امریکی افواج کا ایرانی جزیرے لارک پر حملہ، 2 لانچرز تباہ
- جولائی کے اواخر کے بعد ایران پر امریکا کے پہلے معلوم حملے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق امریکی افواج نے اتوار کو ایران کے جزیرے لارک پر موجود دو ایرانی لانچرز کو نشانہ بنایا، جو جولائی کے اواخر کے بعد ایران پر امریکا کے پہلے معلوم حملے ہیں۔
اتوار کو فاکس نیوز کے ایک رپورٹر نے ایک امریکی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ایران نے اردن میں تعینات امریکی افواج پر حملہ کیا۔ رپورٹر کی ایکس پر پوسٹ کے مطابق آنے والے تقریباً تمام میزائل اس وقت تک روک لیے گئے ہیں اور اب تک کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔
امریکی حملے کے حوالے سے ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ میں تصدیق کرسکتا ہوں کہ آج سے قبل امریکی افواج نے لارک جزیرے پر ایران کے دو لانچرز کو نشانہ بنایا۔ پاسداران انقلاب اسلامی کی فورسز کو آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگوں کے ساتھ راکٹ داغنے کی تیاری کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا کہ حملے میں کئی فوجی اور شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں اور تہران کی جانب سے اس کا جواب اور سزا دی جائے گی۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا کہ امریکا نے جزیرے پر ڈرون حملہ کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں میں موجود تمام بارودی سرنگوں کو دھماکے سے اڑا دیا گیا ہے یا ہٹا دیا گیا ہے اور ایران کو بتا دیا گیا ہے کہ نئی بارودی سرنگیں نصب کرنے والے کسی بھی جہاز یا کشتی کو تباہ کردیا جائے گا۔
ایران پر امریکا کے آخری معلوم حملے جولائی کے اواخر میں ہوئے تھے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جنگ تعطل کا شکار رہی ہے جبکہ واشنگٹن نے ایران کی حمایت کرنے والے ممالک پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور ان خلیجی ممالک پر حملے کیے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں۔
ایران جنگ اب 6 ماہ سے تجاوز کرچکی ہے۔ ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں جبکہ لبنان پر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔ اس تنازع میں 18 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہوگئی ہے، جو تنازع سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد حصے کی تیل کی سپلائی کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
ایکسِیوس نے رپورٹ کیا کہ اتوار کو امریکی اڈے پر ایران کی جانب سے داغے گئے ہتھیار بیلسٹک میزائل تھے۔
























Comments