نجی خوشحالی، عوامی بدحالی II
- کراچی سمیت مختلف شہروں میں بہت سے نوجوانوں کے لیے مستقبل اب پاکستان میں آگے بڑھنے کے بجائے ملک چھوڑنے سے جڑ گیا ہے۔ گزشتہ نسلوں کے لیے تعلیم سماجی و معاشی ترقی کا ذریعہ تھی
کمزور عوامی خدمات پاکستان کے سماجی معاہدے کو کس طرح بدل رہی ہیں
اس صورتحال میں ایک مماثلت پائی جاتی ہے۔ ریاست اس لیے قرض لیتی ہے کہ اس کی آمدن اس کے مالی وعدوں اور اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی، جبکہ خاندان اس لیے قرض لیتے ہیں کہ ان کی آمدن بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہوتی ہے۔
ریاست عوامی قرضے کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے، جبکہ شہری نجی قرضوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ دونوں صورتیں ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ جب قرضوں کی ادائیگی آمدن کا ایک بڑا حصہ کھا جائے تو اسکولوں اور اسپتالوں کے لیے کم وسائل بچتے ہیں۔ جب یہ عوامی خدمات کمزور ہوتی ہیں تو خاندان بہتر سہولیات کے حصول کے لیے نجی شعبے کا رخ کرنے اور قرض لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
ہمارے درمیان دیواریں
جیسے جیسے عوامی خدمات کمزور ہوتی ہیں، سماجی فاصلے بڑھتے جاتے ہیں۔ اسٹریِک کو پڑھتے ہوئے مجھے ٹم مارشل کی کتاب Divided: Why We’re Living in an“ Age of Walls یاد آئی۔ ہر دیوار کسی سرحد پر نہیں ہوتی۔ کچھ دیواریں معاشروں اور برادریوں کے گرد قائم ہوتی ہیں، جبکہ کچھ آمدنی، تعلیم، زبان اور طرزِ زندگی کی شکل میں موجود ہوتی ہیں۔
گیٹڈ کمیونٹیز کا قیام قابلِ فہم ہے۔ لوگ تحفظ اور قابلِ اعتماد سہولیات کے حصول کے لیے ایسے علاقوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن دیواریں صرف تحفظ فراہم نہیں کرتیں بلکہ لوگوں کو ایک دوسرے سے جدا بھی کرتی ہیں۔
مختلف برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ الگ الگ اسکولوں، اسپتالوں اور بازاروں سے استفادہ کرتے ہیں۔ ان کے بچے معاشی طبقات کی تفریق کے باعث ایک دوسرے سے بہت کم میل جول رکھتے ہوئے بڑے ہوتے ہیں۔
ماضی میں مختلف معاشی طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ سرکاری اسکولوں، سرکاری جامعات، مشترکہ کھیل کے میدانوں، بسوں اور پارکوں میں ایک دوسرے سے ملتے تھے۔ زندگی میں مساوات نہیں تھی، لیکن لوگوں کے راستے ایک دوسرے سے ضرور ملتے تھے۔ یہ مشترکہ مقامات بہت اہم تھے۔ انہوں نے لوگوں کو یہ احساس دلانے میں مدد دی کہ وہ سب ایک ہی شہر کا حصہ ہیں۔
جب مختلف طبقات کے لوگ الگ الگ تعلیم حاصل کریں، الگ علاقوں میں رہیں اور صحت کی سہولیات بھی الگ الگ نظاموں سے حاصل کریں تو باہمی میل جول کے یہ مواقع ختم ہوجاتے ہیں۔ شہر جغرافیائی طور پر تو جڑا رہتا ہے، لیکن سماجی طور پر مختلف جزیروں میں تقسیم ہوجاتا ہے۔مشترکہ عوامی خدمات کا خاتمہ دراصل مشترکہ شہری احساس کے خاتمے کا باعث بنتا ہے۔
ٹیکس ریاست سے قرض ریاست تک
یہ سماجی تبدیلی پاکستان کی مالیاتی صورتحال سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ اسٹریِک کے مطابق ریاستی نظام ٹیکس ریاست سے قرض ریاست اور پھر مالیاتی استحکام کی ریاست کی جانب منتقل ہوتا ہے۔ ٹیکس ریاست بنیادی طور پر محصولات کے ذریعے اپنے اخراجات پورے کرتی ہے۔ قرض ریاست مالی خلا کو قرض لے کر پورا کرتی ہے، جبکہ مالیاتی استحکام کی ریاست اپنی پالیسیوں کو بجٹ خسارے، سرپلس اور قرض دہندگان کے اعتماد کے گرد ترتیب دیتی ہے۔
