اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا تسلسل برقرار، انڈیکس تقریباً 700 پوائنٹس گرگیا
- بینچ مارک انڈیکس 171,943.59 پوائنٹس پر بند ہوا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کوبھی فروخت کے دباؤ کا تسلسل نہ ٹوٹ سکا اور مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ ہونے والے حملوں کے بعد سرمایہ کاروں میں منفی رجحان غالب رہا، جس کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس بدھ کو تقریباً 700 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق بینچ مارک انڈیکس نے تقریباً 173,000 پوائنٹس کی سطح سے کاروبار کا آغاز کیا اور ابتدائی طور پر تیزی کا رجحان اختیار کرتے ہوئے دورانِ کاروبار 173,174.18 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا۔ تاہم ابتدائی تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور انڈیکس فروخت کے دباؤ میں آکر صبح کے سیشن کے دوران تیزی سے 172,000 پوائنٹس کی سطح کی جانب گر گیا۔ انڈیکس نے مختصر طور پر ریکوری کی، تاہم اس تیزی کو برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔
دوپہر کے بیشتر حصے میں کاروبار ایک محدود دائرے میں رہا، مگر کاروبار کے آخری گھنٹوں میں شدید کمی دیکھی گئی، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس دورانِ کاروبار کی کم ترین سطح 171,801.66 پوائنٹس پر آگیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 698.57 پوائنٹس یا 0.40 فیصد کمی کے بعد 171,943.59 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور خام تیل کی بلند قیمتوں کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے، جس کے نتیجے میں کاروباری سیشن اتار چڑھاؤ کا شکار اور مجموعی طور پر مندی کا رجحان برقرار رہا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔
رپورٹ کے مطابق ایف ایف سی، ایم سی بی، لکی سیمنٹ، میزان بینک اور ماری انڈیکس میں کمی کے بڑے محرکات میں شامل رہے اور ان پانچ کمپنیوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس کو تقریباً 409 پوائنٹس نیچے کھینچا۔
دوسری جانب پی ایس ای ایل، یو بی ایل اور او جی ڈی سی نے کچھ سپورٹ فراہم کی اور تینوں کمپنیوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں تقریباً 224 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 171,943.59 پوائنٹس پر بند ہوا۔
منگل کو بھی اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان غالب رہا تھا، کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور عالمی سطح پر خام تیل کی بلند قیمتوں نے انڈیکس پر بھاری اثر رکھنے والے شعبوں میں منافع کے حصول کے لیے فروخت کو متحرک کیا۔ بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 993.92 پوائنٹس یا 0.57 فیصد کمی سے 172,642.16 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر بدھ کو برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی جانب بڑھ گئی، جس سے ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں محتاط ماحول برقرار رہا۔ مشرق وسطیٰ میں حملوں میں شدت نے امریکا کے اہم صارف قیمتوں کے اعداد و شمار جاری ہونے سے قبل مہنگائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے منگل کو سعودی عرب کے کئی شہروں پر حملے کیے، جس سے امریکا کے ایک اتحادی ملک کے تنازع میں مزید الجھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ دوسری جانب امریکی افواج نے متعدد ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے اردن میں ایک امریکی اڈے پر حملہ کیا۔
بدھ کو خام تیل کی قیمتیں مسلسل چوتھے سیشن میں بڑھیں اور ابتدائی کاروبار میں ایک ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔ برینٹ خام تیل کے فیوچرز 1.57 ڈالر اضافے سے 99.49 ڈالر فی بیرل ہوگئے، جو جون کے اواخر کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 1.60 ڈالر اضافے سے 94.63 ڈالر فی بیرل پر رہا۔
ایشیائی مارکیٹس میں سڈنی کے حصص تقریباً 0.3 فیصد گر گئے، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ 0.6 فیصد نیچے آیا۔ مین لینڈ چینی بلیو چپ حصص میں 0.2 فیصد اضافہ ہوا۔
چِپ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق اسٹاکس میں بہتری نے بعض علاقائی انڈیکسز کو سہارا دیا۔ جاپان کا نکیئی 0.6 فیصد بڑھا، جبکہ منگل کو اس میں 1.7 فیصد کمی ہوئی تھی۔ جنوبی کوریا کا کوپسی 1.6 فیصد جبکہ تائیوان کا ٹائیکس 0.6 فیصد بڑھ گیا۔
گزشتہ شب وال اسٹریٹ کے تینوں بڑے انڈیکسز میں کمی کے باوجود فلاڈیلفیا ایس ای سیمی کنڈکٹر انڈیکس 1.3 فیصد بڑھا۔
امریکی ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.1 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ منگل کو کیش انڈیکس 0.6 فیصد گر گیا تھا۔
دریں اثنا پاکستانی روپے نے بدھ کو انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھا۔ مقامی کرنسی 0.01 روپے کے اضافے سے 277.36 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 722.62 ملین شیئرز کے مقابلے میں کم ہوکر 477.67 ملین شیئرز رہا۔
شیئرز کی مالیت بھی 27.94 ارب روپے سے کم ہوکر 22.64 ارب روپے ہوگئی۔
سائنرجیکو پی کے 65.82 ملین شیئرز کے کاروبار کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی، جبکہ عائشہ اسٹیل مل کے 28.56 ملین اور ٹھٹہ سیمنٹ کے 25.59 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔
بدھ کو مجموعی طور پر 492 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 162 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 293 میں کمی جبکہ 37 کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں مستحکم رہیں۔

























Comments