سعودی پائپ لائن کی بندش سے عالمی تیل سپلائی کا 4 فیصد متاثر ہونے کا خدشہ
- مملکت کے پاس تیل کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے بندرگاہوں پر 5 سے 7 دن کا ذخیرہ موجود ہے، ذرائع
سعودی عرب چند دنوں کے اندر بحیرہ احمر تک جانے والی اپنی اہم آئل پائپ لائن دوبارہ بحال نہ کرسکا تو برآمدی تیل کے ذخائر ختم ہوجائیں گے، جس کے نتیجے میں عالمی تیل سپلائی کا 4 فیصد تک متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سعودی تیل خریداروں اور تاجروں نے بتایا کہ سعودی تیل کی ترسیل میں مزید کمی عالمی سپلائی بحران کو سنگین بنا دے گی، جس کے باعث پہلے ہی دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں، مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور امریکی بانڈز کی پیداوار 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
جمعہ کو ڈرون حملوں کے باعث سعودی عرب نے اپنی بڑی ایسٹ ٹو ویسٹ آئل پائپ لائن بند کردی تھی، تاہم ریاض نے نقصان کی شدت یا پائپ لائن کی بندش کتنے عرصے تک جاری رہے گی، اس بارے میں مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
رائٹرز سے بات کرنے والے ذرائع نے مختلف اندازے پیش کیے۔ ایک ذریعے کے مطابق نقصان کی مرمت میں پانچ سے چھ ہفتے تک لگ سکتے ہیں، جبکہ دوسرے نے کہا کہ پائپ لائن اس سے پہلے بھی بحال ہوسکتی ہے اور مرمت کے دوران جزوی طور پر تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کی جاسکتی ہے۔
سعودی حکومت کے میڈیا دفتر اور وزارت توانائی نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔
گزشتہ چھ ماہ سے جزیرہ نما عرب کے صحرائی علاقے سے گزرنے والی یہ پائپ لائن سعودی عرب کو آبنائے ہرمز کی جنگ کے باعث بندش سے پیدا ہونے والے اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رکھتی رہی ہے، جس کے نتیجے میں اس کے ہمسایہ ممالک کی تیل برآمدات شدید متاثر ہوئی ہیں۔
دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب نے اس پائپ لائن کے ذریعے تقریباً 40 لاکھ بیرل یومیہ تیل، یعنی عالمی سپلائی کا تقریباً 4 فیصد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع منتقل کیا ہے۔
تاہم پائپ لائن کی بندش کے باعث ینبع میں اب صرف پانچ سے سات دن کی برآمدات برقرار رکھنے کے لیے تیل کا ذخیرہ موجود ہے، سعودی تیل برآمدات سے واقف صنعت کے تین ذرائع نے بتایا۔
ایک چوتھے ذریعے کے مطابق سعودی عرب کے پاس مصر کی بحیرہ احمر پر واقع عین سخنہ اور بحیرہ روم پر واقع سیدی کریر کی بندرگاہوں پر بھی کئی دن تک صارفین کو تیل فراہم کرنے کے لیے ذخائر موجود ہیں۔
صنعتی اندازوں کے مطابق ینبع میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً 3 کروڑ 50 لاکھ بیرل ہے، جبکہ عین سخنہ اور سیدی کریر میں بالترتیب 1 کروڑ 80 لاکھ اور 2 کروڑ بیرل ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔
چاروں ذرائع نے بتایا کہ یہ ذخائر مکمل طور پر بھرے ہوئے نہیں ہیں اور ایسٹ ٹو ویسٹ پائپ لائن کی بحالی کے بغیر بالآخر ختم ہوجائیں گے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے جمعہ کو کہا کہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستے تیل کی ترسیل میں کمی کے باعث سعودی عرب کی تیل سپلائی اگست میں تین دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔
مغربی ممالک کی توانائی پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے والی آئی ای اے کے مطابق رواں سال عالمی تیل سپلائی میں 57 لاکھ بیرل یومیہ، یعنی تقریباً 6 فیصد کمی آئے گی۔
پائپ لائن پر حملے کے علاوہ یمن میں حوثی جنگجوؤں نے، جنہوں نے سعودی تیل کی ترسیل کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے رکھی ہے، جمعہ کو بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع ایک جزیرے پر بھی قبضہ کرلیا۔
جنگ سے قبل مشرق وسطیٰ سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ بیرل تیل عالمی منڈیوں کو فراہم کیا جاتا تھا۔
صنعتی ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کم ہوکر صرف 60 لاکھ سے 90 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے۔
سعودی عرب نے گزشتہ ہفتے اوپیک کو بتایا تھا کہ اگست میں اس کی تیل پیداوار کم ہوکر صرف 62 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ جنگ شروع ہونے سے قبل فروری میں یہ پیداوار 1 کروڑ 9 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔
























Comments