کپاس کی آمد میں اضافہ، پالیسی مسائل برقرار
- پھٹی کی آمد میں 25 فیصد اضافہ کپاس کی ایسی معیشت کے لیے خوش آئند خبر ہونی چاہیے تھی، جو کئی برسوں سے زوال کا شکار ہے۔
پھٹی کی آمد میں 25 فیصد اضافہ کپاس کی ایسی معیشت کے لیے خوش آئند خبر ہونی چاہیے تھی، جو کئی برسوں سے زوال کا شکار ہے۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کی تازہ رپورٹ کے مطابق 15 اگست تک پھٹی کی آمد 1.114 ملین گانٹھوں تک پہنچ گئی، حالانکہ ناموافق موسم اور مال بردار گاڑیوں اور آئل ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث سپلائی میں رکاوٹیں بھی رہیں۔ تاہم اس حوصلہ افزا اعدادوشمار کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو جلد ہی وہی پرانی صورتحال سامنے آتی ہے: متضاد سرکاری اعدادوشمار، غیر دستاویزی تجارت، فصلوں کے رقبے میں بگاڑ اور ایسی پالیسیاں جو پاکستان کی اہم ترین زرعی ویلیو چینز میں سے ایک کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہیں۔
خود اعدادوشمار پالیسی سازوں کے لیے تشویش کا باعث ہونے چاہئیں۔ سندھ میں پھٹی کی آمد 42 فیصد اضافے کے ساتھ 734,000 گانٹھوں تک پہنچ گئی، جبکہ پنجاب میں صرف 3 فیصد اضافہ ہوا اور آمد 379,000 گانٹھوں رہی۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات پی سی جی اے کے اعدادوشمار اور پنجاب کے کراپ رپورٹنگ سروسز کے تخمینے میں واضح فرق ہے۔ کراپ رپورٹنگ سروسز کے مطابق 13 اگست تک پنجاب میں کپاس کی پیداوار 585,000 گانٹھیں رہی۔ مزید یہ کہ سندھ سے پنجاب منتقل ہونے والی اندازاً 60,000 سے 70,000 گانٹھوں کی کپاس اور لِنٹ کو شامل کیا جائے تو یہ تعین کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے کہ پنجاب دراصل کتنی کپاس پیدا کررہا ہے۔
یہ وہ بنیاد نہیں جس پر سنجیدہ زرعی پالیسی تشکیل دی جاسکے۔ جب مختلف اداروں کے بنیادی اعدادوشمار ایک دوسرے سے مطابقت نہ رکھتے ہوں تو حکومتیں رقبے، پیداوار کے اہداف، درآمدات یا مراعات کو دانشمندی سے منظم نہیں کرسکتیں۔
پاکستان کی زرعی انتظامیہ کئی دہائیوں سے پالیسیاں، کمیٹیاں اور اہداف تشکیل دیتا آیا ہے، لیکن بار بار عملدرآمد، باہمی رابطے اور قابلِ اعتماد پیمائش جیسے کم نمایاں مگر بنیادی کاموں میں ناکام رہا ہے۔
اس کے بعد ٹیکس کا مسئلہ ہے۔ صنعت سے وابستہ نمائندوں کا اندازہ ہے کہ جننگ فیکٹریوں پر بھاری سیلز ٹیکس کے باعث اب تک تقریباً 100,000 گانٹھیں غیر دستاویزی ذرائع سے منتقل ہوچکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو رواں سیزن میں یہ تعداد 1.5 ملین سے 2 ملین گانٹھوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اگر ٹیکس کا نظام جائز معاشی سرگرمی کو غیر رسمی شعبے میں دھکیل رہا ہے اور بالآخر قومی خزانے کو آمدنی سے محروم کررہا ہے تو اس پالیسی پر فوری نظرثانی ہونی چاہیے۔
اس پالیسی کو جاری رکھنا دراصل دستاویزی شعبے پر اتنا ٹیکس عائد کرنے کے مترادف ہوگا کہ وہ غیر رسمی معیشت کا حصہ بن جائے، اور پھر یہ سوال اٹھایا جائے کہ ٹیکس کا دائرہ کہاں چلا گیا۔
تاہم اس سے بھی زیادہ نقصان دہ بگاڑ کھیتوں میں پیدا ہورہا ہے۔ رحیم یار خان، جو روایتی طور پر کپاس پیدا کرنے والا ایک اہم ضلع ہے، میں صرف 1,637 گانٹھوں کی آمد رپورٹ ہوئی ہے اور وہاں دو فیکٹریاں جزوی طور پر کام کررہی ہیں۔ صنعت سے وابستہ ماہرین کے مطابق اس کی وجوہات میں دیگر عوامل کے علاوہ کپاس پیدا کرنے والے اہم علاقوں میں شوگر ملز کا پھیلاؤ بھی شامل ہے، جہاں مالی مراعات نے کسانوں کو گنے کی کاشت کی جانب منتقل ہونے کی ترغیب دی ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں ناقص زرعی منصوبہ بندی پاکستان کی سیاسی معیشت سے ٹکراتی ہے۔ شوگر کو طویل عرصے سے غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل رہا ہے، کیونکہ اس صنعت سے وابستہ سیاسی وزن خاصا زیادہ ہے۔ تاہم ایک فصل کو ترجیح دینے کے زرعی ویلیو چین پر دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
گنا زمین اور دیگر وسائل کے لیے مقابلہ کرتا ہے، جبکہ کپاس کی پیداوار میں کمی کے اثرات صرف کھیت تک محدود نہیں رہتے۔ کپاس پاکستان کی اہم برآمدی صنعت ٹیکسٹائل سیکٹر کو خام مال فراہم کرتی ہے، اس لیے کپاس کے شعبے میں موجود ہر ساختی کمزوری بالآخر صنعتی پیداوار، برآمدات اور زرمبادلہ کے کھاتے تک پہنچتی ہے۔
رپورٹ میں صنعت سے وابستہ ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان پہلے ہی ہر سال خام کپاس اور خوردنی تیل کی درآمد پر 6 سے 7 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے۔
ایسے ملک کے لیے جو مسلسل زرمبادلہ کی کمی کا شکار رہتا ہے، اپنی مقامی زرعی صلاحیت کو کمزور ہونے دینا اور اس کے نتیجے میں ضائع ہونے والی پیداوار کی جگہ قیمتی ڈالر خرچ کرنا ایک مشکل امر ہے جس کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان کبھی کپاس میں حقیقی تقابلی برتری رکھتا تھا۔ اسے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کپاس کی آمد میں ایک حوصلہ افزا پندرہ روزہ اضافے کا جشن منانا کافی نہیں۔ اس کے لیے قابلِ اعتماد اعدادوشمار، معقول ٹیکس نظام، بہتر بیج اور فصلوں کی پالیسی، سیاسی طور پر مسخ شدہ مراعات سے کپاس کے زیرِ کاشت رقبے کا تحفظ اور سب سے بڑھ کر ایسی زرعی منصوبہ بندی درکار ہے جو طاقتور گروہوں کے مفادات سے بالاتر ہوکر طویل مدتی بنیادوں پر کی جائے۔
تازہ آمد کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ کپاس اب بھی توقعات سے بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے۔ بدقسمتی سے کپاس کے انتظام و انصرام کے حوالے سے پاکستان اب بھی غلط وجوہات کی بنا پر حیران کرتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments