بنگلہ دیش میں ڈینگی کی وبا شدید، اسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا
- ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ستمبر ڈینگی کے حوالے سے اگست سے بھی زیادہ شدید ثابت ہوسکتا ہے
بنگلہ دیش میں ڈینگی کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے، جہاں رواں سال اب تک 42,590 افراد اسپتالوں میں داخل ہوچکے ہیں جبکہ 117 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ستمبر میں کیسز میں تیزی سے اضافے کے باعث اسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے اور آئندہ ہفتوں میں بیماری کے مزید شدت اختیار کرنے کا خدشہ ہے۔
وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی سے کم از کم 4 مریض جاں بحق جبکہ 1,558 افراد اسپتال داخل ہوئے، جو رواں سال ایک روز میں ہونے والی سب سے زیادہ داخلوں کی تعداد ہے۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ ستمبر ڈینگی کے حوالے سے اگست سے بھی زیادہ شدید ثابت ہوسکتا ہے۔ اگست میں رواں سال کے دوران ڈینگی کے سب سے زیادہ ماہانہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
جہانگیر نگر یونیورسٹی کے میڈیکل اینٹومولوجسٹ پروفیسر کبیرال بشار کے مطابق ان کے سرویلنس اور فورکاسٹنگ ماڈل سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ رجحان برقرار رہا تو رواں ماہ اسپتالوں میں داخل مریضوں کی تعداد 30,000 سے تجاوز کرسکتی ہے اور موسم اکتوبر تک بیماری کے پھیلاؤ کے لیے سازگار رہنے کا امکان ہے۔
بنگلہ دیش کا ہیلتھ کیئر سسٹم پہلے ہی ملک گیر خسرہ کی وبا سے دباؤ کا شکار ہے، جس کے باعث رواں سال تقریباً 1,000 بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔
ڈینگی کے مریضوں کی تعداد بڑھنے سے اسپتالوں میں بیڈز کی کمی بھی پیدا ہوگئی ہے۔ ماہرین کے مطابق بخار اترنے کے بعد بھی مریض تیزی سے بگڑ سکتے ہیں اور پلازما لیکیج، کم بلڈ پریشر، شاک اور شدید خون بہنے جیسی پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
ماہرین نے بتایا کہ ایڈیز مچھروں کا ڈھاکا اور دیگر بڑے شہروں سے باہر پھیلاؤ دیہی علاقوں میں بھی انفیکشن بڑھا رہا ہے۔ ڈینگی کے کیسز اب ملک کے تمام 64 اضلاع میں رپورٹ ہوچکے ہیں۔
وزیراعظم طارق رحمان نے ملک گیر صفائی اور آگاہی مہمات تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ مچھروں کی افزائش گاہیں، خصوصاً کھڑا پانی ختم کریں۔
























Comments