پاکستان میں ایک وسیع اور قابلِ اعتماد ٹیکس ریاست قائم کیے بغیر ہی قرض اور مالیاتی استحکام کی ریاست کی خصوصیات نمایاں ہوچکی ہیں۔ محصولات کی مقدار خاصی ہے، لیکن ٹیکس کا بوجھ یکساں نہیں۔ ریاست بالواسطہ ٹیکسوں، ودہولڈنگ ٹیکس اور پہلے سے دستاویزی شعبوں پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔
جب محصولات ضرورت سے کم رہتے ہیں تو حکومت قرض لیتی ہے۔ قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ بڑھنے کے ساتھ مزید آمدن کی ضرورت پڑتی ہے۔ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کے لیے وقت، مؤثر ڈیٹا اور سیاسی اتفاقِ رائے درکار ہوتا ہے، چنانچہ ریاست بار بار انہی افراد اور شعبوں کی طرف رجوع کرتی ہے جو پہلے ہی ٹیکس نظام میں شامل ہیں۔نتیجتاً دستاویزی ٹیکس دہندگان زیادہ بوجھ برداشت کرتے ہیں، جبکہ انہیں عوامی شعبے میں بہتری کے فوائد بہت کم نظر آتے ہیں۔
ایک بھاری قرضوں تلے دبی ریاست کو دو فریقوں کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ شہری ریاست سے عوامی خدمات اور روزگار کے مواقع کی توقع رکھتے ہیں، جبکہ قرض دہندگان مالیاتی نظم و ضبط اور قرضوں کی بروقت ادائیگی چاہتے ہیں۔
دونوں کے مطالبات اپنی جگہ جائز ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوں۔ صرف قرض دینے والوں کو موردِ الزام ٹھہرانا بھی درست نہیں ہوگا۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے محدود ٹیکس نیٹ یا کمزور سرکاری ادارے پیدا نہیں کیے۔ یہ ایسے داخلی مسائل ہیں جو کئی برسوں میں پیدا ہوئے ہیں۔
جب ملکی وسائل ریاست کی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ناکافی ہوجاتے ہیں تو پاکستان قرض دہندگان سے رجوع کرتا ہے۔ ایسا ہونے کے بعد قرض دینے والے اداروں کا اثر و رسوخ بڑھ جاتا ہے اور وہ مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کی حد اور حجم طے کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
جب اگلی نسل ملک چھوڑنے کا راستہ اختیار کرے
مشترکہ بنیاد کے کمزور ہونے کا ایک اور اثر بھی سامنے آ رہا ہے۔ کراچی سمیت مختلف شہروں میں ملنے والے بہت سے نوجوانوں کے لیے مستقبل کا مقصد اب صرف پاکستان میں آگے بڑھنا نہیں رہا بلکہ ملک چھوڑنا بھی بن چکا ہے۔
گزشتہ زمانے کے لوگوں کے لیے تعلیم پاکستان کے اندر سماجی و معاشی حیثیت بہتر بنانے کا ذریعہ تھی، جبکہ آج بہت سے نوجوانوں کے لیے تعلیم بیرونِ ملک جانے کا راستہ بن گئی ہے۔
ہجرت بذاتِ خود کوئی مسئلہ نہیں۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ترسیلاتِ زر اور علم و تجربے کے ذریعے ملک میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ملک چھوڑنے کو تحفظ اور بہتر مستقبل کے حصول کا واحد قابلِ عمل راستہ سمجھا جانے لگے۔
خوشحال طبقہ نجی نظاموں کی طرف منتقل ہوجاتا ہے، متوسط طبقہ ان سہولیات تک رسائی کے لیے قرض لیتا ہے، غریب کمزور عوامی خدمات پر انحصار کرنے پر مجبور رہتا ہے، جبکہ نوجوان بہتر مواقع کی تلاش میں بیرونِ ملک کا رخ کرتے ہیں۔
