حماس سے غیر معمولی ملاقات کے بعد جیرڈ کشنر کی نیتن یاہو سے بات چیت متوقع
- یہ کشنر کی حماس کے نمائندوں کے ساتھ دوسری معلوم ملاقات ہے۔ امریکا نے فلسطینی گروپ حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کی پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اور داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات متوقع ہے۔ یہ ملاقات ایک روز بعد ہورہی ہے جب جیرڈ کشنر نے غزہ کے لیے امریکی صدر کے امن منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کے سلسلے میں قاہرہ میں حماس کے حکام سے ایک غیر معمولی ملاقات کی تھی۔
ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ حماس کے رہنما خلیل الحیہ بھی اتوار کو قاہرہ میں کشنر اور غزہ کے لیے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے ایلچی نکولے ملاڈینوف کے ساتھ ثالثوں کی ہونے والی بعض ملاقاتوں میں موجود تھے۔
یہ کشنر کی حماس کے نمائندوں کے ساتھ دوسری معلوم ملاقات ہے۔ امریکا نے فلسطینی گروپ حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔
کشنر نے اس سے قبل اکتوبر 2025 میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ہمراہ حماس کے حکام سے ملاقات کی تھی، جس کے نتیجے میں ایک معاہدہ طے پانے میں مدد ملی تھی۔ اس معاہدے کے تحت غزہ میں جنگ بندی ہوئی اور 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے دوران حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے باقی یرغمالیوں کی رہائی عمل میں آئی تھی۔
ٹرمپ نے جولائی کے آخر میں کہا تھا کہ غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کے لیے ایک معاہدہ طے پاگیا ہے۔
تاہم اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں دوبارہ انتخاب لڑنے والے نیتن یاہو نے ٹرمپ کے منصوبے کو سرعام مسترد کردیا ہے۔
ٹرمپ نے کہا تھا کہ معاہدے پر مرحلہ وار عمل درآمد کیا جائے گا، جس کے تحت غیر مسلح کرنے کے عمل کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج غزہ سے انخلا کرے گی، جبکہ ایک بین الاقوامی استحکام فورس نئی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر علاقے میں سکیورٹی یقینی بنائے گی۔
حماس کا کہنا ہے کہ اس نے منصوبے سے اتفاق کیا ہے، تاہم معاہدے پر عمل درآمد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسرائیل پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، جن میں فوجی انخلا اور حملوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
























Comments