پاکستان چھتوں پر سولر کی تیزی کو سوارم گرڈز میں تبدیل کرسکتا ہے، تحقیق
- گھرانے سولر بجلی پیدا، ذخیرہ اور پڑوسیوں کو فروخت کرسکیں گے، قومی گرڈ متبادل ذریعہ ہوگا
پاکستان چھتوں پر سولر توانائی کے فروغ کو مرکزیت سے آزاد اور کمیونٹی کی شراکت سے قائم کیے جانے والے سوارم گرڈز کے ذریعے بروئے کار لا سکتا ہے، تاہم بڑے پیمانے پر اس نظام کے نفاذ کے لیے تکنیکی امکانات اور عملی نفاذ کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنے کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیولپمنٹ (پی آر آئی ای ڈی) نے سوارم بجلی کے نظام کا تکنیکی و معاشی جائزہ پیش کیا، جس میں پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، توانائی کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔
سوارم گرڈز دراصل مرکزیت سے آزاد چھوٹے بجلی کے نظام ہیں، جو گھروں میں نصب سولر سسٹمز یا توانائی کے چھوٹے قابلِ تجدید یونٹس کو آپس میں منسلک کرکے قائم کیے جاتے ہیں اور ان کے لیے کسی مرکزی کنٹرولر کی ضرورت نہیں ہوتی۔
تحقیق میں دو مطالعات شامل ہیں۔ پاکستان کے سولر انقلاب سے استفادہ : سوارم بجلی کا تکنیکی و معاشی جائزہ‘‘ میں شہری اور دیہی علاقوں میں سوارم گرڈز کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے، جبکہ سوارم گرڈز: سولر بوم کے اگلے مرحلے میں اس نظام کی جانب منتقلی کے لیے حکمت عملی اور عملی نفاذ کا روڈ میپ پیش کیا گیا ہے۔
پاکستان میں سولر توانائی کا فروغ بڑی حد تک حکومت کی پالیسی کے بجائے قابلِ اعتماد اور سستی بجلی کے حصول کے لیے گھریلو صارفین، کسانوں اور کاروباری اداروں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
مطالعے کے مطابق ملک میں تقریباً 41 گیگاواٹ کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے مقابلے میں 50 گیگاواٹ سے زائد سولر پینلز درآمد کیے جاچکے ہیں۔
تاہم تقسیم شدہ سولر نظام میں تیزی سے اضافے کے باوجود کئی علاقوں میں بجلی کی بندش، کم وولٹیج اور طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
مطالعے کے مطابق بنیادی مسئلہ اب بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت سے زیادہ نظام میں رابطہ کاری کا ہے۔ لاکھوں چھتوں پر نصب سولر سسٹمز ایک مربوط بجلی کے وسائل کے بجائے الگ الگ نظام کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
پی آر آئی ای ڈی کے مطابق سوارم گرڈ ایک ڈیجیٹل نظام کے تحت چلنے والا مرکزیت سے آزاد مقامی بجلی کا نیٹ ورک ہے، جس میں گھرانے اور کاروبار اپنی سولر بجلی استعمال کرنے، توانائی ذخیرہ کرنے، اضافی بجلی پڑوسیوں کو فروخت کرنے اور قریبی پروڈیوسر صارفین سے بجلی خریدنے کے قابل ہوں گے، جبکہ قومی گرڈ کو بنیادی طور پر متبادل ذریعے کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
روایتی مائیکرو گرڈز کے برعکس، جو عموماً مقررہ حدود میں کام کرتے ہیں، سوارم گرڈز میں گھرانوں اور مختلف گروپس کو ضرورت کے مطابق شامل ہونے، نکلنے اور بجلی کی خرید و فروخت کی سہولت حاصل ہوسکتی ہے۔
محققین نے اس تصور کو دو مختلف ماحول میں آزمایا۔ شہری مثال کے طور پر اسلام آباد کا انتخاب کیا گیا، جہاں مستحکم گرڈ پر بجلی کی طلب نسبتاً زیادہ اور متنوع ہے، جبکہ دیہی مثال کے طور پر سندھ کا تھرپارکر منتخب کیا گیا، جہاں آبادی منتشر اور لوگوں کا روزگار موسمی زرعی و مال مویشی کی سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔
جائزے میں گھریلو سروے، سولر وسائل کے اعداد و شمار اور فی گھنٹہ بجلی کی ترسیل کے ماڈل کو استعمال کرتے ہوئے اس نظام کی تکنیکی، معاشی اور ادارہ جاتی افادیت کے ساتھ ساتھ کمیونٹیز کی شمولیت پر آمادگی کا بھی جائزہ لیا گیا۔
مطالعے کے مطابق سوارم گرڈز شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں تکنیکی طور پر قابلِ عمل ہیں مگر دونوں کے معاشی ماڈل مختلف ہوں گے۔
شہری سوارم گرڈز تجارتی بنیادوں پر نجی سرمایہ کاری سے قابلِ عمل کاروبار بن سکتے ہیں، جبکہ دیہی منصوبوں کے لیے ابتدائی سرمایہ کاری اور کمیونٹی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات درکار ہوں گے، کیونکہ وہاں ابتدائی اخراجات زیادہ اور توانائی کی طلب کا ارتکاز کم ہے۔
تحقیق میں ضابطہ جاتی فریم ورک کو سب سے اہم مشترکہ رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔موجودہ نظام کے تحت کسی ڈسٹری بیوشن کمپنی کے دائرہ اختیار میں صارفین کے درمیان براہِ راست بجلی کی خرید و فروخت اور تیسرے فریق کو بجلی فروخت کرنے پر پابندی ہے۔ مطالعے کے مطابق یہ طے کرنے کے لیے نئے ضوابط درکار ہوں گے کہ بجلی کون فروخت کرسکتا ہے، کس قیمت پر فروخت کی جائے گی اور ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہوگا۔
مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ان تبدیلیوں کے بغیر سوارم گرڈز کے لیے قابلِ عملیت کے مطالعات سے نکل کر بڑے پیمانے پر تجارتی بنیادوں پر کام شروع کرنا مشکل ہوگا۔
دوسری تحقیق میں ریگولیٹرز، بشمول نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او)، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں، صوبائی حکومتوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
سفارشات میں صارفین کے درمیان براہِ راست بجلی کی خرید و فروخت کے لیے ضوابط متعارف کرانا، ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس سے منسلک سولر آلات کے معیارات یکساں بنانا، مسابقتی دوطرفہ معاہدہ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے تحت بجلی کی ریٹیل مارکیٹ کھولنا اور شہری و دیہی علاقوں میں پائلٹ منصوبے شروع کرنا شامل ہیں۔
منتقلی کے منصوبے میں خواتین کی شمولیت یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں سولر اثاثوں کی رجسٹریشن بطورِ ڈیفالٹ میاں یا بیوی میں سے کسی ایک کے نام پر کرنے، تنصیب اور حوالگی کے مراحل میں خواتین کی شمولیت یقینی بنانے اور خواتین کی قیادت میں آپریشنز و مرمت کی ٹیموں کی حوصلہ افزائی شامل ہے۔
























Comments