افغان سرحد کی بندش، پولٹری صنعت شدید بحران کا شکار
- افغانستان کی سرحد مسلسل بند رہنے سے پولٹری کی قیمتوں میں گراوٹ کی ایک بڑی وجہ بن کر سامنے آئی ہے، فارمر
پاکستان کی پولٹری صنعت سنگین بحران اور بھاری مالی نقصانات سے دوچار ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر سے افغانستان کی سرحد بند ہونے کے باعث پولٹری مصنوعات کی برآمدات معطل ہیں جس کے نتیجے میں مقامی مارکیٹ میں رسد بڑھ گئی ہے اور پیدا کنندگان کو مرغی کا گوشت پیداواری لاگت سے بھی کم قیمت پر فروخت کرنا پڑرہا ہے۔
پاکستان میں پولٹری کی کل پیداوار کا تقریباً 20 فیصد حصہ پہلے افغانستان کو برآمد کیا جاتا تھا لیکن سرحد کی مسلسل بندش کے باعث یہ برآمدات بحال نہیں ہوسکی ہیں۔ پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ممبر اور معروف پولٹری فارمر عمران خان نے بتایا کہ افغان سرحد کا مسلسل بند رہنا پولٹری کی قیمتوں میں شدید گراوٹ اور مندی کی بنیادی وجہ بن کر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے ڈیزل کی بلند قیمتوں اور بڑھتے ہوئے نقل و حمل کے اخراجات کو بھی فارمرز اور پیدا کنندگان پر اضافی دباؤ قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کو برآمدات کی طویل معطلی نے مقامی منڈی میں ضرورت سے زیادہ مال جمع کردیا ہے جس کے نتیجے میں پولٹری فارمرز اور پروڈیوسرز کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر اور بلوچستان کو پولٹری کی سپلائی بھی متاثر ہے جبکہ اضافی پیداوار کو کھپانے کے لیے مقامی طلب بھی ناکافی ہے۔
عمران خان نے بتایا کہ اس وقت مرغی کی پیداوار پر تقریباً 290 روپے فی کلو لاگت آرہی ہے جبکہ پیدا کنندگان کو اسے تقریباً 250 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے جس کے نتیجے میں انہیں فی کلو تقریباً 40 روپے کا براہِ راست نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے۔
عمران خان نے مزید بتایا کہ اس وقت تقریباً 70 روپے میں تیار ہونے والا چوزہ صرف 5 روپے تک میں فروخت کیا جارہا ہے جس سے فی چوزہ تقریباً 65 روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خسارے میں کاروبار کرنے کے باوجود پیدا کنندگان کو فی چوزہ تقریباً 10 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) بھی ادا کرنا پڑرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے طویل اور شدید پولٹری بحران ہے۔
دریں اثنا، سندھ بلوچستان برائلر فارمرز الائنس نے جاری بحران کے حوالے سے ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔
اجلاس میں ڈاکٹر ظفر اسلام، کمال اختر صدیقی، عبدالغنی بلوچ، میاں شیخ ولی محمد، عمران خان، عثمان ہاشمی، زین صدیقی، چوہدری ندیم، جاوید گبول، ریٹائرڈ بریگیڈیئر عتیق، مبارک گبول، قاسم احسانی، ڈاکٹر ریحان، پائنیر فیڈز کے سہیل، فرحان جان، چوہدری اشرف، رضوان تنولی، سعد صدیقی، طاہر اور دیگر متعدد فارمرز نے شرکت کی۔
اجلاس میں پولٹری صنعت کی موجودہ صورتحال، فارمرز کو مسلسل درپیش مالی نقصانات، مرغی کی قیمتوں، موجودہ ریٹ میکانزم، چوزوں کی فراہمی اور رائج مارکیٹ نظام پر تفصیلی غور کیا گیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026
























Comments