معاون ٹیکنالوجی تک رسائی
- معاون ٹیکنالوجی محض صحت کی دیکھ بھال کا معاملہ نہیں ہے؛ اس کی اہمیت طبی شعبے سے کہیں آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے بدھ کے روز پاکستان کی معاون ٹیکنالوجی تک رسائی سے متعلق قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کیا جانا ایک خوش آئند پیش رفت ہے، بالخصوص غریب ممالک کے ان کروڑوں افراد کے لیے جن کی تعلیم حاصل کرنے، کام کرنے اور آزادانہ زندگی گزارنے کی صلاحیت نہ صرف ان کی معذوری بلکہ سستی اور قابل رسائی ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی کے باعث بھی محدود ہے۔
اس مسئلے کی وسعت مزید توجہ کی متقاضی ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے، سفیر عاصم افتخار احمد نے نشاندہی کی کہ دنیا بھر میں اندازاً 2.5 ارب افراد کو ایک یا ایک سے زیادہ معاون مصنوعات یا متعلقہ خدمات کی ضرورت ہے۔ تاہم، لاکھوں افراد اب بھی ان سہولیات سے محروم ہیں کیونکہ ان کی قیمتیں ناقابل برداشت ہیں، بنیادی ڈھانچہ ناکافی ہے، دستیابی محدود ہے اور تربیت یافتہ افراد کی بھی کمی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لوگوں کے لیے یہ رکاوٹیں غربت اور محرومی کو مزید مضبوط کر سکتی ہیں اور انہیں ان مواقع سے محروم کر سکتی ہیں جنہیں دوسرے لوگ معمول کی بات سمجھتے ہیں۔
معاون ٹیکنالوجی محض صحت کی دیکھ بھال کا معاملہ نہیں ہے؛ اس کی اہمیت طبی شعبے سے کہیں آگے تک پھیلی ہوئی ہے۔ وہیل چیئر اس بات کا تعین کر سکتی ہے کہ آیا کوئی شخص اسکول جا سکتا ہے یا کام کی جگہ تک پہنچ سکتا ہے؛ سماعت کی معاون مشین تعلیم اور رابطے میں سہولت فراہم کر سکتی ہے؛ جبکہ اسکرین ریڈر کسی بصارت سے محروم شخص کے لیے روزگار اور عوامی خدمات تک رسائی ممکن بنا سکتا ہے۔ اس لیے ایسی معاون اشیا کو محض طبی آلات کے بجائے شمولیت اور خودمختاری کے ذرائع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس حوالے سے قرارداد اہم ہے کیونکہ یہ معاون ٹیکنالوجی تک رسائی کو تعلیم، روزگار، صحت کی دیکھ بھال، سماجی تحفظ اور وسیع تر ترقیاتی اہداف سے جوڑتی ہے۔
پاکستان اس معاملے کو عالمی توجہ کے مرکز میں لانے پر تعریف کا مستحق ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی سابقہ کوششوں کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے، جن میں 2018 میں عالمی ادارۂ صحت کی اسمبلی کی جانب سے معاون ٹیکنالوجی تک رسائی بہتر بنانے کے لیے منظور کی گئی قرارداد بھی شامل ہے۔ موجودہ قرارداد کا ایک اہم انسانی پہلو بھی ہے۔ جنگیں، نقل مکانی اور قدرتی آفات ان افراد کی مشکلات میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں جو معاون آلات پر انحصار کرتے ہیں۔ لہٰذا ہنگامی حالات کے دوران معاون ٹیکنالوجی تک رسائی کا تسلسل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تیاری اور ردعمل کا حصہ ہونا چاہیے، نہ کہ اسے بعد میں سوچا جائے۔
پاکستان کی پہلی بصارت سے محروم کیریئر سفارت کار اور معاون ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی کونسلر صائمہ سلیم کی قرارداد میں شمولیت خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ ان کی شرکت ایک ایسا نقطۂ نظر سامنے لاتی ہے جس کی مکمل عکاسی اعداد و شمار اور سفارتی مذاکرات نہیں کر سکتے۔ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ رسائی کی رکاوٹوں سے براہ راست متاثرہ افراد کو ان پالیسیوں کی تشکیل میں بامعنی کردار ملنا چاہیے جن کا مقصد ان رکاوٹوں سے نمٹنا ہے۔ اگر عالمی وعدوں کو زمینی حقائق کی عکاسی کرنی ہے تو ایسی شرکت ناگزیر ہے۔
تاہم، قراردادیں خواہ کتنی ہی قابل تعریف کیوں نہ ہوں، اپنے طور پر لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی نہیں لاتیں۔ اصل مشکل اس کے نفاذ سے شروع ہوتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کو مالی معاونت، تکنیکی تعاون، تربیت یافتہ افراد اور قابل اعتماد سپلائی چینز کی ضرورت ہوگی تاکہ اقوام متحدہ کے عزم کو سستی اور پائیدار رسائی میں تبدیل کیا جا سکے۔ حکومتوں کو یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ معاون ٹیکنالوجی کو تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، روزگار اور سماجی تحفظ کے نظام میں شامل کیا جائے۔ دوسری جانب بین الاقوامی اداروں اور عطیہ دینے والے ممالک کو یقینی بنانا چاہیے کہ مالی معاونت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی اس نئے عزم کے عملی اجزا بنیں، محض اصولی معاملات تک محدود نہ رہیں۔
لہٰذا جنرل اسمبلی میں اتفاق رائے کو ایک کامیابی کے بجائے ایک آغاز سمجھا جانا چاہیے۔ پاکستان نے ایک ایسے مسئلے کے لیے عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے میں مدد دی ہے جو طویل عرصے سے زیادہ توجہ کا مستحق تھا۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ آیا رکن ممالک اس اعتراف کو ان لوگوں کی زندگیوں میں قابل پیمائش بہتری میں تبدیل کر سکتے ہیں جو اب بھی محرومی کا شکار ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments