قیمتوں میں شامل کرچکی ہے۔
اگرچہ سونے کو افراطِ زر کے خلاف تحفظ کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم شرح سود میں اضافہ سونے کی کشش کم کردیتا ہے کیونکہ اس سے منافع یا سود دینے والے اثاثوں میں سرمایہ کاری زیادہ پرکشش ہوجاتی ہے۔
فیڈرل ریزرو نے بدھ کو شرح سود میں اضافہ کیا اور آنے والے مہینوں میں مزید اضافوں کا عندیہ دیا۔ امریکی مرکزی بینک کے نئے سربراہ کیون وارش نے بھی متفقہ فیصلے کی حمایت کی جو اس امر کا اعتراف ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اب تک مہنگائی پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکی جبکہ پالیسی سازوں کو خدشہ ہے کہ افراطِ زر مزید بڑھ سکتا ہے۔
تازہ سہ ماہی معاشی تخمینوں کے مطابق 18 میں سے 16 پالیسی سازوں کو توقع ہے کہ رواں سال کے اختتام تک شرح سود میں کم از کم مزید 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا جائے گا جبکہ صرف دو پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ شرح سود موجودہ سطح پر برقرار رہے گی۔
بینک آف انگلینڈ کی جانب سے جمعرات کو شرح سود موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا امکان ہے تاہم سرمایہ کار اس حوالے سے کسی بھی اشارے پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا توانائی کی بلند قیمتیں اسے بھی فیڈرل ریزرو کی پیروی کرتے ہوئے شرح سود میں اضافے پر مجبور کرسکتی ہیں۔
اسپاٹ سلور کی قیمت 1.4 فیصد بڑھ کر 63.83 ڈالر فی اونس ہوگئی، پلاٹینم 1.6 فیصد اضافے سے 1,780.55 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 2 فیصد بڑھ کر 1,295 ڈالر فی اونس ہوگیا۔
























Comments