گورنراسٹیٹ بینک کا استحکام، اصلاحات اور برآمدی نمو پر توجہ مرکوز کرنے کا عزم
- پاکستان کے 79 ویں یومِ آزادی کے موقع پر اسٹیٹ بینک کراچی میں پرچم کشائی کی تقریب کا انعقاد
گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی توجہ قیمتوں کے استحکام، پالیسی اصلاحات، اور بلند پیداواریت، برآمدات کی نمو اور روزگار پیدا کرنے کے لیے سازگار اقتصادی ماحول بنانے پر مرکوز رہے گی.
یہ بات انہوں نے پاکستان کے 79 ویں یومِ آزادی کے موقع پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کراچی میں پرچم کشائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
گورنر جمیل احمد نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی معیشت نے استحکام کی جانب اہم پیش رفت کی ہے جسے محتاط مالی و زری پالیسیوں اور بہتر معاشی نظم و ضبط سے تقویت ملی۔
قیمتوں کے استحکام کی پیش رفتوں کو اجاگر کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ مالی سال 2026 میں اوسط مہنگائی 7.1 فیصد رہی
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے تجزیے کے مطابق موجودہ زری پالیسی مہنگائی کو 5 تا 7 فیصد کے وسط مدتی ہدف تک رکھنے کے لیے موزوں ہے اور اس نے معاشی سرگرمی، سرمایہ کاری اور روزگار کی تخلیق کے لیے مناسب گنجائش فراہم کی ہے۔
گورنر نے کہا کہ فراستی مالی اور زری پالیسیوں سے بھی معاشی ترقی کو اعانت ملی ہے جو مالی سال 26ء میں 3.7 فیصد رہی
انہوں نے کہا کہ مالی سال 27ء میں معاشی نمو کے 3.5 تا 4.5 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، انہوں نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا علامت ہے کہ معیشت استحکام کی مدت کے بعد اب پائیدار معاشی نمو کی سمت پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے۔
بیرونی شعبے میں پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے ریکارڈ ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملک کی معاشی ترقی پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے، جو مالی سال 2026 میں 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں اور توقع ہے کہ مالی سال 2027 میں یہ 44 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ترسیلاتِ زر میں اضافے اور جاری کھاتے کے خسارے میں کمی کے باعث ملکی زرمبادلہ ذخائر میں بہتری آرہی ہے جو مالی سال 2026 کے اختتام تک 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مالی سال 2027 کے دوران امید ہے کہ زرمبادلہ ذخائر 21 ارب ڈالر سے تجاوز کرجائیں گے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پاکستان کے مالی نظام کو مضبوط اور جدید بنانے کے لیے گزشتہ ایک سال کے دوران اسٹیٹ بینک کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرزم پلس (PRISM+) کا کامیاب آغاز ملک کے ادائیگیوں کے انفرااسٹرکچر کو بین الاقوامی معیارات کے قریب تر لے آیا ہے جس کے باعث بڑی مالیت کی ادائیگیوں اور چکتائیوں کا عمل تیز، محفوظ اور زیادہ مؤثر ہوگیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے اسٹیٹ بینک کے اقدامات کے نتیجے میں ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران ریٹیل ڈجیٹل لین دین کی تعداد تقریباً 10 ارب سے بڑھ کر 12 ارب ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں یہ اضافہ نہ صرف ٹیکنالوجی کے زیادہ وسیع پیمانے پر استعمال کی عکاسی کرتا ہے بلکہ زیادہ دستاویزی، شفاف اور مستعد معیشت کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔
گورنر جمیل احمد نے زور دیا کہ معاشی خود انحصاری، مضبوط ادارے، قانون کی بالادستی اور قومی یکجہتی آزادی کی حقیقی روح کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ گزشتہ ایک سال کے دوران اسٹیٹ بینک نے نمایاں پیش رفت کی ہے تاہم چیلنجز بدستور موجود ہیں جن سے نمٹنے کے لیے مسلسل محنت، عزم اور ثابت قدمی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ترجیحات معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنے اور ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
تقریب کے اختتام پر پائیدار معاشی ترقی، مالیاتی استحکام اور عوام کی فلاح و بہبود کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔



















Comments