اسٹاک ایکسچینج : 100 انڈیکس معمولی کمی کے ساتھ بند
- بینچ مارک انڈیکس 176,591.77 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے جمعرات کو بھی کمی کا سلسلہ جاری رکھا اور اتار چڑھاؤ سے بھرپور کاروباری سیشن کے اختتام پر 255 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی۔
کاروباری سیشن کے پہلے نصف میں انڈیکس میں خریداری کا رجحان رہا اور یہ دورانِ کاروبار 178,291.37 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔تاہم سیشن کے آخری حصے میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا، جس کے باعث انڈیکس دورانِ کاروبار 176,156.57 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 254.59 پوائنٹس یا 0.14 فیصد کمی کے بعد 176,591.77 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی پوسٹ مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ فروخت کا دباؤ بڑے اور اہم حصص تک محدود رہا، جبکہ آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن سیکٹر میں منتخب خریداری نے مارکیٹ کو کچھ سہارا دیا۔ دورانِ کاروبار انڈیکس میں اچانک تبدیلی حالیہ مارکیٹ کی گراوٹ کے بعد سرمایہ کاروں میں برقرار محتاط رویے کی عکاسی کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال میں دوبارہ اضافے اور عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتوں کے باعث مارکیٹ کا مجموعی رجحان کمزور رہا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں نے بڑے شعبوں میں اپنی سرمایہ کاری محدود کردی۔
منفی اثر ڈالنے والے حصص میں یو بی ایل، حبکو، بی اے ایچ ایل، ایچ بی ایل اور فاطمہ نمایاں رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس سے تقریباً 458 پوائنٹس کم کیے۔
دوسری جانب او جی ڈی سی، اینگرو ہولڈنگز اور سیزوے ان اہم حصص میں شامل رہے جنہوں نے انڈیکس کو سہارا دیا اور مجموعی طور پر تقریباً 321 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
ایک اہم پیشرفت میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کو تصدیق کی کہ پاکستان نے باضابطہ طور پر امریکا سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلٹی طلب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد روایتی قرض یا کریڈٹ لائن حاصل کرنے کے بجائے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے استحکام کو مضبوط بنانا اور بین الاقوامی سرمائے کی منڈیوں کو ایک مثبت پیغام دینا ہے۔
بدھ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کا کاروبار منفی رجحان پر ختم ہوا، پٹرولیم وزارت اور مقامی ریفائنریز کے درمیان ڈیزل کی قیمتوں میں ممکنہ کمی پر مذاکرات کی اطلاعات کے باعث توانائی شعبے کے حصص میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا جس سے عالمی توانائی منڈیوں میں جاری اتار چڑھاؤ کے باعث مجموعی مارکیٹ بھی دباؤ کا شکار رہی۔
گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,109.15 پوائنٹس یا 0.62 فیصد کمی سے 176,846.36 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر جمعرات کو بانڈ مارکیٹ میں استحکام دیکھا گیا جب امریکی محکمہ خزانہ نے بانڈ مارکیٹ میں شدید مندی کا سلسلہ روکنے کے لیے مداخلت کی جس سے سرمایہ کاروں کے خدشات کم ہوئے، ڈالر کی قدر میں کمی آئی جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی۔
امریکی محکمہ خزانہ نے رات گئے اعلان کیا کہ وہ طویل مدتی قرض کے بانڈز کی بائی بیک کا حجم دگنا کرے گا تاکہ بانڈز کی ییلڈز میں مسلسل اضافے کو روکا جاسکے۔ رواں ہفتے کے آغاز میں 30 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی ییلڈ 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔
مارکیٹ میں مثبت جذبات بحال ہونے سے جمعرات کو اسٹاک مارکیٹس میں تیزی رہی، ایشیا پیسیفک کے جاپان سے باہر حصص کا وسیع تر ایم ایس سی آئی انڈیکس اور جاپان کا نکی انڈیکس دونوں میں 1.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
نیسڈیک فیوچرز میں 0.5 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.16 فیصد معمولی اضافے کے ساتھ آگے بڑھے۔ یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں 0.14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ییلڈز میں کمی کے باعث ڈالر کی قدر متاثر ہوئی اور کرنسیوں کی ٹوکری کے مقابلے میں ڈالر 98.86 کی سطح پر ڈھائی ماہ کی کم ترین سطح کے قریب رہا۔
یورو 29 مئی کے بعد بلند ترین سطح کے قریب رہا اور 1.1674 ڈالر پر فروخت ہوا جبکہ پاؤنڈ 1.3600 ڈالر پر مستحکم رہا۔ گزشتہ سیشن میں پاؤنڈ کی قدر میں 0.55 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
دریں اثنا پاکستانی روپے نے جمعرات کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کا سلسلہ جاری رکھا اور اس کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ہوا۔ مقامی کرنسی 3 پیسے کے اضافے کے بعد 277.57 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 78 کروڑ 78 لاکھ 90 ہزار حصص کے مقابلے میں کم ہوکر 66 کروڑ 51 لاکھ 90 ہزار حصص رہ گیا۔
حصص کی مجموعی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 39.57 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہوکر 30.79 ارب روپے رہی۔
سینرجیکو پی کے 22 کروڑ 14 لاکھ 30 ہزار حصص کے کاروباری حجم کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار کیے جانے والے حصص میں سرفہرست رہا، جبکہ ایف نیٹ ایکویٹیز کے 2 کروڑ 51 لاکھ 10 ہزار اور گلوب ریزیڈنسی کے 1 کروڑ 88 لاکھ 20 ہزار حصص کا کاروبار ہوا۔
جمعرات کو مجموعی طور پر 492 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 144 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 321 میں کمی جبکہ 36 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

























Comments