عوامی شعبے کی ازسرنو تعمیر
پاکستان مالیاتی نظم و ضبط سے گریز نہیں کرسکتا۔ ریاست فوری طور پر ہر سروس مطلوبہ معیار کے مطابق فراہم نہیں کرسکتی۔ تاہم مالیاتی استحکام کا مقصد صرف ماضی کی مالی ذمہ داریوں کو نبھاتے رہنا نہیں بلکہ ریاستی صلاحیت کو دوبارہ مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔
ٹیکس پالیسی کو عوامی فائدے سے جوڑنا ضروری ہے۔ شہریوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان سے وصول کیا جانے والا پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے۔ عوامی خدمات کی ذمہ داری واضح ہونی چاہیے۔ مقامی اداروں کو وسائل کے ساتھ جواب دہی کا پابند بھی بنایا جائے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ سرکاری تعلیم کو دوبارہ سماجی ترقی اور آگے بڑھنے کا ایک قابلِ اعتماد ذریعہ بنانا ہوگا۔
مقصد نجی شعبے کے انتخاب کو ختم کرنا نہیں۔ خاندانوں کو اپنی پسند کے مطابق سہولیات منتخب کرنے کی آزادی ہونی چاہیے اور نجی شعبہ بھی اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔ تاہم نجی شعبے کی خدمات پر انحصار کا یہ مطلب نہیں ہونا چاہیے کہ ریاست بنیادی عوامی سہولیات کی فراہمی سے پیچھے ہٹ جائے، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو نجی متبادل کی استطاعت نہیں رکھتے۔
مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کسی بچے کا مستقبل تقریباً مکمل طور پر اس کے خاندان کی آمدن سے طے نہ ہو۔پارکس، کتب خانے، جامعات، پبلک ٹرانسپورٹ اور ثقافتی مراکز محض خدمات نہیں بلکہ ایسے ادارے ہیں جو معاشرے کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتے ہیں۔
اختتامیہ : مشترکہ بنیاد کی بحالی
اسٹریِک کی کتاب مکمل کرنے کے بعد اس حوالے سے میری سمجھ مزید واضح ہوسکتی ہے لیکن اب تک اس نے مجھے ان معاملات کو باہم جوڑنے میں مدد دی ہے جنہیں میں پہلے الگ الگ سمجھتا تھا: ٹیکس اقدامات، عوامی قرضے، نجی تعلیم، گھریلو قرضے، گیٹڈ کمیونٹیز اور نوجوانوں کی ہجرت۔ ان سب میں ایک قدرِ مشترک ہے اور وہ ہے مشترکہ اداروں اور مشترکہ تجربات کا بتدریج خاتمہ۔
میری نسل کے لیے تعلیم پیدائشی حالات سے آگے بڑھنے کی ایک سیڑھی تھی۔ آج مختلف طبقات کے لیے الگ الگ سیڑھیاں موجود ہیں۔ جسمانی اور سماجی دیواریں ان مواقع کو محدود کر رہی ہیں جہاں مختلف طبقات ایک دوسرے سے مل سکیں۔ ریاست ٹیکسوں اور قرضوں کی صورت میں تو نمایاں ہے لیکن ان عوامی خدمات میں اس کی موجودگی کم ہوتی جارہی ہے جن سے شہری کبھی اجتماعی طور پر مستفید ہوا کرتے تھے۔
لہٰذا پاکستان کا چیلنج صرف زیادہ محصولات جمع کرنا یا قرضوں کا انتظام کرنا نہیں۔ اصل ضرورت عوامی شعبے کو دوبارہ مضبوط کرنے، ٹیکس ریاست پر اعتماد بحال کرنے اور اس امر کو یقینی بنانے کی ہے کہ نجی خوشحالی کے ساتھ عوامی غربت میں مسلسل اضافہ نہ ہو۔
اس مقصد کے لیے ایسی مشترکہ بنیاد دوبارہ قائم کرنا ہوگی جہاں شہری خود کو ایک ہی معاشرے کا حصہ محسوس کریں اور آنے والی نسل کے لیے اتنی امید پیدا کی جاسکے کہ وہ اپنے مستقبل کو اسی ملک میں دیکھ سکے۔
(اختتام)
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026























Comments