نیپال میں تباہ کن سیلاب، ایک ہفتے بعد زندہ افراد کی تلاش کی امیدیں دم توڑنے لگیں
- حکام کے مطابق تباہ کن سیلاب سے کم از کم 1,050 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 4,000 افراد تاحال لاپتا ہیں
نیپال میں ہمالیہ کے گلیشیئر کے ٹوٹنے سے آنے والے اچانک سیلاب کے ایک ہفتے بعد بھی ہزاروں لاپتا افراد میں سے زندہ افراد کی تلاش کی امیدیں معدوم ہونے لگی ہیں۔
حکام کے مطابق تباہ کن سیلاب سے کم از کم 1,050 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 4,000 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ خدشہ ہے کہ چین کی سرحد کے قریب قصبوں اور وادیوں میں آنے والے سیلاب کے ملبے تلے متعدد افراد دبے ہوئے ہیں۔
چین کے علاقے تبت میں بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں اتوار سے ہلاکتوں کی تعداد 16 جبکہ لاپتا افراد کی تعداد 546 پر برقرار ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے سینئر عہدیدار فنیندرا پاؤڈیل نے کہا کہ زندہ افراد کی تلاش کی امید کم ہوتی جارہی ہے۔ فوج کے ترجمان راجا رام بسنیٹ کے مطابق امدادی ٹیمیں ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کی سرنگوں میں پھنسے ممکنہ زندہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق ہائیڈرو پاور منصوبوں کے ملبے سے 279 افراد کو بچایا جاچکا ہے، تاہم مزید 639 افراد لاپتا ہیں۔
وزیراعظم بالیندر شاہ نے کہا ہے کہ حکومت کی توجہ اب سرچ، ریسکیو اور ریلیف آپریشنز سے بحالی اور تعمیر نو کی جانب منتقل ہورہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ابتدائی تخمینے کے مطابق سیلاب اپنے پیچھے تقریباً 2.2 ملین ٹن ملبہ چھوڑ گیا، جس میں عمارتوں کے حصے، چٹانیں اور تلچھٹ شامل ہیں۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ گنجان پناہ گاہوں، آلودہ پانی اور تباہ شدہ طبی مراکز کے باعث عوامی صحت کو خطرات بڑھ رہے ہیں۔ حکام نے بیماریوں کے ممکنہ پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے نگرانی اور اقدامات تیز کردیے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ ہمالیائی خطہ مستقبل میں گلیشیئر سیلاب کے شدید خطرات سے دوچار ہے۔ چین نے بھی سیلاب کو موسمیاتی تبدیلی سے جوڑا ہے۔
























Comments