آسٹریلیا نے بنگلہ دیش کو اننگز اور 51 رنز سے شکست دے کر سیریز 1-1 سے برابر کردی
- بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر اسٹارک نے میچ میں مجموعی طور پر 10 وکٹیں حاصل کیں
تجربہ کار فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے 4 وکٹیں جبکہ اسپنر ناتھن لائن نے 3 وکٹیں حاصل کرکے آسٹریلیا کو اتوار کو مکّے میں بنگلہ دیش کے خلاف ایک اننگز اور 51 رنز سے شاندار فتح دلادی، جس کے ساتھ میزبان ٹیم نے ڈارون میں ہونے والی شرمناک شکست کا بھرپور جواب دے دیا۔
بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر اسٹارک نے میچ میں مجموعی طور پر 10 وکٹیں حاصل کیں اور بنگلہ دیش کی ٹیم دوسرے روز چائے کے وقفے سے قبل ہی صرف 95 رنز پر آل آؤٹ ہوگئی۔ گریٹ بیریئر ریف اسٹیڈیم میں بنگلہ دیش کی بیٹنگ ایک بار پھر تباہ ہوگئی، اس سے قبل پہلی اننگز میں بھی پوری ٹیم صرف 46 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔
دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر ہوگئی ہے۔ آسٹریلیا نے ڈارون میں 9 وکٹوں سے شکست کے بعد زبردست واپسی کرتے ہوئے باؤنس والی پچ پر ثابت کردیا کہ اس کا تجربہ کار بولنگ اٹیک اب بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
آسٹریلیا کے آل راؤنڈر کیمرون گرین نے سب سے زیادہ 67 رنز بنائے۔ انہوں نے کہا کہ سیریز اچھی رہی ہے، تاہم گزشتہ ہفتے جو کچھ ہوا وہ افسوسناک تھا، لیکن ٹیم نے اس ہفتے جس انداز میں واپسی کی، وہ خاص بات ہے۔
آسٹریلیا کی اس فتح سے اکتوبر میں عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ کی دفاعی چیمپئن جنوبی افریقہ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچوں کے مشکل دورے سے قبل اس کی بیٹنگ سے متعلق خدشات شاید مکمل طور پر ختم نہ ہوں۔
آسٹریلیا کو 210 رنز پر آؤٹ کرنے کے بعد بنگلہ دیش کو میزبان ٹیم کو دوبارہ بیٹنگ پر مجبور کرنے کے لیے 146 رنز درکار تھے، تاہم بنگلہ دیش لنچ تک 39 رنز پر 3 وکٹیں گنوا چکا تھا اور دوسرے سیشن میں پوری ٹیم کا بیٹنگ آرڈر بکھر گیا۔
چائے کے وقفے تک بنگلہ دیش کا اسکور 8 وکٹوں کے نقصان پر 95 رنز تھا۔ وقفے کے فوراً بعد ناتھن لائن نے 3 گیندوں میں آخری 2 وکٹیں حاصل کرکے میچ کا اختتام کردیا۔
























Comments