بلوچستان کیلئے آگے بڑھنے کا راستہ
- کئی دہائیوں پر محیط سیاسی بیگانگی، معاشی عدم مساوات، ناکافی نمائندگی اور آئینی حقوق سے متعلق خدشات کو محض نظر انداز نہیں کیا جاسکتا
نیشنل پارٹی کے صدر اور بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ ان کے صوبے میں جاری تنازع سیاسی نوعیت کا ہے اور اسے صرف سیاسی ذرائع سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ ان کے اس مؤقف پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ یہ بات بلوچستان کی صورتحال کے ایک اہم پہلو کو اجاگر کرتی ہے: ایسا تنازع جس کی جڑیں سیاسی، معاشی اور انتظامی شکایات میں پیوست ہوں، اسے صرف طاقت کے ذریعے حل نہیں کیا جاسکتا۔
اس کے ساتھ ساتھ سیاسی مکالمے کو کمزوری یا شہریوں کے تحفظ کی ریاستی ذمہ داری سے دستبرداری نہیں سمجھنا چاہیے۔ لہٰذا ضرورت ایک ایسی متوازن پالیسی کی ہے جو جمہوری ذرائع سے بلوچ عوام کی جائز شکایات کا ازالہ کرے، جبکہ ان عناصر کے خلاف مضبوطی سے کارروائی بھی کرے جو اپنے مجرمانہ مقاصد کے حصول کے لیے تشدد کا استعمال کرتے ہیں۔
مکالمہ حل کا ایک اہم حصہ رہنا چاہیے۔ کئی دہائیوں پر محیط سیاسی بیگانگی، معاشی عدم مساوات، ناکافی نمائندگی اور آئینی حقوق سے متعلق خدشات کو محض نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر آبادی کے کچھ حصے خود کو سیاسی فیصلہ سازی سے خارج یا معاشی مواقع میں منصفانہ حصے سے محروم محسوس کرتے ہیں تو ان کی شکایات کو آئینی دائرہ کار کے اندر سنا اور دور کیا جانا چاہیے۔
لہٰذا نیشنل پارٹی کی جانب سے پیش کردہ 17 نکاتی ایجنڈے، نیز دیگر سیاسی فریقوں کی اسی نوعیت کی تجاویز پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ سیاسی روابط اور مکالمہ اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں کہ جمہوری ادارے اور پرامن سیاسی کارکن تشدد کا ایک حقیقی متبادل فراہم کرتے ہیں۔
بلوچ سیاسی جماعتوں کی پارلیمانی سیاست میں مسلسل شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ اب بھی بااثر آوازیں ایسی موجود ہیں جو آئینی اور جمہوری ذرائع سے تبدیلی کی خواہاں ہیں۔
ریاست کو بامعنی سیاسی مکالمے کے لیے گنجائش پیدا کرکے، منصفانہ نمائندگی یقینی بناکر اور جائز سماجی و معاشی مسائل حل کرکے ان آوازوں کو مضبوط کرنا چاہیے۔ اس کے لیے مسلسل روابط، سنجیدہ مشاورت اور قابل اعتماد اداروں کے ذریعے دیرینہ شکایات دور کرنے کے عزم کی ضرورت ہے۔ ایسی کوشش کے بغیر بلوچ عوام کی بیگانگی مزید گہری ہوگی اور پرامن سیاست کے لیے گنجائش مزید محدود ہوتی جائے گی۔
تاہم دہشت گردی کے معاملے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ مسلح گروہ جو جان بوجھ کر شہریوں پر حملے کرتے ہیں، سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں، سرکاری بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرتے ہیں یا آبادیوں میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں، ان سے سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔
جہاں عسکریت پسند تشدد کا سہارا لیتے ہیں، وہاں مزید جانی نقصان کو روکنے کے لیے مؤثر اور متناسب طاقت کا استعمال ضروری ہے۔ شہریوں کو جان بوجھ کر قتل کرنے یا سیاسی مطالبات منوانے کے لیے تشدد استعمال کرنے کا کوئی سیاسی جواز نہیں ہوسکتا۔
لہٰذا اصل چیلنج یہ ہے کہ سیاسی اختلاف اور دہشت گردی کے درمیان واضح فرق کیا جائے۔ صوبائی خودمختاری میں اضافے، معاشی انصاف یا سیاسی نمائندگی کا مطالبہ کرنے والے شہری کو اس شخص کے برابر قرار نہیں دیا جاسکتا جو جان بوجھ کر بے گناہ لوگوں کی جان لیتا ہے۔
سیاسی بے اطمینانی کے ہر اظہار کو سیکیورٹی خطرہ قرار دینا بیگانگی میں اضافہ کرسکتا ہے؛ اسی طرح تشدد کو حقیقی سیاسی اختلاف کے طور پر پیش کرنے کی اجازت دینا شہریوں کو خطرے میں ڈال سکتا اور ریاست کو کمزور کرسکتا ہے۔ پاکستان کو بیک وقت دونوں طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے: ان لوگوں کے ساتھ مکالمہ جو اپنے مقاصد پرامن طریقے سے حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور ان عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی جو دہشت گردی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
سیاسی مفاہمت کے ساتھ مضبوط شہری ادارے، شفاف طرز حکمرانی، معاشی ترقی اور آئینی حقوق بھی لازم و ملزوم ہیں۔
بلوچستان کے عوام بھی امن، وقار اور مساوی شہریت کے حق دار ہیں، بالکل اسی طرح جیسے ہر پاکستانی کو تشدد کے خوف کے بغیر زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
پائیدار حل کے لیے سیاسی جرات، صبر اور مسلسل مکالمے کی ضرورت ہوگی۔ ریاست کو یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ پرامن سیاست شکایات کے حل کے لیے ایک بامعنی راستہ فراہم کرسکتی ہے، جبکہ جان بوجھ کر بے گناہ افراد کو نشانہ بنانے والوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ نہ صرف طاقت اور نہ ہی صرف مکالمہ، دونوں میں سے کوئی ایک طریقہ تنہا اس بحران کو حل نہیں کرسکتا۔
آگے بڑھنے کا زیادہ قابل اعتماد راستہ سیاسی مفاہمت میں مضمر ہے، جسے دہشت گردی کے خلاف مضبوط اور قانون کے مطابق کارروائی کا سہارا حاصل ہو۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments